مولانا فضل الرحمن کے بھائی کی تعیناتی پھر واپسی، اصل کہانی کیا ہے؟

مولانا فضل الرحمن کے بھائی ضیا الرحمن کی ڈپٹی کمشنر کراچی وسطی تعیناتی غیر قانونی ہے یا صرف سیاسی ایشو؟ اس حوالے سے دو آراء ہیں ۔ ایک طبقے کی رائے ہے کہ ضیاء الرحمان کی بھرتی سے کراچی تعیناتی تک سب کام جعل سازی سے اور غیر قانونی ہے۔ دوسرے طبقے کی رائے ہے کہ ضیاء الرحمان کا پورا کیرئیر صاف و شفاف اور سندھ میں تعیناتی قانونی ہے ۔ اس حوالے سے قارئین حتمی رائے حقائق کو مد نظر رکھ کر ہی قائم کرسکتے ہیں۔

ضیاء الرحمان کی ملازمت اور حقائق!
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی انجینئر ضیا ء الرحمن شروع سے سیاست سے دور رہے ہیں، قرآن کریم کے حافظ ہیں، انہوں نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) سے بیچلر آف انجینئرنگ کیا ، جس کے بعد این ڈبلیو ایف پی یونیورسٹی سے الیکٹرانکس اینڈ کیمونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ۔ ضیاءالرحمن لاھور کی یونیورسٹی آف انجینئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجنئیرنگ کی پشاور کی انجنئیرنگ یونیورسٹی سے کمیونیکیشن اینڈ الیکٹرونکس میں ماسٹر کرچکے ہیں۔ گومل یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس کے گولڈ میڈلسٹ ہیں ۔ جس کے بعد مشتہر پوسٹوں پروہ گریڈ 17میں تمام تر ضابطو ں کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں ملازمت اختیار کی۔

ملازمت اور انڈکشن !
ابتدائی طور پر 2007 میں PMS میں کے پی کے، کے رولز کے سیکشن 23 کے تحت انڈکشن ھوئی، یہ وفاق کے رولز کے سیکشن 10 کی طرح ھے جس کے تحت آرمی فضائیہ نیوی سے افسران سول سروس میں آتے ہیں یا کسی بھی سویلین ادارے سے سول سروس میں آسکتا ھے جیسے مثال کے طور پر افتخار چوھدری کا بیٹا ارسلان افتخار، یا کے پی کے میں اس پہلے ایک درجن کے قریب مثالیں موجود ہیں۔

عدالتی جنگ!
انڈکشن کے معاملے کو سروس ٹریبونل میں میں چیلنج کیا گیا خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل نے ضیاءالرحمن کے حق میں فیصلہ دیا ۔ اس فیصلے کو پشاور ھائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور پشاور ھائی کورٹ نے ضیاءالرحمن کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ خبیر پختونخوا کے ایک افسر کے حق سپریم کورٹ نے ضیاءالرحمن کے کیس کی بنیاد پر فیصلہ دیا اور اسکی انڈکشن کو validate کیا جو آج کے پی کے کے اہم ڈویژن کے کمشنر ہیں۔

تقرریاں اور تبادلے!
جہاں تک پوسٹنگز کی بات ھے 2007 کے بعد ضیاءالرحمن ایڈیشنل کمشنر اے آر خیبر پختونخوا 5 سال تک رہے پھر کمشنر افغان مہاجرین خیبر پختونخوا تعینات کیا گیا ۔ ڈپٹی سیکریٹری ایگریکلچر ، ڈپٹی سیکرٹری زکوۃ و عشر بھی رہے ۔ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت نے آتے ہی مبینہ طور پر سیاسی انتقام کی بنیاد پر کمشنر افغان مہاجرین کی پوسٹ سے ھٹایا اور کئی ماہ تک تحقیق کے بعد مختلف پوسٹوں پر لگا کر ٹرانسفر کیا جاتا رھا یہاں تک کہ پنجاب حکومت نے ان کی خدمات مانگیں اور حکومت خیبر پختونخوا کی NOC کے بعد وفاق میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پنجاب ٹرانسفر کیا۔ جہاں تقریباً ڈیڑھ سال بطور ڈی سی او خوشاب کام کیا اور ایک دفعہ پھر کمشنر افغان مہاجرین خیبر پختونخواہ مقرر ہوئے۔

