ملک مسکین کا تاریخی کارنامہ !

گلگت بلتستان کے عظیم قابل فخر فرزند ملک محمد مسکین صاحب بھی ہم میں نہیں رہے۔

تحریر:عبدالجبارناصر

آہ!!

ایک بہترین سیاست دان، ادیب ، مقرر شعلہ بیان ، پارلیمنٹیرین، ماہر قانون، دانشور، جرگہ دار اور صالح انسان، جرات و بہادری بھی فی زمانہ مثالی ، حق کے لئے ڈٹ جائیں تو کوہ ہمالہ کی طرح !

گفتگو میں کمال مہارت، عقلی اور علمی دلیل سے قائل کرنے کا بہترین سلیقہ۔ فلسفہ پر گرفت ، عالمی، مقامی اور علاقائی حالات اور تاریخ پر گہری نظر۔

گلگت بلتستان کے عظیم قابل فخر فرزند ملک محمد مسکین صاحب بھی ہم میں نہیں رہے۔

مزید پڑھیں : گلگت بلتستان کے باسیوں کی NOC اور کریڈٹ کی جنگ

کئی بار مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا اور کئی امور پر ملک صاحب سے مستفید ہوئے۔

2009 میں گلگت بلتستان آرڈر 2009 پر ایک طویل مضمون(روز نامہ اسلام کے ادارتی صفحے میں 56 اقساط ) لکھنے کے دوران ایک جگہ بات سمجھنے میں بہت دشواری ہوئی، کئی ماہرین اور پارلیمنٹیرینز سے رابطہ کیا مگر تشفی نہیں ہوئی۔

غالبا ًمحترم سابق صوبائی وزیر اطلاعات گلگت بلتستان اور ادیب عنایت اللہ شمالی صاحب نے کہا کہ اس قانونی نکتے پر محترم ملک محمد مسکین صاحب ہی آپ کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔

فون پر رابطہ کیا مگر نمبر بند تھا، مجبوراً ایس ایم ایس کرنا پڑا اور دوسرے دن ملک صاحب نے خود رابطہ کیا کہا کہ میں جس علاقے میں تھا وہاں فون کے سگنل نہیں آتے ہیں اور ابھی چلاس کی جانب جا رہ اہوں تو آپ کا ایس ایم ایس موصول ہوا۔

خیر تو ہے نا؟

مزید پڑھیں : کراچی سے ساڑھے 3 ہزار افراد کی گلگت بلتستان واپسی شروع ہو گئی

ملک صاحب نے قانونی نکتہ سمجھاتے ہوئے کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل کو پڑھ لیں آپ کو مدد ملے گی، غالباً مجموعی گفتگو تین سے چار منٹ رہی اور تشفی ہوئی۔اگرچہ ہماری ملاقات ایک ہی بار ہوئی مگر گلگت بلتستان کے ایشوز پر اکثر رابطہ رہتا۔

تین بار ناردرن ایریاز کونسل اور اسمبلی کے ممبر رہے اور 2004 سے 2009 تک گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر رہے۔

اللہ تعالیٰ ملک صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

ملک محمد مسکین کا گلگت بلتستان کے لئے تاریخی کارنامہ!!

ملک محمد مسکین مرحوم گلگت بلتستان کے پہلے شخص ہیں جنہوں نےریاست جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تعلق اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق عملی قانونی جدوجہد کا آغاز کیا۔ 16اکتوبر 1990ء کوآزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ موقف اختیار کیاکہ ’’شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور ان علاقوں کی ریاست جموں وکشمیر سے علیحدگی غیر قانونی ہے۔ ان علاقوں کے عوام کو آزاد کشمیر کی حکومت، اسمبلی، کونسل اور دیگر اداروں میں نمایندگی کے علاوہ بنیادی اور سول حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور یہ کہ ان علاقوں میں کسی قانونی جواز اور حق کے بغیر ہی حکومت کی جارہی ہے‘‘۔

مزید پڑھیں : لالو کھیت سے لیاقت آباد تک

آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے 8مارچ 1993ء کو فیصلہ سنایا اور حکم جاری کیا کہ ’’آزاد کشمیر گورنمنٹ فوراً شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) کا حکومتی نظام سنبھالے اوراس مقصد کے حصول کے لیے حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت کی مناسب مدد کرے۔ خطے کے باشندے آزاد جموں کشمیر ایکٹ 1974ء کے تحت حاصل بنیادی حقوق سے استفادہ کریں گے۔ انہیں آزاد کشمیر کی حکومت، اسمبلی، کونسل، سول انتظامیہ اور دوسرے قومی اداروں میں نمایندگی دی جائے‘‘۔آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جسٹس منظور گیلانی نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔

سردار عبدالقیوم خان مرحوم کی سربراہی میں آزاد کشمیر حکومت نے پاکستانی حکومت کے شدید دبائو پر سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں اپیل دائر کی اور عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گلگت بلتستان کے علاقے ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہیں لیکن آزاد کشمیر کے 1974ء کے عبوری آئین کے مطابق یہ علاقے ( گلگت بلتستان )آزاد جموں کشمیر کاحصہ نہیں ہیں۔ قانونی جنگ ملک صاحب مرحوم جیت گئے اور اس کے بعد میں دیگر لوگوں کو بھی حوصلہ ہوا اور مزید قانونی جدوجہد شروع ہوئی۔

مزید پڑھیں : گلگت بلتستان کے محسن صحافی حبیب الرحمن کی طبی موت یا قتل ؟

1994ء میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان دوآئینی درخواستیں دائر ہوئی،جن میں الجہاد ٹرسٹ راولپنڈی بذریعہ حبیب الوہاب ایڈووکیٹ راولپنڈی ودیگر نو افراد (جن کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے)کی آئینی درخواست نمبر 11آف 1994ء اور محترمہ فوزیہ اسلم عباس سابق ممبر این اے کونسل وغیرہ کی طرف سے آئینی درخواست نمبر17آف 1994ء تھیں۔سپریم کورٹ نے 28مئی 1999ء کو اپنے فیصلے کے تحت پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ 6 ماہ کے اندر ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں ان کے اپنے منتخب نمایندے حکومت چلائیں اور وہاں عوام کو خود مختار عدلیہ کے ذریعے انصاف تک رسائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 1999ء کے بعد 3مرتبہ حکومت اصلاحاتی پیکیج دینے پر مجبور ہوئی۔

خلاصہ یہ ہے کہ آج گلگت بلتستان میں جیسا تیسا انتظامی یا مبینہ صوبائی نظام ہے اس کا کریڈٹ ملک محمد مسکین مرحوم کو جاتاہے ۔ ملک صاحب آزاد کشمیر ہائی کورٹ نہ جاتے تو آج بھی ہم ایف سی آر میں ہوتے۔

مزید پڑھیں : سال کے 12 ماہ، پاکستان میں سیاحت کیلئے کب ، کہاں جاسکتے ہیں؟

سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر مقدمات کی راہ ہموار ملک صاحب کی درخواست پر آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے نے کی اور بظاہر اگرچہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کی جانے والی درخواستیں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جوابی وار تھا مگر ان مقدمات سے بھی بہتری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

مذکورہ مقدمے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی بادی النظر میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کی تائید کی اور گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا۔

ملک صاحب کے تاریخی مقدمہ اور فوزیہ سلیم صاحبہ اور دیگر مقدمات کو نئی نسل کے لئے کتابی شکل میں اردو اور انگریزی میں شائع کرنا ضروری ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close