بھات میں ہونے والی کرکٹ لیگ جعلی نکلی

عالمی کرکٹ کے سامنے شرافت کا لبادہ اوڑھنے والے اور اپنی ہٹ دھرمی سے کرکٹ کے فیصلے منوانے والے بھارت خود بہت بڑا فراڈ نکلا جہاں پر جعلی کرکٹ لیگ ہونے کا انکشاف ہوا ہے-

بھارتی پنجاب چندی گڑھ کے نواحی علاقے میں سری لنکن یووا لیگ کے نام سے جعلی کرکٹ لیگ چلائی گئی اور پیسا بنایا گیا-

تحقیقات کرنے پر جعلی کرکٹ ایونٹ کی ہر چیز ہی فراڈ نکلی، گمنام آئی پی ایڈریس، فرضی ای میلز اور غیررجسٹرڈ فون نمبرز استعمال کیے گئے، لائیو اسٹریمنگ کمپنی کو بھی ’بدھو‘ بنایا گیا-

جعلی ایونٹ کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، فراڈ ایونٹ کی ہر چیز ہی جعلی ثابت ہورہی ہے، بڑی چالاکی سے ممبئی کی ایک کمپنی کی لائیو اسٹریمنگ کے لیے خدمات لی گئیں۔

مذکورہ کمپنی کا کہنا ہے کہ 25 جون کی شام سندن کرونارتنے نے خود کو یووا لیگ کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے حکام سے ملاقات کی، جس میں لیگ پر پریزینٹیشن دینے کے ساتھ تشہیر کیلیے مدد فراہم کرنے کا کہا، انھوں نے ایونٹ کا ویب ایڈریس اور اپنا ایک فرضی ای میل ایڈریس بھی دیا-

لائیواسٹریمنگ کمپنی نے کرونارتنے سے ایونٹ کی منظوری کے لیے سری لنکن بورڈ کا دیا جانے والا خط پیش کرنے کا کہا، جس کے جواب میں 27 جون کو کرونا رتنے یووا کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے منظوری کا لیٹر میل کیا-

بعد ازاں بورڈ کی جانب سے بھی ایک ای میل پیش کی گئی جس میں ظاہر کیا گیا کہ چیف ایگزیکٹیو جیروم جیارتنے نے جواب دیا ہو-

اس خط کے بعد 29 جون کو چندی گڑھ کے نواحی علاقے میں 2 میچز منعقد ہوئے-

کمپنی کا کہنا ہے کہ فورا ہی سرلنکن کرکٹ بورڈ بھی حرکت میں آیا اور اس لیگل منیجر چالکا سلوا کی میل موصول ہوئی جس میں انھوں نے خبردار کیا کہ بورڈ نے اس ایونٹ کی منظوری نہیں دی-

جس پر کمپنی نے وضاحت کیلیے کرونارتنے سے رابطہ کرنا چاہا مگر ان کے نمبر بند نکلے، بعد میں اس فراڈ کی شکایت ممبئی پولیس کو درج کرائی گئی-

جس کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ فرضی ای میلز کے ذریعے رابطہ کیا گیا، آئی پی ایڈریس گمنام تھا، فون نمبر رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔

اب اس معاملے کی صرف موہالی اور ممبئی پولیس ہی نہیں بلکہ بھارتی بورڈ کے ساتھ آئی سی سی اور سری لنکن بورڈ کا اینٹی کرپشن یونٹ بھی تحقیقات کر رہا ہے۔