اسلام آباد میں مسجد بن سکتی ہے مندر نہیں: علمائے کرام

علمائے کرام شہید کی جانے والی جامع مسجد توحید بھی گئے جہاں اہل علاقہ اور مسجد انتظامیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور مسجد کے شہید کئے گئے حصے کی تعمیر میں بھی حصہ لیا.

علما کرام نے کہا ہے کہ مساجد کے خلاف کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی، جس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی، مساجد کو مسمار کرکے اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دی جائے، اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کسی صورت نہیں ہونے دیں گے.

ان خیالات کا اظہار جامع مسجد رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ہمک میں جمعیت اہلسنت راولپنڈی اسلام آباد کے زیر اہتمام علمائے کرام کے بھرپور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا.

اجلاس میں مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا اشرف علی، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا عبدالغفار، مولانا مفتی محمد اویس عزیز، حافظ مقصود احمد، مولانا عبدالغفار توحیدی، مولانا قاری فضل ربی، مولانا شبیر احمد کاشمیری، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا عبدالرؤف محمدی سمیت بیسیوں علمائے کرام شریک ہوئے.

علمائے کرام نے مسجد توحید کو شہید کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ مساجد کے تحفظ کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، مسجد جس بھی مسلک کی ہو اس کے تحفظ کے لیے بغیر کسی مسلک کی تفریق کے میدان میں آئیں گے اور مساجد کے حوالے سے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے.

فوٹو: الرٹ

انہوں نے کہا کہ بے شمار کمرشل پلازوں اور پرائیویٹ عمارتوں کو ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریگولرائز کیا گیا،ہمک کے علاقے میں بھی سی ڈی اے کی رپورٹ میں 47 جگہوں پر تجاوزات ظاہر کی گئیں اور نمائشی طور پر مسجد اور چند کچے مکانات کیخلاف کارروائی کی گئی، اس طرح کی کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں کریں گے.

علمائے کرام نے تھانہ سہالہ کے اے ایس آئی کی طرف سے علمائے کرام پر تشدد اور توہین آمیز رویے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس کی فوری برطرفی یا معطلی کا مطالبہ کیا اور مسجد کے خلاف آپریشن کی نگرانی کرنے والے اے سی رورل عبداللہ اور سی ڈی اے کے ڈپٹی کمشنر سعد بن اسعد کے رویے کی بھی شدید مذمت کی گئی.

اس موقع پر علمائے کرام شہید کی جانے والی جامع مسجد توحید بھی گئے جہاں اہل علاقہ اور مسجد انتظامیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور مسجد کے شہید کئے گئے حصے کی تعمیر میں بھی حصہ لیا.

قبل ازیں اجلاس میں اسلام آباد مند ر کی تعمیر کے حوالے سے کام کی عارضی بندش کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مندر کی تعمیر کیخلاف بھر پور احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ مندر کو الاٹ کئے گئے پلاٹ کی منسوخی تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی.

اجلاس میں جامع مسجد الاعظم سہالہ کے سفید ریش امام و خطیب قاری محمد محفوظ پر قیضیہ مافیا کی طرف سے وحشیانہ تشدد کی بھی مذمت کی گئی اور حکومت سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا.

بعد ازاں علمائے کرام قاری محمد محفوظ سے اظیار یکجہتی کے لئے جامع مسجد الاعظم سہالہ بھی گئے اور ان کوہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا.

اجلاس میں مولانا یعقوب طارق، مولانا عبدالکریم، مولانا قاری ھارون الرشید، مولانا مفتی محمد فاروق، مولانا محمد طیب، مولانا عتیق الرحمن شاہ، مفتی محمد عبداللہ، مولانا عثمان عثمانی، مولانا عبداللہ خان، مولانا احسان الحق چکیالوی، مفتی سراج الحق، مولانا عتیق الرحمن، مولانا اسد اللہ غالب، حافظ ابوبکر، مولانا محمد رفیق، مولانا عمران معاویہ، مولانا جمیل درانی، مولانا عمران ہزاروی، مولانا نوید سمیت دیگر شریک ہوئے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close