عالمی ماہر قانون AK بروہی کون تھا ؟

تاریخ کی متحرک و فعال شخصیت کے مالک "اے کے بروھی" بین الاقوامی فلاسفر، اسکالر و ماہر قانون دان کیسے بنے ؟

شکار پور : اللہ بخش ولد کریم بخش سراج زئی رئیسانی بروہی المعروف ” اے کے بروھی ” 24 دسمبر 1915 کو سرد موسم میں گڑھی یاسین ضلع شکار پور میں پیدا ہوئے ۔ پرائمری اسکول گڑھی یاسین سے حاصل کی ۔ میٹرک بمبئی یونیورسٹی سے کی ۔ بی اے ڈگری کالج شکار پور سے کیا ۔سندھ مدرستہ الاسلام کراچی میں بھی تعلیم حاصل کی ۔ ایل ایل بی ڈی جے سائنس اینڈ کامرس کالج کراچی سے مکمل کی ۔اس کے بعد بہاءالدین کالج جونا گڑھ میں استاد مقرر ہوئے ۔ بعد ازاں سندھ مدرستہ الاسلام کراچی میں استاد ہوئے ۔ 1937ء سے 1939ء تک سندھ کالجز کے ڈی جی مقرر ہوئے ۔ 1941ء میں کراچی سے وکالت شروع کر دی ۔ اپنی اعلیٰ ذہانت و مثالی تجربہ کی وجہ سے قانون کا بین الاقوامی ماہر مانا گیا اور اس کا نام سندھ میں کہاوت بن گیا ۔

1951ء میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ بلوچستان ہائی کورٹ مامور ہوئے ۔اس زمانے میں بطور چیف پراسکیوٹر بھی رہے ۔ پنڈی سازش کیس میں شیخ مجیب الرحمٰن کے مقدمہ کی پیروی بھی کی ۔ یاد رہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن پر مارشل لاء کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا ۔ ویسے اس کے ہر مقدمہ کو عدالت کی تاریخ میں قانون کا درجہ حاصل تھا ۔ لیکن مشتاق احمد گورمانی، آدم سمتھ اور اسماء جلانی مقدموں نے اسے بین الاقوامی شہرت دی ۔ 1953ء میں محمد علی بوگرہ کابینہ میں وزیر مقرر کئے گئے ۔ قانونی معاملات کے پارلیمانی افیئرز سمیت اطلاعات و نشریات کے قلمدان بھی دیئے گئے مگر ضمیر کے چھاؤں میں زندہ رہنے والی اس ہستی نے 23ء اکتوبر 1954ء کے دن وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ پھر بھی وزارت کے اس مختصر مدت میں دیگر کاموں کے علاوہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں ” بنیادی مقاصد ” کا مسودہ پیش کیا ۔ سانٹے گو چلے میں منعقدہ بین الاقوامی قانون ساز اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کی قیادت کی ۔ ستمبر 1955ء میں یونیسکو کی جانب سے بین الاقوامی تعلیمی تنظیمی اور ثقافتی تنظیم کے دسویں اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کی قیادت کی ۔ یہ اجلاس پیرس میں منعقد ہوا تھا ۔ اس دوران کراچی یونیورسٹی میں اعزازی لیکچرار مقرر ہو گئے ۔

مزید پڑھیں : نعمت اللہ خان!!! ایک عہد ساز شخصیت

1960ء سے 1961ء تک انڈیا میں پاکستانی سفارت خانہ کا ہائی کمشنر بنایا گیا تھا ۔ 1962ء کو ہیگ اکیڈمی آف پبلک انٹرنیشنل لاء میں یادگار لیکچر دیا ۔ 1963ء سے 1964ء تک جنیوا یونیورسٹی میں “قانون دنیا” کے متعلق مسلسل لیکچرز دیئے ۔ فروری 1965ء میں انٹرنیشنل کوآپریشن جنرل اسمبلی نیویارک میں لیکچر دیا -1977ء میں قانون دانوں کی بین الاقوامی جنیوا کے ممبر بن گئے ۔ اس سال ایڈوائزری کونسل امریکن بار ایسوسی ایشن کے بھی ممبر ہوئے ۔ اس ایسوسی ایشن کا مقصد ” ورلڈ پیس تھرو ورلڈ لاء ” (دنیا کا امن دنیا کے قانون سے) تھا ۔

1977ء سے 1979ء تک ضیاءالحق کی حکومت میں قانون و مذہبی امور کے وزیر رہے ۔ 1979ء سے 1982ء تک ریکٹر اسلامی یونیورسٹی کے عہدے پر مقرر ہوئے ۔ اسی دوران نیشنل ہجرہ کمیٹی کے چیئرمین میں بھی بنائے گئے ۔ ہجرہ کمیٹی کے مساعی سے حضرت مولانا محمد عمر دین پوری کا لکھا ہوا قرآن مجید کا براہوئی ترجمہ دوسری بار انہوں نے چھاپا ۔ اور مفت تقسیم کرنے کی خواہش سے براہوئی اکیڈمی پاکستان کو دے دیا تھا ۔ محترم اے کے بروھی کو پاکستان کا کل وقتی سفیر مقرر کیا گیا ۔ یعنی ملک کے اندر یا ملک کے باہر ذاتی یا سرکاری دورہ میں سفیر پاکستان تھے ۔ انہیں سفیر کی حیثیت سے پروٹوکول لینے کا مکمل اختیار حاصل تھا ۔ محترم اے کے بروھی کی خوش قسمتی تھی کہ علامہ حضرت آئی آئی قاضی کا اثر قبول کیا ۔ یہ تعلق اس حد تک پہنچا کہ حضرت قاضی صاحب کی کوئی اولاد نہ تھی تو محترم اے کے بروھی کو منہ بولا بیٹا کہا ۔ سگے باپ بیٹے کی طرح یہ تعلق زندگی کے آخری لمحوں تک قائم رہا ۔ مادر ایلسا قاضی بھی سگی ماں کی طرح اے کے بروھی پر شفیق تھیں ۔

مزید پڑھیں : غنی بابا کو اردو میں متعارف کروانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی

مولانا مودودی محترم اے کے بروھی کو “مولانا” کہا کرتے تھے ۔ تفسیر تفہیم القرآن مکمل ہونے کے بعد لاہور میں تقریب رونمائی کی صدارت اے کے بروھی نے کی۔ اور تفسیر کی رونمائی بھی ان کے ہاتھوں ہوئی تھی ۔ وقت کا یہ نامور عالم بین الاقوامی اسکالر 13 ستمبر 1987ء کو لندن کی ایک ہسپتال میں اینجو گرافی (دل کی چیک اپ) کے لیے داخل ہوا مگر چیک اپ سے پہلے وفات پا گیا ۔ 14 ستمبر 1987ء کے دن جنازہ کراچی لا کر فوجی قبرستان میں دفن کیا گیا ۔

اس کی کل تصانیف اور اکثر لیکچرز انگریزی میں تھے ۔ اردو میں تحریر و تقریر کیا کرتے تھے ۔ سندھی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا ۔ مجھے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ براہوئی خاندان کے ایک فرد ہوتے ہوئے براہوئی زبان نہ بول سکنے کو اپنے فرض میں کمی کہا کرتے تھے ۔ ان کے بھائی محترم علی احمد خان بروھی ، سندھی کا صاحب طرز ادیب و نقاد اور مایہ ناز مصنف ہے – ( محترم علی احمد خان بھی وفات پا گئے ہیں )

مزید پڑھیں : ممتاز سماجی شخصیت حاجی صوفی محمد مسکین انتقال کرگئے

محترم اے کے بروھی کے عقیدت مندوں نے اے کے بروھی فاؤنڈیشن کراچی قائم کی ہے ۔ جو اس کی تقاریر اور لیکچرز کو جمع کرکے کتابی صورت دینا چاہتا ہے ۔ اس کی زندگی میں اس کی جو کتابیں چھپیں وہ یہ تھی۔

1. An Adventure in Self Expression (1954)
2. Fundamental Law of Pakistan (1956)
3. Islam in the Modern World (1969)
4. Testamental for Faith (1973)

ایک براہوئی ماں نے تعلیم کے لئے پردیس جانے والے معصوم بیٹے سے کہا

( اے کے مریس پدا خلق آ بریس)
(اے کے براہوئی بننا پھر گھر آنا)

Show More

عزت اللّٰہ خان

عزت اللّٰہ خان سینئر رپورٹر ہیں، پشاور پریس کلب کے ممبر ہیں، بعض موضوعات پر ان کی تحقیقاتی رپورٹس صف اول کے اخبارات میں تہلکہ مچا چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے، معروف ویب سائٹس پر ان کے معاشرتی پہلوؤں پر بلاگز بھی شائع ہوتے رہے ہیں، آج کل الرٹ نیوز کے لیے لکھتے ہیں۔

One Comment

  1. اے کے بروہی والا مضمون اچھا اور معلوماتی ہے۔ لیکن لگتا ہے یہ کسی انگریزی زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور یا تو بچت کی خاطر کسی انسان سے ترجمہ کروانے کی بجائے کوئی مشینی ترجمہ (گوگل ٹرانسلیٹ یا ایسے ہی کسی پروگرام) کا استعمال کیا گیا اور نظر ثانی بھی نہیں کی گئی ہے۔ اگر کسی انسان نے ترجمہ کیا ہے تو ہرگز معیاری ترجمہ نہیں۔ اتنا غیر معیاری اور واہیات ترجمہ کہ سارے مضمون کا حسن غارت کرکے رکھ دیا۔

    تلخ الفاظ کی معذرت لیکن مجبوری ہے کہ اس سے زیادہ نرم الفاظ ایسے کام کے لیے ممکن نہیں تھے۔

    والسلام

    سلیم فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close