وزیر اعظم عمران خان اور او ایس ڈی!
وفاق میں 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ان کو پھر او ایس ڈی بنادیا گیا، پھر تحقیق ہوئی اور کچھ نہیں ملا، اسی دوران گریڈ انیس میں تقرری ھوئ اور قانونی طور پر پر ضرورری تھا کہ کسی گریڈ انیس کی پوسٹ پر انکی ترقی کو ایکچولائز کیا جائے تو ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف کے پی کے لگایا گیا اور تین مہینے بعد او ایس ڈی بنادیا گیا اور پھر جنوری 2019 سے جنوری 2020 تک او ایس ڈی رکھا گیا ۔
اس دوران سندھ حکومت نے وفاق سے ضیاءالرحمن کی سروسز مانگی تو اسٹیلشمنٹ ڈویژن نے کے پی کے حکومت کو NOC کے لیے لکھا تو ایک سال تک NOC نہیں دی گئ حالانکہ یہ پورا سال کے پی کے حکومت نے انہیں OSD رکھا ھوا تھا بالآخر سال بعد انہوں نے این او سی جاری کی اور وفاق کی جانب سے ان کی خدمات سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے لئے کوائف کی جان پڑتال کی تکمیل کے بعد کیبنیٹ سیکرٹیریٹ اسلام آباد نے 22 جنوری کو لیٹر نمبر F/1/27/2019-E-4جاری کیا گیا۔ جس کے مطابق ضیا الرحمن صوبائی مینجمنٹ سروس آف گورنمنٹ کے پی کے کو فی الفو ر ٹرانسفر کرکے ان کی خدمات حکومت سندھ کو دی گئی اور یہ تعیناتی ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر تاحکم ثانی ہیں۔ جنوری 2020 میں اس نے سندھ کے S&GAd میں جوائن کرلیا اور اب بطور ڈپٹی کمشنر کراچی ضلع وسطی میں پوسٹنگ ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ضیاء الرحمان!
سپریم کورٹ کے امیر مسلم ہانی کیس میں ڈیپوٹیشن پر پابندی عائد کی گئی۔ کیس کے مطابق کسی ایک محکمے کا افسر دوسرے محکمے یا انتظامی عہدے سے ہٹا دیئے گئے جبکہ خیبر پختون خواہ، پنجاب اور بلوچستان میں پی ایم ایس کے افسران کو انتظامی عہدوں سے نہیں ہٹایا گیا۔ امیر مسلم ہانی کے فیصلے کے بعد ہی ضیاء الرحمان کو خیبر پختونخوا حکومت کی اجازت سے میں خوشاب بطور ڈپٹی کشمنر تعینات کیا گیا اور انہوں نے بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کیا۔

ایم کیوایم اور تحریک انصاف کا اعتراض!
متحدہ قومی موومنٹ ، تحریک انصاف اور دیگر نے 22 جنوری 2020ء سے تعینات آفیسر کے خلاف مہم شروع کی ۔ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ضیا الرحمان کی بطور ڈپٹی کمشنر تعیناتی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے 26 جولائی کو انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے افسر کو ڈپٹی کمشنر کراچی لگایا گیا ہے ۔ یہ ایک جعلی افسر ہیں، بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان کو رینٹ اے دھرنا کے طور پر ڈی سی کی سیٹ کا تحفہ دیا، جعلی ڈومیسائل کے بعد اب جعلی ڈی سی بھی میدان میں آچکے ہیں یہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے آرڈر کے خلاف ورزی ہے ہم عدالت جائیں گے غیر قانونی کام نہیں ہونے دیں گے۔

خیبر پختونخوا اور وفاق میں کس کی حکومت!
این او سی جاری کرنے والی خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت تحریک انصاف کی ہے اور جانچ پڑتال کے بعد این اوسی کی تصدیق کرنے والی وفاقی حکومت بھی تحریک انصاف کی ،جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم )پاکستان اس کی اتحادی ہے۔

سندھ حکومت اور جمعیت علماء اسلام کا جواب!
سندھ وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ضیا الرحمان خیبرپختونخوا میں انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور سندھ میں ان کی ی تعیناتی ایک مکمل انتظامی معاملہ ہے۔ پی ایم ایس افسران مینجمنٹ کورسز کے بعد انتظامی عہدوں پر تعینات ہوسکتے ہیں یہ ڈیپوٹیشن ضرور ہے مگر اس میں کیڈر کا افسر ہی ڈیپوٹیشن پر دوسرے صوبے میں جا سکتا ہے۔ ضیاء الرحمان کا ریکارڈ بہترین رہا ہے۔کسی افیسر کو مولانافضل الرحمان کا بھائی ہونے کی سزا تو نہیں دی جاسکتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما قاری عثمان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا بھائی ہونے کی وجہ سے بعض متعصب ذہنوں کو ضیا لرحمن کی تعیناتی برداشت نہیں ہورہی ہے اگر کوئی بھی شخص اس میں غیر قانونی پیچیدگی ثابت کردے وہ واپسی ہو جائے گی۔ جبکہ خود پی ٹی آئی کی حکومت نے ریکوزیشن پر سندھ حکومت کے حوالے خدمات کی ہیں جس کو وفاق نے منظوری دی ہے۔

مولانا زرداری سے ملاقات اور ضیاء الرحمان!
ضیاء الرحمان کی تقرری کی مخالفت کرنے والے بعض صحافیوں اور دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ سندھ حکومت نے ضیاء الرحمان کی خدمات اور تعیناتی کا فیصلہ 10 جولائی 2020ء کو بلاول ہائوس میں مولانا فضل الرحمان کی پیپلزپارٹی کے قائدین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے تقریباً 3 گھنٹے طویل ملاقات میں کیا اور ملاقات کا ہدف یہی تھا ۔ دوسری جانب ریکارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ سندھ حکومت نے تقریباً ایک سال قبل خیبر پختونخوا حکومت سے ضیاء الرحمان کی خدمات کے لئے درخواست کی اور دسمبر 2019ء ،میں تحریک انصاف حکومت نے اجازت نامہ جاری کیا اور 22 جنوری 2020ء کو وفاقی حکومت نے اجازت نامے کی توثیق کی اور جنوری میں 2020ء میں ہی ضیاء الرحمان نے سندھ جوائنگ دی ۔

ضیاالرحمان کی برق رفتار برطرفی

ریکارڈ کے مطابق ضیاء الرحمان جنوری 2020ء سے سندھ میں تعینات ہیں اور 23 جولائی 2020ء کو ضلع وسطی کراچی میں ڈپٹی کمشنر تقرری ہوئی ہے۔

ایک ہی روز میں ڈاک تمام مراحل کو طے کرتے ہوئے برق رفتاری سے وفاق میں سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو موصول ہوئی جس پر اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر 4 شمس الدین نے فی الفور لیٹر جاری کر کے ضیاء الرحمن کو واپس بھیجنے کا حکم دے دیا ہے ۔

قارئین کا فیصلہ!
اب فیصلہ قارئین نے خود کرنا ہے کہ ضیاء الرحمان کی ملازمت اور تقرری جعل سازی ، غیر قانونی اور اقربا پروری ہے یا ضیاء الرحمان کو ملازمت کے بہترین ریکارڈ کے باوجود صرف جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بھائی ہونے کی سزا دی جارہی ہے اور یہ کہ اس کا ملکی سیاسی صورتحال سے کس حد تک تعلق ہے؟

Show More

عزت اللّٰہ خان

عزت اللّٰہ خان سینئر رپورٹر ہیں، پشاور پریس کلب کے ممبر ہیں، بعض موضوعات پر ان کی تحقیقاتی رپورٹس صف اول کے اخبارات میں تہلکہ مچا چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے، معروف ویب سائٹس پر ان کے معاشرتی پہلوؤں پر بلاگز بھی شائع ہوتے رہے ہیں، آج کل الرٹ نیوز کے لیے لکھتے ہیں۔

2 Comments

  1. ضیا رحمان کی سندھ میں پوسٹنگ قطعی طور پر غلط اور قانون کے خلاف ہے، 2011 میں سپریم کورٹ کی مشہور ججمنٹ 89/2011 کے تحت ان کو واپس پی ٹی سی ایل میں جوائن کرنا چاہیے، لیکن فضل الرحمن کے بھائی ہونے کی وجہ سے ان کو واپس نہیں بیجھا گیا

    قوائد کے حساب سے دوسرے صوبے کے سروس گروپ کے افسران کسی دوسرے میں آ سکتے ہیں لیکن ان کو کیڈر پوسٹ ہر نہیں رکھا جاتا اور ان کی بطور ڈی سی تعیناتی بلکل غیر قانونی ہے اس لئے کہ موصوف نان کیڈر افسر ہیں، ان کی سندھ میں تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوئی ہے اور ان کی سندھ کے سروس اسٹرکچر میں کسی بھی طرح کی گنجائش نہیں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close