قربانی سے متعلق حکومت سندھ کے ساتھ ایس او پیز پر اتفاق ہوگیا ہے : اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان

عوام اجتماعی قربانی کو ترجیح دیں، قربانی ایک عبادت مقصودہ ہے جو آن لائن پیسے جمع کرا کر نہیں ہوسکتی۔

کراچی : اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے قائدین نے کہا ہے کہ عید الاضحی کی قربانی سے متعلق حکومت سندھ کے ساتھ ایس او پیز پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ کورونا وائرس کے تناظر میں لوگ اجتماعی قربانی کو ترجیح دیں۔

کراچی پریس کلب میں اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے قائدین مفتی منیب الرحمن، ڈاکٹر مولانا محمد عادل خان، مولانا طلحہ رحمانی، مفتی نذیر جان نعیمی، مولانا ریحان امجد نعمانی، مولانا عبدالوحید، مولانا یوسف قصوری اور دیگر علمائے کرام نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قربانی ایک عبادت مقصودہ ہے جو آن لائن پیسے جمع کرا کر نہیں ہوسکتی بلکہ عملا ہونی چاہیے اور یہ مقررہ دنوں کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ صرف اس رفاعی ادارے کو قربانی کے پیسے دیے جاسکتے ہیں جو عملا قربانی کر رہا ہو۔

مزید پڑھیں : کورونا : عیدالاضحیٰ کے ایس او پیز کا اعلان 30 جون کو کیا جائے گا، ڈاکٹر ظفر مرزا

انہوں نے کہا کہ قربانی کے حوالے سے ہماری صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ اور سعید غنی کے ساتھ ملاقات میں جن باتوں پر اتفاق ہوا، وہ یہ ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی منڈیاں آبادی سے دور کھلے میدانوں میں لگائی جائیں، منڈیوں کی باقاعدہ چار دیواری ہو جبکہ منڈیوں میں مستقل جراثیم کش ادویات اسپرے کیے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ قربانی کا جانور شریعت کی شرائط کے مطابق ہونا چاہیے یعنی گائے، بیل اور بھینس کی عمر کم از کم دو سال، بکرا اور دنبہ ایک سال اور اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال ہونی چاہیے۔

قائدین اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان نے کہا کہ حتی الامکان اجتماعی قربانی کو ترجیح دی جائے تاکہ گلی کوچوں میں آلائش کم سے کم ہوں اور مقامی حکومتیں قربانی کی آلائشوں کو فوری اٹھا کر ٹھکانے لگانے کا اہتمام کریں۔

مزید پڑھیں : عید شاپنگ کی تیاریاں

قربانی کی کھالیں خریدنے والوں کو پابند کیا جائے کہ وہ جلد از جلد کھالیں اٹھا کر اپنے محفوظ مقامات تک پہنچائیں اور ٹریٹ کریں۔ قربانی کی جگہ کو جراثیم کش دوا سے دھویا جائے اور صفائی کا مکمل اہتمام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا اہتمام کرے کہ بیمار جانور قربانی کی منڈیوں میں فروخت کے لیے نہ لائے جائیں، موجودہ صورتحال کے پیش نظر قربانی کے جانور خریدنے کے لیے لوگ بچوں کو منڈیاں لے کر نہ جائیں، منڈیوں کو تفریح کی جگہ نہ سمجھیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے اس روش سے مکمل اجتناب کیا جائے اور صرف محدود افراد جانور خریدنے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ گلی کوچوں میں قربانی کے جانوروں کو نہ گھمایا جائے اور نہ نمائش کی جائے، منڈیوں میں تاجر و خریدار پر ماسک پہننے کی پابندی ہو اور حتی الامکان جسمانی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔

مزید پڑھیں : جانوروں کی خرید وفروخت کے لئے ایس او پیز جلد کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ

مقامی حکومتیں 8 سے 15 ذوالحجہ کو جراثیم کش ادویات کے مستقل اسپرے کا انتظام کریں اور قربانی کے ایام کے اختتام کے بعد چونے کے چھڑکا کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی وزرا نے ہماری اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے گزشتہ سال کا اجازت نامہ اس سال بھی قانونی تصور ہو اور نیا اجازت نامہ لینے کی پابندی نہیں ہوگی اور اس کی تجدید کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جو حضرات نیا اجازت نامہ لینا چاہتے ہوں وہ قانون کے مطابق اجازت لیں، ممنوعہ تنظیموں کے نام حکومت ہر سال مشتہر کرتی ہے اس سال بھی کر سکتی ہے۔

اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے قائدین نے کہاکہ قربانی کے حوالے سے ہمارے سندھ حکومت کے ساتھ تمام معاملات طے ہوچکے ہیں اور یہ وہ معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) ہیں جنہیں وفاقی حکومت کو پورے ملک کے لیے نافذ کرنا چاہیے۔ ہم مکمل تعاون کریں گے اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس کی تشہیر کریں گے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے۔

مزید پڑھیں : ڈیری فارمرز نے پنجاب اور سندھ کی مویشی منڈیاں‌ کھولنے کی اجازت مانگ لی

انہوں نے کہاکہ لوگ اجتماعی قربانی کو ترجیح دیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قربانیاں شریعت کے مطابق کی جائیں تو وہ مساجد، مدارس، دینی و فلاحی تنظیموں کو ترجیح دیں، اس معاملے میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے جیسے پہلے کراچی میں ہوتا تھا اور آج لوگ اپنی مالی عبادات کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے میں آزاد ہیں۔

اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے مندر کی تعمیر کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت جو ریاست مدینہ کی دعویدار ہے، کیا ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جائیں گے، لہذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ فوری طور پر اس اقدام کو واپس لے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، وہ اپنی عبادت گاہوں میں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں اور اپنی زمین پر اپنی مرضی سے عبادت گاہ بنا سکتے ہیں، لیکن اسلام کی تاریخ میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ مسلم حکومت نے بت کدا بنایا ہو، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ مسلمانوں کے جذبات کی پاسداری کرے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close