یوٹیوب چینل کیوں نہیں بناتے ؟

تحریر : رعایت اللہ فاروقی

پچھلے کچھ عرصے سے بعض دوستوں کا اصرار ہے کہ تمہیں یوٹیوب چینل بنانا چاہئے اور وہاں بھی کام کرنا چاہئے۔ ان دوستوں میں عامر خاکوانی، شیخ نوید اور کچھ دیگر مخلص دوست بھی شامل ہیں۔ شیخ صاحب نے گزشتہ روز خاصا زور دے کر اس کے جملہ فوائد گنوائے، جن میں ڈالروں والا فائدہ سب سے اہم ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کا جو ڈالروں والا فائدہ ہے یہی اتنا پرکشش ہے کہ جی کرتا ہے لوٹے مصلے سمیت یوٹیوب میں گھس جاؤں مگر چند وجوہات ہیں جن کے سبب یوٹیوب چینل بنانے کی ہمت بنتی نہیں۔

٭ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ میں لکھ تو روانی سے سکتا ہوں لیکن بول روانی سے نہیں سکتا۔ اور صوتی سوشل میڈیا فورم پر وہی جچتا ہے جو بول روانی و خوبصورتی سے سکتا ہو۔ دو ایسی چیزیں ہیں جن کا ملاپ میری گفتگو کو بے ربط کر دیتا ہے۔ ایک یہ کہ بولتے ہوئے اگر موڈ خوشگوار ہو جو اکثر ہوتا ہی ہے تو دماغ کچھ زیادہ ہی رفتار پکڑ لیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے مگر اچانک یہ بھول جاتا ہوں کہ میں چلا کہاں سے تھا اور وہ اصل بات کیا تھی جو کہنے کے لئے اتنے موڑ مڑنے پڑے ؟ یوں گفتگو کا لطف غارت ہوجاتا ہے۔ تیز دماغ اور کمزور یاداشت سے میرے لئے دوران گفتگو سنگین مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ یاداشت کے لئے کچھ حکیمی نسخے آزمائے، جن سے ناف سے نیچے تو بڑی ہلچل ہوئی مگر ٹاپ فلور کی بتیاں روشن نہ ہوئیں۔

مزید پڑھیں : سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی اختلافات پھیلانے کا رحجان فروغ پانے لگا

٭ چینل نہ بنانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ درست یا غلط کا نہیں پتہ مگر میرا مزاج یہ ہے کہ میں نہ تو اپنی تحریر کسی کو وٹس ایپ کرتا ہوں، نہ انبکس کرتا ہوں، نہ کسی کو مینشن کرتا ہوں، نہ کسی کو ٹیگ کرتا ہوں (الا یہ کہ پوسٹ میں کسی کے ذکر کے سبب اسے مینشن کرنا پڑ جائے) اور نہ ہی یہ اپیل کرتا ہوں کہ "ضرور شیئر کیجئے” میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ اگر کسی کو اپنی تحریریں پڑھوانے کے لئے اس طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں تو اسے لکھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے، وہ رائٹر نہیں ہے۔ رائٹر وہی ہوتا ہے جس کی تحریر کا اس کے قاری انتظار کرتے ہوں، قاری کے گھر میں گھس کر اسے تحریر نہ پکڑانی پڑے۔ جب لکھے کے معاملے میں ہی مزاج یہ ہے تو اپنے کہے کے لئے یہ منت سماجت کیسے کروں کہ "اللہ کا واسطہ سبسکرائب کرلو، رسول کا وسطہ نوٹیفکیشن والی گھنٹی بھی دبا دو تاکہ ڈالروں کا بہاؤ رکنے نہ پائے” آپ کو شاید میری یہ باتیں پاگل پن لگیں لیکن یار جب میں ایسا ہی ہوں تو کیا کرسکتا ہوں ؟ سو مجھ سے یہ منت سماجت نہیں ہوتی اور وہ بھی یوں کہ گفتگو زبان قال اور زبان حال کے کے امتزاج سے کچھ ایسی شکل اختیار کر جائے۔

"حضرات ! آج ہم خالص اللہ کی رضاء کے لئے آپ کے سامنے دو ایسی حدیثیں پیش کرنے جارے ہیں جنہیں سن کر آپ کا ایمان تازہ ہوجائے گا۔ پہلی حدیث یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، اچھا ہاں سب سے پہلے چینل سبسکرائب کرلیں اور نوٹیفکیشن کا بٹن دبا دیں تاکہ آپ کو پیاری پیاری حدیثیں اور ہمیں ڈالر پہنچتے رہیں ۔۔۔۔۔۔” اور پھر ہر کلپ کی ہر حدیث کے ساتھ سبسکرائب کرلیں اور دبالیں والا مطالبہ جاری رہے۔ نہیں یار یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔

مزید پڑھیں : حکومت سوشل میڈیا چینلز مالکان کے مسائل حل کرے : میاں عامر جمال شاہ

٭ تیسری وجہ یہ کہ ہمارے ایک بہت بڑے صاحب کرامت حضرت ہیں۔ جن کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ پیدا اور پروان وہ کالا ڈھاکہ میں چڑھے، والدین پشتون تھے، لیکن فیس بک پروفائل کے مطابق وہ کوالالمپور کے ہیں اور رہتے بھی وہیں ہیں۔ ملیشین زبان بالکل نہیں جانتے۔ اور سب سے مزے کی بات یہ کہ پائے صبح شام پٹیل پاڑہ میں جاتے ہیں۔ خود ان کی وال پر شاگردوں اور مریدوں کی ایسی تحاریر "منقول” ہیں جن کے مطابق وہ عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت ہیں۔ دس سال سے مشکل سے نام والی ایک "غیر مفتوحہ” جامعۃ المفتوحہ کے سرپرست اعلی کی حیثیت سے مرد و زن کو درس نظامی کے کورس کرا رہے ہیں۔ ان کی وال پر موجود جامعۃ المفتوحہ کے ویڈیو اشتہارات کے مطابق یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو اس ملک میں کروٹ لے رہا ہے۔ حسن ظن کا تقاضہ یہی ہے کہ ان کے شاگردوں کی تعداد لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں تو تسلیم کی ہی جائے اور ایسا کرنے میں بل بھی کوئی نہیں آنا۔ لیکن یار جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبر صرف 137 ہیں تو جی کرتا ہے صور بجنے کا انتظار کئے بغیر ہی حیات بعد الممات کے لئے نیپال کے کسی جنگل بھگ جاؤں۔ اگر یوٹیوب چینل کے حوالے سے بھاری بھرکم پروفائل والی عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت کا یہ حال ہے تو میں غریب تو عالمِ سہراب گوٹھ کی مشہور و معروف شخصیت ہوں اور نہ ہی عالم منگھوپیر کی۔ ناں یار، مجھے معاف ہی رکھئے !

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *