گسٹا مہیسر کا مشرف علی کو انتظامی عہدہ دینے پراحتجاج کی دھمکی

گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا ) مہیسر سندھ نے سبجیکٹ اسپیشلسٹ کو ڈائریکٹر سکینڈری اسکولز کراچی کی جانب سے انتظامی عہدہ دینے کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے کرنے کی دھمکی د ی ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممتاز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول لانڈھی ہائیر کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ مشرف علی کو غیر قانونی طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایڈمنسٹریٹر مدارس تعینات کیا گیا۔

گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن( گسٹا) مہیسر گروپ کے رہنمائوں سجاد علی صدیقی ، اقبال چنہ ، عبدالحفیظ مہر و دیگر نے ایک بیان میں ایسوسی ایٹ پروفیسر مشرف علی کو فوری طور پر معطل کر کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے خلاف ورزی کرنے والے ڈائریکٹر سکینڈری اسکولز کراچی حامد کریم کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا.

مزید پڑھیں : سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کا محکمہ تعلیم سے مطالبہ

ان کا کہنا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر چیف سیکریٹری سندھ سیکریٹری سروس نے 2014 میں صوبے کے اون پی اینڈ اون اسکیل ( او پی ایس ) پر کام کرنے والے تمام سرکاری افسران کو ہٹا دیا ہے، مگر ڈائریکٹر سکینڈری اسکولز کراچی نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف سیکریٹری سندھ کے احکامات کی کھلی عام خلاف ورزی کرکے ایک ایس ایس کیڈر کے اسکول ٹیچر کو ڈائریکٹر سکینڈری اسکولز میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایڈمنسٹریٹر مدارس کے عہدے پر تعینات کررکھا ہے.

مشرف علی کو غیر قانونی طور پر دو سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول الائونسز و دیگر مراعات سے نوازا جا رہا ہے ، انہوں نے مشرف پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے سال 2012 میں غیر قانونی طور پر بھرتیاں کرنے میں ملوث ہونے پر 6 سال کیلئے بھی معطل کیا گیاتھا اور سیکریٹری تعلیم اسکولز نے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

مزید پڑھیں : حکومت سندھ کی 25 لاکھ تنخواہ پر تعلیمی ادارے میں ڈائریکٹر رکھنے کی تیاری

مگر مشرف علی کوسیکریٹری تعلیم اسکولز کے شوکاز نوٹس کا جواب دیئے بغیر بحال کر دیا گیا ، اس کی بھی انکوائری کی جائے ، گسٹا مہیسر گروپ نے کہا کہ اگر سبجیکٹ اسپیشلسٹ مشرف علی کو ڈائریکٹر اسکولز سکینڈری کراچی سے فوری طور پر نہ ہٹایا گیا تو ہم کراچی پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *