ایس بی سی اے کی کراچی میں تمام مخدوش عمارتیں گرانے کی تیاری مکمل

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام غیر قانونی تعمیرات کو بھی مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا

کراچی : سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی ( ایس بی سی اے ) کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر آشکار داور نے کہا ہے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور اس طرح کی تعمیرات کو منہدم کرنا، ادارے کو کرپشن سے پاک کرنا اور التوا میں پڑے ہوئے بلڈنگ کنسٹرکشن کے امور کو جلد سے جلد نمٹانا ان کی ترجحیات میں شامل ہیں۔ وہ منگل کو ڈائریکٹر جنرل ایس بی اے کا چارج سنھبالنے کے بعد ” الرٹ نیوز ” سے گفتگو کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ حکومت سندھ کے چیف سیکرٹری ممتاز علی شاہ نے27 جولائی پیر کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ایس بی سی اے کے سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انجینئر آشکار داور کو میرٹ کی بنیاد پر ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ اس پوسٹ پر اضافی چارج کے طور پر تعینات حکومت سندھ کے سیکرٹری انڈسٹریز ڈاکٹر نسیم الغنی سے ڈی جی ایس بی سی اے کا چارج واپس لے لیا۔

مزید پڑھیں : ایس بی سی اے میں کام کھل گیا ایجنٹوں کی چاندی

انجینئر آشکار داور نے اپنے عہدے کا چار سنھبالنے کے بعد ایس بی سی اے کے افسران کے اجلاس کی صدارت کی اور ضروری ہدایات جاری کیں۔

بعد ازاں الرٹ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر اشکار کا کہنا تھا کہ برسات کا موسم ہے اس حوالے سے افسران کو تمام عمارتوں پر نظر رکھنے کی ہدایت کے ساتھ مخدوش اور خطرناک قرار دی گئی تمام عمارتوں کو بلا تاخیر منہدم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے.

انہوں نے اس ضمن میں مخدوش عمارتوں کے مکینوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے حق میں ایسی عمارتوں کو خالی کر دیں تاکہ کسی جانی نقصان کا اندیشہ ہی ختم ہوجائے۔ نئے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ کرپشن ایک ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیل چکا ہے تاہم ایس بی سی اے میں اب کرپٹ عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شکایات پر فوری سخت ایکشن لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں : ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے مافیا کا کارروبار، علاقہ مکین پریشان

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام غیر قانونی تعمیرات کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔ اپنے مکانات اور دیگر تعمیرات کے خواہشمند افراد کو مزید سہولیات فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں مشکلات نہ ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انجینئر آشکار داور نے واضح کیا کہ اتھارٹی میں کسی قسم کا مالی بحران نہیں ہے البتہ ادارے کے مالی استحکام کے لیے نئے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورے کراچی میں ایک تا 399 گز تک کے رہائشی پلاٹوں پر صرف گراؤنڈ معہ دو منزلہ کی اجازت ہے اس سے زائد تعمیرات خلاف قانون ہے۔ ایسی تعمیرات کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے تمام ڈائریکٹرزکو ہدایت دی کہ غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے ،اس میں ملوث افراد کوقانونی گرفت میں لانے اور اسکی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف کسی دبائو اور سفارش کو خاطر میں نہ لائیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close