اجتماعی و وقف قربانی میں علماء و مدارس بازی لے گئے

پاکستان میں عوام کی جانب سے قربانی کیلئے دیگر اداروں کے بجائے مدارس اور علمائے کرام پر انحصار کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں عوام کی جانب سے قربانی کیلئے دیگر اداروں کے بجائے مدارس اور علمائے کرام پر انحصار کیا جارہا ہے ۔

اسلام آباد میں عبدالقدوس محمدی کی سرپرستی میں قائم امداد ٹرسٹ پاکستان کی جانب سے مختلف مقامات پر اجتماعی قربانی اور وقف قربانی کا اہتمام کیا گیا – اجتماعی قربانی اہل علاقہ کی سہولت , خدمت اور اجتماعیت کی ایک کوشش ہوتی ہے جبکہ وقف قربانی دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں اور دینی مدارس کے لیے کی جاتی ہے-

وقف قربانی پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے لیے کی گئی اور اجتماعی قربانی کے تحت صرف ایک مرکز میں 40 بیل ذبح کیئے گئے ہیں ۔

فوٹو: الرٹ

 

دوسری جانب جامعہ الصفہ کے زیر اہتمام تین سو زائد جانور اجتماعی قربانی میں ذبح کئے جا رہے ہیں ۔ جامعہ الصفہ سعید آباد کے شعبہ اجتماعی قربانی کے ذمہ دار مولانا فدا اللہ اور قاری عبدالمجید کا کہنا تھا کہ جامعہ الصفہ میں ہر سال کم ریٹ میں حصہ دستیاب ہونے کی قدیم فلاحی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے فی حصہ نو ہزار روپے رکھا گیا ہے ۔ جامعہ الصفہ کی اجتماعی قربانی کی کمیٹی نے اس کم ریٹ میں جانوروں کی خریداری کیلئے پاکستان بھر کی منڈیوں کا وزٹ کیا اور بالآخر ملتان منڈی سے سینکڑوں جانور خریدنے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستان کی بہت بڑی اجتماعی قربانی اُمّہ ویلفئیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام نوشہرہ اور جنوبی پنجاب میں کی جارہی ہے اُمّہ ویلفئیر ٹرسٹ کے سربراہ و چئیرمین مولانا محمد ادریس نے بتایا کہ اُمّہ ٹرسٹ کی طرف سے اس سال تقریباً چار ہزار جانور ذبح کئے جارہے ہیں اور یہ سب وقف جانور ہیں یعنی انکا گوشت خیبر پختونخواہ اور جنوبی پنجاب کے غربا و مستحقین میں تقسیم کیا جا رہا ہے ۔

فوٹو: الرٹ

امہ ٹرسٹ کی طرف سے جنوبی پنجاب میں فضل واحد کے علاوہ ڈیرہ غازی خان میں علاقہ کی اہم سماجی شخصیت حافظ محمد طاھر خان قیصرانی اُمّہ ویلفئیر ٹرسٹ کی جانب سے تقریباً چار ہزار مستحق افراد تک گوشت کی تقسیم کا مثالی نظام قائم کئے ہوئے ہیں حافظ طاھر خان قیصرانی نے بتایا کہ انکی طرف سے جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کی موٹر سائیکلوں پر مشتمل ٹیمیں مختلف پہاڑی اور میدانی دیہاتی علاقوں میں گھر گھر گوشت تقسیم کررہے ہیں ۔ گوشت کی تقسیم کے علاوہ حافظ محمد طاھر خان قیصرانی نے الصفہ ٹرسٹ کی طرف سے درجنوں زندہ جانور بھی عید پر قربان کرنے کیلئے دور دراز کی مختلف بستیوں میں تقسیم کئے جامعہ الصفہ کی طرف سے ان دیہاتوں میں پہنچائے جانے والے زندہ جانور کی دیہاتوں میں تقسیم مکمل کرلی گئ ہے ۔

ادھر کراچی کے بڑے دینی ادارے بیت السلام کی جانب سے 5 ہزار جانوروں کی اجتماعی قربانی کی جارہی ہے ۔جس میں لگ بھگ 35 ہزار حصے مختلف افراد نے بکنگ کرا رکھے ہیں ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close