قادیانی معشیت دان کی رینکنگ کی حقیقت

قادیانی معیشت داں عاطف میاں کی قابلیت اور ٹیلینٹ کے چرچے فیس بک پر دیکھ کر اس کے حوالے سے مزید جاننے کا اشتیاق ہوا۔ فیس بک اور ٹویٹر پر سب سے زیادہ چرچا اس بات کا ہے کہ وہ دنیا کے 25 بہترین ماہرین معیشت میں شامل ہے۔

پہلا خیال یہ آیا کہ ذرا معلوم کیا جائے، معشیت دانوں کی عالمی رینکنگ کون اور کتنے عرصے بعد جاری کرتا ہے؟ یہ رینکنگ کن معیارات کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے؟ اب تک کتنے لوگ اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں؟ ان میں کتنے پاکستانی اور مسلمان ہیں؟

کئی گھنٹے انٹرنیٹ پر درجنوں سرچ انجنز اور ’کی ورڈز‘ پر مغزماری کے باوجود مجھے معشیت دانوں کی کسی عالمی رینکنگ کا کوئی وجود نہ مل سکا۔ یہاں ناکامی کے بعد قائد اعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال یونیورسٹی، رفاہ، لمز، آئی بی اے، ایچ ای سی، سیٹیٹ بینک، فنانس اور خزانہ کی وزارتوں کے علاوہ پلاننگ کمیشن میں ماہرین معیشت سے اُن کے شعبے کی اس عالمی رینکنگ کا پوچھا، لیکن ہر ایک نے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔

آخرکار پی ٹی آئی کے ایک رہنما سے پوچھا کہ یہ عاطف میاں دنیا کے 25 بہترین معشیت دانوں میں کیسے شامل ہو گیا ہے؟
جوابا اُنہوں نے ایک لنک مرحمت فرمایا، جسے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ غریب ممالک کو استحصالی سرمایہ کاری کے جال میں جکڑ کر عوام کا خون چوسنے کی شہرت کے حامل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(IMF) نے کچھ عرصہ پہلے 25 افراد کی ایک فہرست جاری کی تھی۔ جن کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ’’یہ وہ 25 لوگ ہیں جن سے توقع ہے کہ مستقبل میں عالمی معیشت کے بارے میں دنیا کی سوچ کو بہتر رخ دیں گے‘‘ اس فہرست میں عاطف میاں 16 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

ائی ایم ایف کی اس فہرست کو دنیا کے بہترین ماہرین معیشت کی رینکنگ کیسے قرار دیا جا رہا ہے؟ اس سوال کاجواب تو پی ٹی آئی والے ہی بتا سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کیا ہے؟ اور اس ادارے نے غریب اور پسماندہ ممالک خصوصا مسلمان ممالک کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے کون کون سے گھناونے کھیل کھیلے ہیں؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
نہ ہی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جس شخص سے آئی ایم ایف کو بہترین توقعات ہوں وہ یہاں کیا گل کھلا سکتا ہے۔

البتہ یہاں استعمال ہونے والی اصطلاح ’‘عالمی معیشت کے حوالے سے دنیا کی سوچ (world’s thinking about the global economy)‘‘ کے حوالے سے عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ گلوبلائزیشن یا عالمی معیشت مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا عمومی مفہوم کمزور ممالک کی معیشت کو وہاں کے عوام اور حکومت کے کنٹرول سے نکال کر آئی ایم ایف اور ولڈ بینک جیسے اداروں کے حوالے کرنا ہے۔ جس کے بعد ان ممالک کی سیاسی، سماجی پالیسیوں کو معشیت کے لیور سے کنٹرول کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ گویا یہ غلامی کا ایک نیا جال ہے۔

اس حوالے سے ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک میں زبردست تشویش پائی جاتی ہے۔ اب آئی ایم ایف نے اُن 25 افراد کی فہرست دی ہے جن سے "عالمی معشیت "کے حوالے سے دنیا کی سوچ تبدیل کرنے کی توقع ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ 25 لوگ دنیا کو مالیاتی اداروں اور اُن کی پشت پر موجود چند یہودیوں کی غلامی پر رضا مند کرنے کے لیے بہترین ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے آئی ایم ایف نے جو معیارات مقرر کیے تھے، اُن کے مطابق فہرست میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی عمر 45 سال سے کم ہے۔ وہ اپنے ملک کے علاوہ امریکہ کی شہریت بھی اختیار کر چکے ہیں۔ اُنہوں نے امریکی اداروں سے ہی تعلیم حاصل کی ہے۔

آخر میں عاطف میاں کے حوالے سے معلوم ہونے والی کچھ دلچسب معلومات جان لیجیے۔ عاطف کی سی وی کے مطابق وہ قادیانی طلبہ و طالبات اور قادیانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کو ملنے والے ’’احمد شہنواز سکالرشپ‘‘ پر پڑھائی کے لیے امریکا گیا۔ جہاں اُس نے "میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی” سے میتھ اور کمپیوٹر سائینس میں گریجویشن مکمل کی۔ وہ بنیادی طور پر سائنس کا طالب علم تھا۔ وکی پیڈیا کی مطابق گریجویشن کے بعد اچانک اُسے پاکستان کی معشیت کی بدحالی کی فکر ستانے لگی، تو اُس نے سائینس کو خیر آباد کہہ کر اکنامکس کا مضمون اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ (جس کے لیے فنڈنگ بھی قادیانی ادارے نے کی) عاطف نے اپنا پی ایچ ڈی کا تھیسیس مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی پروفیسر ابجیت بنزجی (Abhijit Vinayak Banerjee) کی زیر نگرانی مکمل کیا۔ موضوع پاکستان میں سرکاری اداروں کی نجکاری تھا۔ (نجکاری آئی ایم ایف کا خصوصی مطالبہ ہے)۔

عاطف عام زندگی میں قادیانیت کا سرگرم مبلغ ہے۔ قادیانی خلیفہ کا مالی مشیر بھی ہے، وہ پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت ﷺ کے قوانین کا ناقد جبکہ معیشت کے میدان میں وہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا زبردست مداح ہے۔ اُس نے بطور شریک مصنف House of Debt نامی کتاب بھی لکھی ہے جس میں بین السطور آئی ایم ایف کو دنیا کا معاشی نجات دھندہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *