بڑے اسکولوں نے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا

عدالت عظمیٰ کی جانب سے نجی اسکولوں کی فیسیں 5؍ فیصد سے زائد نہ بڑھانے کے فیصلے کو بڑے اسکولوں نے ماننا شروع کردیا ہے۔

جنگ کو محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بیکن ہائوس اسکول سسٹم نے اس حوالے سے باقاعدہ خط لکھا ہے یہ خط ریجنل ڈائریکٹر کی جانب سے لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم عدالت عالیہ کا فیصلہ مانتے ہیں اور اس پر عمل بھی کریں گے تاہم ہم عدالت عظمیٰ جانے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ محکمہ تعلیم نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد باقاعدہ ان تمام اسکولوں کو مراسلہ جاری کیا تھا جنہوں نے اپنی فیسوں میں محکمہ تعلیم کی منظوری کے بغیر اضافہ کیا اور والدین ان اسکولوں کے خلاف عدالت چلے گئے تھے۔

محکمہ تعلیم نے اپنے مراسلے میں ان اسکولوں کو تین ماہ کا وقت دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اسکول والدین کو فیس واپس کردیں یا اس کو ایڈجسٹ کرلیں۔ ذرائع نے جنگ کو بتایا ہے کہ نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس بھی ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کیا جائے اور ساتھ میں محکمہ تعلیم سے کہا جائے کہ وہ 5؍ فیصد اضافے کے رولز میں ترمیم کرکے اسے 10 فیصد کرے کیونکہ سابق وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے خود نجی اسکولوں کو 10 فیصد اضافے کی اجازت دی تھی.

مگر محکمہ تعلیم اس وقت رولز میں 5؍ فیصد اضافے کو 10؍ نہیں کرسکا تھا اور یہی وجہ ہے کہ 5؍ فیصد اضافے کا برسوں پرانا قانون تا حال جاری ہے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے نجی اسکولوں کی فیسیں 5؍ فیصد سے زائد نہ بڑھانے کے فیصلے کو بڑے اسکولوں نے ماننا شروع کردیا ہے۔

جنگ کو محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بیکن ہائوس اسکول سسٹم نے اس حوالے سے باقاعدہ خط لکھا ہے یہ خط ریجنل ڈائریکٹر کی جانب سے لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم عدالت عالیہ کا فیصلہ مانتے ہیں اور اس پر عمل بھی کریں گے تاہم ہم عدالت عظمیٰ جانے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ محکمہ تعلیم نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد باقاعدہ ان تمام اسکولوں کو مراسلہ جاری کیا تھا جنہوں نے اپنی فیسوں میں محکمہ تعلیم کی منظوری کے بغیر اضافہ کیا اور والدین ان اسکولوں کے خلاف عدالت چلے گئے تھے۔

محکمہ تعلیم نے اپنے مراسلے میں ان اسکولوں کو تین ماہ کا وقت دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اسکول والدین کو فیس واپس کردیں یا اس کو ایڈجسٹ کرلیں۔

ذرائع نے جنگ کو بتایا ہے کہ نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس بھی ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کیا جائے اور ساتھ میں محکمہ تعلیم سے کہا جائے کہ وہ 5؍ فیصد اضافے کے رولز میں ترمیم کرکے اسے 10؍ فیصد کرے کیونکہ سابق وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے خود نجی اسکولوں کو 10؍ فیصد اضافے کی اجازت دی تھی.

مگر محکمہ تعلیم اس وقت رولز میں 5؍ فیصد اضافے کو 10؍ نہیں کرسکا تھا اور یہی وجہ ہے کہ 5؍ فیصد اضافے کا برسوں پرانا قانون تا حال جاری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *