جامعہ فریدیہ و لال مسجد کا قضیہ مگر ہے کیا ؟‌

تحریر : عثمان فیاض

میری نظر میں تو یہ عہدوں کی لڑائی ہر گز نہیں ہے ۔ مولانا عبدالغفار صاحب نے میری دانست میں کبھی خود کو جامعہ کا مہتمم باور نہیں کرایا بلکہ ہمیشہ مولانا عبدالعزیز صاحب ہی کو مہتمم تسلیم کیا ہے …

مولانا عبدالغفار صاحب مد ظلہ ایک بہترین منتظم ہیں اور جس طریقے سے انہوں نے جامعہ فریدیہ کو آپریشن کے بعد سے سنبھالا ہے وہ قابل تحسین ہے مولانا عبدالغفار صاحب مدظلہ سمجھتے ہیں کہ مولانا عبدالعزیز صاحب مدظلہ کو مکمل اختیار مل جانے کی صورت میں حالات خراب ہو سکتے ہیں اور جامعہ میں جو پڑھنے پڑھانے کا مثالی نظم چل رہا ہے اس پہ آنچ آنے کا خدشہ یے، نیز عین ممکن ہے کہ مکمل نظم مولانا عبدالعزیز صاحب کے حوالے ہو جانے سے اور جو وہ سوچتے ہیں کہ ادارہ مکمل آزادی سے چلے کسی قانون کا پابند نہ ہو کہیں انتظامیہ ان باتوں کو بہانا بنا کر جامعہ کو سرے ہی سے بند کر دے …

مولانا عبدالعزیز صاحب مدظلہ کی منشا یہ ہیکہ چونکہ جامعہ فریدیہ کی ان بہاروں میں ان کا اور ان کے والد صاحب ؒ کی قربانیوں کا ایک بیش قیمتی حصہ ہے اس لئے جامعہ فریدیہ ان کی اپنی ترتیب پر چلنا چاہیئے ایسی ترتیب جو کسی کے ماتحت نہ ہو مکمل آزاد ہو انتظامیہ کی کسی رکاوٹ کی پابند نہ ہو…

مزید پڑھیں : جامعہ خیر المدارس ملتان کے عالم دین اور استاذ حدیث مولانا منظور احمد انتقال کرگئے۔

جب اختلاف ہوتا ہے تو ہر بندے کی کوئی نہ کوئی رائے بنتی ہے جو بھی موقف سامنے آئے اس کی حمایت اور مخالفت دونوں ہوتی ہیں … اس پورے قضیے میں میری بھی ایک رائے ہے اور ہو سکتا ہے آپکی رائے اس سے مختلف ہو لیکن ان آراء کو بیان کرنے کی جگہ فیسبک نہیں ہے کیونکہ یہ تو ایک اوپن پلیٹ فارم ہے اور یہ دونوں بزرگ حضرات تو شاید اس کو دیکھتے بھی نہ ہو حضرت استاد جی مفتی عبدالرحمن صاحب سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے یہ نصیحت فرمائی کہ اگر رائے کا اظہار کرنا ہی ہے تو ان حضرات کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کر کے کریں جس کا کوئی ثمر نکل سکتا ہے ورنہ خاموش رہیں من صمت نجی .. جو خاموش رہا نجات پا گیا .. اللہ کے حضور مسئلے کے حل کے لئے دعا فرمائیں …

کچھ جذباتی نوجوان اور کچھ لائکس کی ہوس کے مارے جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ شریف انسان کی زبان ہی نہیں مولانا عبدالغفار صاحب ہزاروں علماء کے استاد ہیں مولانا عبدالعزیز صاحب کئی مدارس کے سرپرست ہیں اختلاف ادب کیساتھ بھی ہو سکتا ہے حضرت مدنی و حضرت تھانوی کا اختلاف اور ان کے اختلاف کے باوجود احترام تقریروں میں تو ہم بڑھ چڑھ کے بیان کرتے ہیں کہ ایسے تھے ہمارے اکابر اور اپنی حالت یہ ہیکہ جن حضرات سے شاید زندگی میں ہم کبھی ملے ہی نہیں ان کے بارے میں اس طرح کے جملے ادا کر رہے ہیں کہ جیسے انکے کراما کاتبین کے رجسٹر آپ کے سامنے ہوں …

مزید پڑھیں : لال مسجد سے نکلتی چنگاریاں کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں

خدارا احتیاط کیجیئے … مجھے اور آپکو اپنے ہر ہر جملے کو ثابت کرنا پڑے گا حضرت استاد جی مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ بد گمانی پر دلیل دینی پڑے گی پر اچھے گمان پر بلا دلیل اجر ملے گا … اپنے برے گمان کو اپنی زبان پر لا کر اپنے لئے دہرا وبال نہ بنائیں …

یہ تصویر چند دن قبل کی ہے جب مولانا عبدالعزیز صاحب جامعہ فریدیہ گئے ہوئے تھے یہ بہت کچھ کہہ رہی ہے چہروں پہ یہ مسکراہٹ اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ لازما یہ دونوں حضرات خوشگوار ماحوال ہی میں بات کر رہے تھے تب ہی تصویر بنانے والے کو تصویر بنانے کی جرات ہوئی … اللہ تعالی سے دعا ہیکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعہ کے یہ مسئلہ حل ہو جائے اور کوئی ایسا نتیجہ نکلے جس سے جامعہ کی تعلیم و تعلم کے سلسلے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو ۔ آمین بحرمة سید المرسلین ﷺ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *