ہری پور کے گائوں سنجلیالہ اور جب میں چوروں کی انوکھی موجودگی

ہری پور : خیبر پختون خواہ کے صنعتی ضلع ہری پور کی تحصیل خانپور کی پہاڑی علاقوں میں چوروں کی اطلاعات ہیں ۔ خان پور کی یونین کونسل پنڈ کمال خان کے علاقوں جن میں سر فہرست سنجلیالہ اور جب شامل ہیں ، ان میں عید کے بعد سے چوروں کی اطلاعات زیر گردش ہیں ۔

سنجلیالہ اور جب میں گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل رات کو شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں ۔ مبینہ طور پر اس شدید فائرنگ میں چوروں کی جانب سے بھی فائرنگ کی جاتی ہے تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ سنجلیالہ میں ایک گھر کے باہر چوروں کو دیکھے جانے کی اطلاعات تھیں جس کے بعد بھی شدید فائرنگ کی گئی تھی ۔

مذید پڑھیں : واٹر بورڈ میں ایوب شیخ نے گاڑیوں کی خریداری میں کروڑوں خورد برد کر لئے

سنجلیالہ کے فیس بک کے "دانشوروں” کے مطابق چوروں کا ایک گروہ ہے ، بعض "دانشوروں” کے مطابق چند لوگ ہیں جو صرف اور صرف گائے چوری کرنا چاہتے ہیں ، تاہم حیرت انگیز طور پر ابھی تک چوروں کی کوئی ایک واردات بھی کامیاب نہیں ہوئی ہے ، جس سے اندازہ ہو سکے کہ وہ گائے ہی چوری کرتے ہیں یا گھریلو دیگر سامان بھی چوری کرتے ہیں ۔

سنجلیالہ کے فیس بکی "مجاہدین” کے مطابق چور گزشتہ شب جمعرات کو جب کے گائوں کے ایک گھر میں داخل ہوئے جن کی تعداد 7 بتائی گئی یے ، تاہم اہل خانہ نے چوروں سے مکالمہ کیا کہ گھر میں کچھ بھی نہیں ہے آپ چاہیں تو تلاشی لے لیں ، جس پر حیرت انگیز طور پر چور واپس چلے گئے ۔ حیرت انگیزطور پر چروروں کی ایک نئی قسم ہے جو اس قدر رحم دل بھی ہے ۔

مذید پڑھیں : بھارت نے ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن کیلئے قونصلر رسائی کی پاکستانی پیشکش قبول کر لی ۔

معلوم رہے کہ سنجلیالہ میں غیر قانونی اسلحہ کی بھرمار ہے ، اور راتوں کو شدید فائرنگ کی آوازیں آتی ہیں ، گھروں کے صحن ،سڑکوں پر شدید فائرنگ کی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے گائوں سنجلیالہ اور جب میں شدید خوف ہراس پایا جاتا ہے ۔ جس کے باوجود بھی پنڈمنیم چوکی اور خانپور پولیس اسٹیشن کی جانب سے فائرنگ کے سلسلے کو روکوایا نہیں جا سکا ہے اور فیس بک پر ’’فائرنگ‘‘ کرنے والوں سے بھی کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جا سکی ہے ۔

ادھر سنجلیالہ کے بعض سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ کہیں کوئی چور نہیں آئے بلکہ یہ چند فارغ لوگوں نے سنی سنائی باتوں کو پھیلا کر عوام کو شدید عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے ۔ جس پر پولیس کو کارروائی کرنی چاہئے ہے ۔ اس حوالے سے نمائندہ الرٹ نیوز نے پنڈ منیم چوکی کے انچارج اے ایس آئی اعظم سے رابطہ کیا جس پرانہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں مگر ہم نے اس کے باوجود بھی رات کو گشت شروع کیا ہوا ہے ۔

مذید پڑھیں : وسیم اکرم کا عیدالاضحی کے موقعے پر آن لائن قربانی کا مشورہ

اعظم خان کے مطابق یہ عجیب چور ہیں جو رات کو گھروں میں آتے ہیں اور مویشی کھولتے ہیں پھر بھاگ جاتے ہیں ۔ ہم نے جیوفینسنگ ، جیو ٹیگنگ پر کام شروع کردیا ہے ۔ جلد ان افواہوں کا توڑ کریں گے اور ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ فیس بک پر ان اطلاعات سے گریز کریں ۔ اور فائرنگ نہ کریں ۔ خانپور پولیس اسٹیشن کے انچارج اے ایس آئی خالد الرحمن سے رابطہ کیا گیا تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ۔

واضح رہے کہ ان چوروں کی موجودگی پر فیس بک پوسٹیں لگانے والے اور فائرنگ کرنے والے مکینوں کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے یہ سلسلہ جاری ہے ، تاہم اب تک کوئی بھی سنجیدہ سوالوں کا جواب نہیں دے سکا ہے ۔ چور کس گاڑی پر ہیں ، اتنے دنوں سے دن کو کہاں ٹھکانا ہے ، کیوں کہ جب اور سنجلیالہ کے ہر دو داخلی اور خارجی راستوں اور ہری پور کے مابین درجن بھر گائوں آتے ہیں ۔ جن کو عبور کرکے چور صرف ان دو علاقوں میں ہی آتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : بلدیاتی انتخابات میں JUI کا بھرپور حصہ لینے کا اعلان

معلوم رہے کہ سنجلیالہ میں ہونے والی ان افواہوں کو ایک اور زاویہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے ، کیوں کہ چند برس قبل شکار کی نیت سے آنے والے گائوں تراڑ کے ایک نواجوان کو ذاتی رنجش میں اپنے دشمن نے جب میں لگے ٹاور والی پہاڑی (دکھڑاں) کے مقام ہرگولی مار دی تھی جس کا الزام بملاچھہ اور راجا اقبال کی ڈھیری کے سامنے پہاڑی پر بیٹھے راجا آغاز کے سر ڈال دیا گیا تھا ۔جو ایک شریف النفس سابق کونسلر بھی رہے ہیں ۔ سنجلیالہ کے اس چوری کے سلسلے اور فائرنگ کے نتیجہ میں کوئی اپنی رنجش نکال دے گا جس کا الزام نامعلوم چوروں پر ڈال دیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *