خیبر پختونخوا آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز پر تشدد کی پر زور مذمت کرتی ہے : پیماء

لاٹھی گولی کے ذریعے آواز دبائی نہیں جاسکتی ، حکومت ہوش کے ناخن لے : گرفتار قیادت کی رہائی ، مطالبات کی فی الفور منظوری اور تشدد میں ملوث نام نہاد ریاستی عناصر کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر حضرت اکبر صدر پیماء پشاور

پشاور: پیماء کے پی کے آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز پر کل ہونے والی تشدد کی پر زور مذمت کرتی ہے ۔

ایک طرف ڈاکٹروں کو مذاکرات کے لئے بلانا اور دوسری طرف تشدد کرنا سیکٹری صحت اور وزیرِ صحت کا ظرف بتا رہا ہے ۔ حکومت ہوش کے ناخن لے ، ڈاکٹروں کی گرفتاری اور تشدد افسوس ناک اور شرمناک ہے ۔

ان خیالات کا اظہار پیماء سیاسی کمیٹی کے صوبائی انچارج ڈاکٹر ذولفقار درانی اور پیماء پشاور کے صدر حضرت اکبر نے اخباری بیان میں کیا ۔

مزید پڑھیں : اہلسنت خدمت فاؤنڈیشن نے بڑے پیمانے پر راشن تقسیم شروع کر دی

انہوں نے مزید کہا کہ ینگ ڈاکٹرز آذاد کشمیر کے مطالبات جائز ہیں ۔ عرصہ دراز سے آذاد کشمیر کے نظام صحت کو بیساکھیوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے ۔

علامتی بنیادوں پر جو بھی نظام صحت چلایا جائے گا ناپئدار ہوگا ۔ حکومت آذاد کشمیر بتائے آخر وہ کون سا مطالبہ ہے جسکی وجہ سے آذاد کشمیر کے سب سے لائق طبقے کو لہولہان کیا گیا ۔

وزیرِ صحت اور سیکٹری صحت کے مذاکرات کے ساتھ ہی تشدد کا منطق سمجھ سے بالاتر ہے ۔ پیماء کے پی کے آذاد کشمیر کی ڈاکٹرز کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے ۔

مزید پڑھیں : ایف بی آر اور کسٹم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دی گئی ہیں

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتِ آذاد کشمیر معاملات کو فہم و فراست سے حل کریں ۔ ڈاکٹروں کے مطالبات کی منظوری ، گرفتار ڈاکٹرز کی فی الفور رہائی اور اس جبرانہ قدم میں ملوث تم ریاستی کرداروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔

نیز مستقبل میں نظامِ صحت کو موثر منصوبہ بندی کے ذریعے اس قدر پائیدار اور مستحکم بنایا جائے کہ پھر اپنی نا اہلیوں کو چھپانے کیلئے لاٹھی گولی کی ضرورت نہ پڑھے بلکہ کارگردگی سے سوالات کا جواب دیا جاسکے۔

Show More

اختر شیخ

اختر شیخ (بیورو چیف کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close