سندھ سرکار کا منفرد کارنامہ، گھوسٹ پروفیسر کو کالج پرنسپل بنادیا

سندھ سرکار نے ایک بھی دن کالج میں نہ پڑھانے والے سیاسی بنیادوں پر بھرتی کالج پروفیسر کو کالج پرنسپل بناتے ہوئے 20 گریڈ پر ترقی دے دی-

سپریم کورٹ نے محض ایک دن کام کرکے چودہ لاکھ روپے وصول کرنے والے گریڈ 19 کے سرکاری افسر کی، پینشن کے لیے سپریم کورٹ میں دائر پیٹشن کو مسترد کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیئے ہیں۔

مذکورہ پٹینشر نے تو ایک دن کام کرکے چودہ لاکھ تنخواہ وصول کی، مگر سندھ سرکار میں تو ایک ایسا افسر بھی ہے جس نے اپنی ڈیوٹی ایک دن بھی سرانجام نہیں دی مگر گزشتہ 32 سالوں سے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے تنخواہ کی مد میں وصول کرنے کے ساتھ 20ویں گریڈ میں ترقی بھی حاصل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق ، کالج اساتذہ کی ترقیوں کے حوالے سے ، محکمہء تعلیم کالجز کی غیرمنصفانہ اور ناقص پالیسی کی وجہ سے، گزشتہ 32 سالوں میں ایک بھی طالبِ علم کو نہ پڑھانے والا کالج ٹیچر گریڈ 20 میں ترقی کا حقدار قرار دے دیا گیا۔

محکمہء تعلیم کالجز سندھ کا یہ ‘عظیم کارنامہ’ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعلٰی سندھ کی سربراہی میں سرکاری افسران کو گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی دینے والے صوبائی سلیکشن بورڈ ون کے اجلاس میں گزشتہ دنوں محکمہء تعلیم کالجز کے 54 مرد اور 27 خواتین کو گریڈ 20 میں ترقیاں دے کر باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی سلیکشن بورڈ ون کے مذکورہ اجلاس میں محکمہءتعلیم کالجز کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز گریڈ 19 سے، پروفیسر گریڈ 20 میں ترقیاں پانے والے 81 مرد و خواتین میں ایک ایسا کالج ٹیچر بھی شامل ہے جو گزشتہ 32 برسوں میں نہ کسی کلاس میں گیا اور نہ ہی کسی طالب علم کو پڑھایا ، مگر گریڈ 20 میں ترقی کا حقدار قرار پایا ۔

سنہ 1988ء میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کے قیام کے بعد محکمہءتعلیم میں بڑی تعداد میں سیاسی بنیادوں پر من پسند افراد کی ‘ایڈہاک لیکچرارز’ گریڈ 17 میں تقرریاں کی گئیں ، جنہیں ایک سال کے بعد ہی مستقل کردیا گیا تھا ۔

ان ‘ایڈہاک لیکچرارز’ میں سے مشتاق مہر نامی شخص کو لیکچرار مقرر کرنے کے بعد اس کا تقرر گورنمنٹ سٹی کالج میں کردیا گیا ، جہاں وہ مضمون پڑھایا ہی نہیں جاتا تھا جس مضمون کا انہیں لیکچرار مقرر کیا گیا ۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 32 سالوں میں ایک بھی طالب علم سٹی کالج میں پروفیسر مشتاق مہر کا مضمون پڑھنے نہیں آیا مگر پروفیسر مشتاق مہر باقاعدگی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے چند سال قبل مذکورہ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے-

کالج کی باقاعدہ پرنسپل شپ سنبھالنے سے قبل ہی انہوں نے نہ صرف سٹی کالج شام، بلکہ سٹی کالج صبح کو بھی مختلف اداروں کے امتحانی مراکز بنانے کی روایت ڈالی اور محکمے کو اطلاع دئیے بغیر ، ٹیکنیکل بورڈ سمیت مختلف اداروں کے امتحانات خلافِ ضابطہ منعقد کرواتے رہے ، جس کے ذریعے انہوں نے مبینہ طور پر خطیر رقم کمائی-

علاوہ ازیں پرنسپل مقرر ہونے کے بعد کالج کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں، ایک لمحے بھی اپنے فرائضِ منصبی سرانجام دئیے بغیر پروفیسر مشتاق مہر کو حکومتِ سندھ نے گریڈ 20 سے نواز دیا ۔

گزشتہ دنوں کالج اساتذہ کی ترقیوں کا ایک مایوس کن پہلو یہ بھی ہے کہ ترقی پانے والے 54 مرد کالج اساتذہ میں سے 27 کالج اساتذہ وہ ہیں جن کا تقرر آئین سے ماوریٰ ، پبلک سروس کمیشن کا امتحان دئیے بغیر ، سیاسی بنیادوں پر ‘ایڈہاک لیکچرارز’ کے طور پر ہوا تھا۔

ایسی ترقیوں سے، میرٹ پر پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے آنے والے اہل اور مخلص کالج اساتذہ میں مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

کمیشن پاس کرکے میرٹ پر لیکچرار کی ملازمت حاصل کرنے والے بعض اساتذہ تو طویل عرصے خدمات سرانجام دینے کے باوجود محض ایک ہی ترقی کے حقدار قرار پاتے ہیں جبکہ میرٹ سے ہٹ کر سیاسی بنیادوں پر ملازمتیں حاصل کرنے والوں کا گریڈ 20 تک ترقیاں پانا نہ صرف انصاف کا خون ہے بلکہ اہلیت، قابلیت اور میرٹ پر ملازمتیں حاصل کرنے والوں میں مایوسی بھی پیدا کرتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *