سیاسی ممبران اور غریب عوام

حکومتی وعدے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

تحریر : اکرام الدین

سیاست کے معنی جھوٹ بولنا ہے کیونکہ سیاست دان عوام کے ساتھ جھوٹ پر مبنی دعوے کر رہے ہیں سیاستدانوں نے ہمیشہ ووٹ کے وقت غریب عوام کو دھوکہ دیا ہے، انہیں چند پیسوں کا لالچ دیا ہے اپنے ہی عوام کو اسکول، کالج، پارک، ہسپتال،اور دیگر مراعات دینے اور بنانے کا لالچ دیا ہے لیکن جب ان بے غیرت، بے ضمیر، غنڈہ گرد، سیاستدانوں کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کا موقع ملتا ہے تب اپنے ہی عوام کے نام پر پیسہ کماتے ہیں جو عوام کے ساتھ ظلم و بربریت ہے۔

کیا ایک اسلامی ریاست میں یہ سب جائز ہے جو پاکستان جیسے عظیم اسلامی ملک میں ہوا ہے اور ہو رہا ہے پاکستان کی آذادی کیلئے ہمارے ابا و اجداد اور ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ عوام ہمیشہ یاد رکھیں گئیں اج کے سیاستدان ملک کے وفادار نہیں بلکہ ملک لوٹنے اور اپنے لئے پیسہ کمانے والے سیاستدان ہے جو کبھی بھی ملک کے وفادار نہیں ہو سکتے بلکہ ملک کے غدار ہے عظیم اور اسلامی ملک کیلئے عظیم ترین ایماندار اور دیانتدار سیاسی شخصیات کی ضرورت ہے نہ کہ ملک کے غاروں کی۔ ملک کی بہتری کیلئے بہتر سیاسی شخصیات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ قابل سیاسی شخصیات کی بہتر کارکردگی سے پاکستانی ادارے، حکومت پاکستان، اور ریاستی ادارے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا عمران کی حکومت خطرے میں ہے؟

ملک بھر میں جو خون خرابہ اور انتشار جاری ہے اس میں خود حکومت وقت ملوث ہے خیبر پختون خواہ کے اندر غریب عوام کے ساتھ جو ظلم و ستم و نا انصافی ہو رہی ہے کرونا وائرس کے نام پر جو ملکی عوام کو مار رہے ہیں یہ سب صوبائی و مرکزی حکومت کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور خیبر پختون خواہ کے بے ضمیر وزیر اعلی محمود خان کی غلط پالیسوں کی وجہ سے صوبہ خیبر پختون خواہ کے عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں موجودہ حکومت کی وجہ سے عوام فاقہ کشی پر مجبور ہیں اس وقت ملکی عوام روزگار سے محروم ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے جو ملکی عوام کے ساتھ وعدے کیے تھے وہ کب پورے ہونگے؟ وہ 1 کروڑ نوکریاں نوجوان نسل کو کب ملے گیں؟ عمران خان صاحب وہ ریاست مدینہ کب بنے گا جو اپ نے ملکی عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟

مزید پڑھیں: گھبرائیں نہیں، ہم نوٹس لیں گے : مفتی تاج الدین ربانی

ابھی تک ریاست مدینہ نہیں بنا لیکن ملک بھر میں غریب عوام کے ساتھ ظلم و ستم و نا انصافی جاری ہے ملک بھر میں ہر طرف انتشار اور ظلم کا بازار گرم ہے جن میں صرف عوام ہی مر رہی ہے عوام فاقہ کشی پر مجبور ہے۔

صوبائی و مرکزی حکومت کی ایسی غلط پالیسیاں اور ضابطے ہم نہیں مانتے حکومت کو چاہیے کہ عوام کی طرف توجہ دینے میں اہم کردار ادا کریں تا کہ عوام کو ریلیف مل سکے اج کے سیاسی قائدین و ممبران اسمبلی عوام کو ریلیف کے بجائے خوار وذلیل کر رہی ہیں جو افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے نام پر حکومت پاکستان پیسہ کما رہی ہے وزیر اعظم پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاون کی ہدایت جاری کی، جن کی وجہ سے غریب عوام روزگار سے متاثر ہوئے، کاروباری حضرات کا روزگار بند ہوا، جن کی وجہ سے کاروباری حضرات اور دیگر مزدور حضرات ذہنی بیماریوں کا شکار ہوگئے۔

مزید پڑھیں: ہاں میں ایک مزدور ہوں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ، سے گزارش ہے کہ اللہ تعالی کے غضب سے ڈریں اور ملکی عوام کے ساتھ اپ سیاسی لوگوں نے جو ظلم و ستم شرور کیا ہے اس ظلم و ستم کو جلد از جلد بند کریں۔ کرونا وائرس کے نام پر اپنے ہی غریب عوام مر رہے ہیں اور اپ اپنے لئے پیسہ کما رہے ہیں جو انسانیت کی توہین ہے۔

کیا انسانیت نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ انسانیت کو قتل کرے اور مرنے والوں پر پیسہ کمائیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان، وزیر داخلہ برگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ سے درخواست ہے کہ اللہ تعالی کی عضب و قہر سے ڈریں اور ملکی عوام کے ساتھ جاری ظلم بند کرے اور کرونا وائرس کے نام پر جاری عوامی قتل عام بند کرے کیونکہ اللہ کے طرف ایک دن لوٹ کر جانا بھی ہے پھر کیا جواب دیں گے۔

پشاور کے رہائشی عامر تہکالے پر پولیس کے طرف سے تشدد اور پولیس کی طرف سے انکی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ ہے کہ خیبر پختون خواہ میں جو انتشار جاری ہے اسکے اصل زمہ دار وزیر اعلی محمود خان ہیں کیونکہ انہوں نے ابھی تک کسی ظلم کے خلاف ایکشن نہیں لیا نہ خیبر پختون خواہ میں ابھی تک کسی مظلوم کو انصاف ملا جو تحریک انصاف پارٹی کیلئے باعث شرم ہے۔

مزید پڑھیں : کراچی کے عوام کے مسائل کا علم ہے: وزیراعظم عمران خان

عمران خان سے مطالبہ ہے کہ وزیر اعلی محمود خان کو صوبائی کابینہ سے فارغ کریں اور ان کی جگہ کسی صوبائی کابینہ کے ایماندار ممبر کو وزیر اعلی منتخب کیا جائے اور ان کے ساتھ ساتھ ائی جی پی خیبر پختون خواہ ثناء اللہ عباسی کو بھی عہدے سے ہٹا دیا جائے کیونکہ وہ ایک سیاسی جماعت کا بندہ ہے وہ کسی ظلم کو ظلم نہیں مانتا اس ظالم افسر کو برطرف کیا جائے اور ان کے ساتھ جتنے پولیس کے اعلی افسران سیاسی جماعتوں سے وابسطہ ہیں اور دیگر وارداتوں میں بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان ایکشن لیں اور انکو نوکریوں سے فارغ کیا جائے تا کہ عوام کو درپیش مسائل و مشکلات حل ہو سکیں اور خیبر پختون خواہ میں عوام اور پولیس، کے درمیان جو انتشار جاری ہے تا کہ اسکا خاتمہ بھی ہو سکے عامر تہکالے واقعے کی وجہ سے عوام کے دلوں میں پولیس سے نفرت پیدا ہوئی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close