کے الیکٹرک:وزیر اعلیٰ ہاؤس ٗ گورنرہاؤس پر دھرنا دے سکتے ہیں حافظ نعیم الرحمن

کراچی:جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ اگر تین دن میں شہر میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحا ل بہتر نہیں ہوئی توگورنر ہاوس، وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا اور پوری شاہراہ فیصل کو بھی بند کرسکتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے شاہراہ فیصل نرسری پر کے الیکٹرک کی بدترین لوڈشیڈنگ،اوور بلنگ، اورحکومتی گٹھ جوڑ کےدھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ادارہ نورحق میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا ہے۔

امیر کراچی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں 3روپے اضافے کا کراچی دشمن فیصلہ واپس لیا جائے،گزشتہ 15سال کی نجکاری کا فارنزک آڈٹ کیا جائے،کے الیکٹرک کا لائسنس فوراًمنسوخ کر کے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی کمیٹی بنائی جائے،کلاء بیک کے اربوں روپے عوام کو واپس دیے جائیں،اوور بلنگ ختم کی جائے۔

دھرنے میں رکن سندھ اسمبلی و امیرجماعت اسلامی ضلع جنوبی سید عبد الرشید، پبلک ایڈکمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ،نائب صدر و کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے چیئرمین عمران شاہد ودیگر بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جو 2005کے ای ایس سی کی نجکاری کے خلاف تھی، ایم کیو ایم جو کراچی کے لیے بڑی بڑی باتیں کرتی ہے اس وقت مشرف کے ساتھ حکومت میں تھی اور وہ کراچی کے اس اہم ادارے کو فروخت کرنے کے فیصلے میں مکمل شریک تھی۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا بھی ایم کیو ایم کے ہاتھوں یرغمال تھا،کے ای ایس سی کے ملازمین 87دن تک احتجاج اور دھرنا دیتے رہے لیکن سوائے جماعت اسلامی کے کوئی اور پارٹی ان ملازمین کے احتجاج کی حمایت کرنے نہیں آئی۔

حافظ نعیم نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت میں ایک نئی کمپنی ابراج گروپ متعارف کرائی اور کے الیکٹرک کودوبارہ فروخت کیا گیا اور اس وقت بھی ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت کے ساتھ شریک تھی اس کے خلاف بھی نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے پٹیشن دائر کی،پیپلز پارٹی 2009سے 2013تک حکومت میں رہی اس کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو اس نے بھی کے الیکٹرک اور ابراج گروپ کی حمایت اور سپرستی جاری رکھی۔

امیر کراچی کا کہنا تھ کہ 2015میں جب شہر میں ہیٹ اسٹروک آیا تو کے الیکٹرک نے سخت گرمی میں بھی اپنے پلانٹ بند رکھے اور ہزاروں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے،نیپرا نے اس قتل اور جرم پر کے الیکٹرک کے خلاف صرف چند کروڑ کا جرمانہ عائد کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کیں لیکن افسوس کہ عدالتوں سے بھی کراچی کے عوام کو انصاف نہیں ملا، ہم چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے خلاف نوٹس لیں اور کراچی کے عوام کوانصاف اور ریلیف دلائیں،ظلم یہ ہے کہ سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے درمیان کوئی سیل ایگریمنٹ ہی نہیں ہوا ہے جبکہ کے الیکٹرک گیس کمپنی کی اربوں روپے کی نادہندہ ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *