بھوپال کو تاریخ میں زندہ رکھنے والی باہمت خاتون، قدسیہ بیگم

ریاست بھوپال کی حکمران قدسیہ بیگم کی ادبی، علمی اور دینی خدمات

تحریر : احمد سہیل

نواب سلطان جہاں بیگم 9 جولائی 1857 کو ریاست بھوپال کے ایوان موتی محل میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام قدسیہ بیگم تھا۔ 1902 میں ریاستِ بھوپال کی حکمراں بنیںن کی تعلیم وتربیت کی سرکار خلد نشین نے خود نگرانی کی۔ سرکار خلد نشین بیدار مغزی، استقلال و حمیت، تدبیر و دین داری اور اعلیٰ قابلیتوں کے مالک تھے۔ انھوں نے اپنی خاص نگرانی میں نواب سلطان جہاں بیگم کی غذا، سواری، مقاماتِ ہوا خوری وغیرہ کے لیے ایک دستور العمل بنایا اور جب تعلیم کا وقت آیا تو تعلیم کے ہر جزو و کُل کو خود ہی قائم کیا۔ حتی کہ تعلیم کا ضابطہ بھی خود ہی ترتیب دیا۔

بیگم سلطان جہاں بے حد حسّاس خاتون تھیں۔ انھوں نے اپنی قوتِ ارادی، تعمیری سوچ، شعر فہمی اور علم دوستی کی بدولت ریاستِ بھوپال کو تاریخ کے اوراق میں زندہ اور تابندہ کر دیا ہے۔ان کی زندگی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ عورت زندگی کے ہر میدان میں آگے آکر نئی دنیا کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

1920 میں ایم۔ اے۔ او۔ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملا تو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی پہلی چانسلر مقرر ہوئیں۔ طبقۂ نسواں کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تصنیف و تالیف سے انھیں بے پناہ رغبت تھی۔

مزید پڑھیں : عالمی ماہر قانون AK بروہی کون تھا ؟

سلطان جہاں بیگم مصنفہ بھی تھیں۔ مشہور تصانیف میں تہذیب النسواں، خزینۃ اللغات ہیں۔ ایک مذہبی کتاب تصنیف کر رہی تھیں لیکن وہ مکمل نہ ہو سکی۔ شاعری بھی کرتی تھیں جس میں تاجور اور شیریں تخلص تھے۔ فارسی زبان میں شعر کہا کرتی تھیں۔ مثنوی صدق البیان، تاج الکلا اور دیوانِ شیریں اُن کی یادگار ہیں۔ اِن تینوں کتب سے متعلق سلطان کی خسرو جہاں، بیگم بھوپال نے لکھا ہے کہ:

“اِن کے دو مطبوعہ دیوانوں میں کچھ غزلیں وغیرہ اُن کی ہیں، اِس میں شک نہیں کہ وہ شاعرہ تھیں، لیکن نہ ایسی فرصت تھی اور نہ طبیعت کا یہ رنگ تھا کہ ایسے عامیانہ مذاق میں جو اِن دیوانوں میں جابجاء پایا جاتا ہے، وہ شعر و سخن کہیں۔ اُن کی تہذِب کا معیار نہایت اعلیٰ تھا۔ اُن کے ہر فعل و قول میں کامل متانت بھری ہوئی تھی، وہ کوئی سوقیانہ بات کبھی منہ سے نہیں نکالتی تھیں۔ یہ صحیح ہے اور بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے کہ بعض درباری لوگوں نے جو رسوخ یافتہ تھے، اُن کے نام سے ایسی غزلوں اور اشعار کو مستزاد کرکے طبع کروایا اور سرکارِ عالیہ نے اپنی خلقی مروت و چشم پوشی سے خاموشی اختیار کی یا اُن کے ملاحظہ میں دِیوان پیش نہ ہوئی ۔

سلطان جہان بیگم نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بہت کام کیا ۔ یہ ان کی خود نوشت تھی جو تین حصوں میں تھی۔ پہلا حصہ تزک ِ سلطانی ۱۹۰۳ء میں ، دوسرا حصہ گوہر اقبال ۱۹۰۹ء میں اور تیسرا حصہ اختر اقبال کے نام سے ۱۹۱۴ء میں شائع ہوا۔

مزید پڑھیں : روشن چراغ تھا، بجھ گیا

“یاست بھوپال کی چوتھی اور آخری بیگم نواب سلطان جہاں نے انتظام حکومت سنبھالا تو یہاں اردو زبان وادب کے ہر شعبہ میں قابل لحاظ ترقی ہوئی، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال خاتون تھیں، بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ ایک مصنفہ کا دماغ لیکر پیدا ہوئی تھیں، خود ۱۴ کتابوں کی مصنفہ تھیں، جن میں سے بیشتر کتابیں تعلیم اور اس کے مسائل پر مشتمل ہیں اور اتنی معیاری کہ اس موضوع کی اہم کتابوں کے مقابلہ میں رکھی جا سکتی ہیں’’روضۃ الریاضین‘‘ ان کی پہلی تصنیف تھی، جس میں سفرِ حجاز کے احوال کے ساتھ، حرمین شریفین کی مفصل تاریخ بھی رقم کی گئی ، بیگم صاحبہ نے تربیتِ اطفال ، تیمار داری، خانہ داری، معاشرت اور پردہ کے موضوع پر کئی جامع کتابیں اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔

انہوں نے دفتر تاریخ قائم کر کے بڑے پیمانہ پر علمی کتابیں لکھوائیں، محمد امین زبیری، نیاز فتح پوری، علامہ محوی صدیقی، محمد یوسف قیصر ، مانی جائسی، محمد مہدی اور عبدالرزاق البرامکہ اس کے کارکن تھے ،جن کی سرپرستی کے علاوہ ریاست سے باہر کی بے شمار علمی کتابیں حکومت کی مالی امداد سے شائع کرائیں، ان میں علامہ شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق’’سیرۃ النبی‘‘ بھی شامل ہے۔ بھوپال میں حمیدیہ لائبریری قائم کی جو بجائے خود علم وادب کا بیش بہا خزانہ تھی ’’الحجاب‘‘ اور ’’ظل السلطان‘‘ ماہنامے جاری کئے اور دارالمطالعے کھولے۔ سلطان جہاں بیگم بڑی اچھی مقررہ تھیں، علمی اور ادبی اداروں میں جو تقاریر انہوں نے کیں وہ اردو کا معیاری سرمایہ ہیں، ہر جگہ اردو کی ترقی وسربلندی پر بے لاگ اظہار خیال کرتیں تھیں اور زبان وادب کے خدمت گاروں کی امداد میں پیش پیش رہتیں ۔

مزید پڑھیں : لالو کھیت سے لیاقت آباد تک

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کو بیگم صاحبہ سے اور خود انہیں اس درس گاہ سے گہرا لگاؤ تھا، اسی تعلق باہمی کے نتیجہ میں دو مرتبہ اس یونیورسٹی کی وائس چانسلر منتخب ہوئیں تھیں۔

{ عبد العزیز، روزنامہ’ جنگ،’13 جون 2018}
1250ھ میں نواب قدسیہ بیگم نے اپنی لخت جگر سکندر بیگم کی شادی نواب جہانگیر محمد خان سے کرا دی۔ شادی کے بعد جہانگیر محمد خان نے مطالبہ کیا کہ عنان حکومت اس کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ اس پر نواب قدسیہ بیگم نے ناراض ہو کر اس کو نظر بند کر دیا۔ نظر بندی میں نواب جہانگیر محمد خان کسی طرح بھاگ کر سیہور پہنچ گئے۔ سیہور میں نواب جہانگیر محمد خان نے کئی مواضعات پر قبضہ کر لیا۔ بہت سے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد نواب قدسیہ بیگم اور نواب جہانگیر محمد خان میں باقاعده لڑائی چھڑ گئی۔ اس جنگ میں انگریزوں نے مداخلت کرکے جنگ بند کرا دی اور جنگ کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ ریاست نواب جہانگیر محمد خان کے سپرد کر دی اور نواب قدسیہ بیگم کو چار لاکھ کی جاگیر دے کر ان کو عنان حکومت سے الگ کر لیا ۔

نواب قدسیہ بیگم نے اپنی باقی زندگی اپنی ریاست بھوپال میں گزاری. 72 برس کی عمر میں، 12؍مئی 1930 کو وہ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔” نواب سلطان جہاں بیگم حیات اور خدمات” کے نام سے اطہر صدیقی نے ایک کتاب لکھی ہے اور سیما صغیر نے ” بیگم سلطان جہان” پر ایک مونو گراف بھی ترتیب دیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close