وہ 10 سیکنڈ جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تھا اس وقت پاکستان کی اہمیت دنیا میں کئی سو گنا بڑھ گئی تھی

تحریر : عابدہ رحمانی

پاکستان اور اہل پاکستان ہر سال یوم تکبیر مناتے ہیں‌، ٢٨ مئ ١٩٩٨ کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے آپ کو اسلامی ایٹمی قوت کے طور پر منوا لیا تھا۔ وقت کا پہیہ بہت تیزی سے گھوم گیا ایٹمی دھماکوں کا سہرە باندھنے والے میاں نواز شریف اسوقت بر سر اقتدار تو نہیں، تاہم انہوں‌ نے تین مرتبہ اس ملک پر حکمرانی کی ہے، جو ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں بھی یقینا ایسا قانون لاگو ہونا چاہیے کہ اقتدار کا دورانیہ زیادە سے زیادە دو مرتبہ تک محدود کر دیا جائے۔ جیسا کہ امریکہ میں ہے تاکہ نئی قیادت اور رہنماؤں کو آزمایا جائے۔ اللہ کرے کہ میاں صاحب اقتدار کی مدت بحسن و خوبی پوری کریں اور پاکستان کے لیے ایک خوش آئند اور نیک فال ثابت ہوں ۔

پاکستانی ایٹمی قوت کے باواآدم بجا طور پر ذوالفقار علی بھٹو ہیں جنہوں نے پاکستان کی حفاظت ایٹمی قوت بننے میں ہی جانی اور کہا،”ہم گھاس کھا لینگے لیکن ایٹم بم ضرور بنائینگے “اس لیۓ اب ہمیں گلہ نہیں کرنا چاہیۓ کہ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہمار ے گونا گوں معاشی ، اقتصادی اور سب بڑھ کر توانائی کے مسائیل کیوں ہیں- اسکے بعدبھٹو صاحب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے دریافت کرکے لاۓ اور باقی ایک زندە تاریخ ہے ۔

28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کی زندگی میں بہت اہمئیت کا حامل ہے کیونکہ آج پاکستان نے ایک طویل جد و جھد اور قربانیوں کے بعد اپنے آپ کو ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا سے منوالیا -اس دھماکے کے بعد جہاں پاکستا نیوں کا سر فخر سے بلند ہوا وہاں انکو مزید بندشوں اور قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جو ایٹمی قوت بن سکا ہے اور ابتک واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی قوت سے مالا مال ہے۔ اس سے پہلے عراق نے کوشش کی تھی لیکن اسکا ایٹمی ری ایکٹر اسرائیل نے فضائی حملہ کرکے منٹوں میں تباہ کردیا- لیکن دوسری طرف ہمارے اس دھماکے اور ایٹمی طاقت بننے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہمارے دائمی حریف بھارت کی جارحیت میں کچھ حد تک کمی آئی ہے، وہ صرف پاکستان کے خلاف گیدر بھپکیاں تو دیتا ہے لیکن حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی. کیونکہ اگر مد مقابل برابر کا ہو تو ہوش ٹھکانے رہتے ہیں-حالانکہ باقی دراندازیان اور چالیں جاری ہیں-

مذید پڑھیں : فیمنزم یا عورتوں کی تحریک کیا ہے؟

ایران اس صف میں شامل ہونے کی کوشش میں ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے-ایٹمی طاقت ہونا جہاں ایک ملک اور قوم کی طاقت اور مضبوطی کی علامت ہے وہاں اس کرہ ارض، ہماری دنیا اور انسانیت کی تباھی و بربادی کے لئے ایک مہلک ترین ہتھیارہے- شائد کرہ ارض پر قیامت اسی ایٹمی تباہ کاری کے نتیجے میں آئے اور پورے کرہ ارض کو نیست و نابود کر کے رکھ دے- انسان نے اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کر رکھاہے -اب ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ اسرافیل صور لئے ہوئے تیار کھڑا ہے اور نمعلوم کب نفخالاولیٰ کا وقت آجائے اور اسکے بعد ہی محشر بپا ہو-

چند برس پہلے امریکی ریاست نیو میکسیکومیں البقرقی کے مقام پر کرک لینڈ ایرفورس بیس میں ایٹمی عجائب گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا-یھاں ان ایٹم بموں کے ماڈل دیکھے جو ہیرو شیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے تھے-ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے متعلق ایک فلم بھی دیکھی ” وہ دس سیکنڈ جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا”

پولینڈ کی مادام کیوری وہ پہلی سائنسدان تھی جنہوں نے ریڈئم کو سرطان کے علاج کے لئے استعمال کیا -انکے بعد انکی بیٹی بھی اس شعبے میں آیئں اس پر مزید تحقیق ہوتی رہی- دوسری جنگ عظیم کے دوران یورینئم کی افزودگی پر کام ہوتا رہا -یورو پین اور جرمن سائنسدان ہٹلر اور مسولینی سے عاجز آکر امریکہ روانہ ہوگئے، ان میں مشہور سائنسدان البرٹ آئین سٹائن شامل تھے یوں 1938 اور 39 میں امریکہ سائنسدانوں کا مرکز بن گیا- البرٹ آئن سٹائن پہلے تو حکومت امریکہ کے لئے ایٹمی تحقیق کرنے سے انکار کیا- اسکے نتیجے میں امریکی صدر روزویلٹ نے انہیں قید کیا، بعد ازاں وہ راضی ہوئے اور یون تحقیقی کام شروع ہوا- انکے ساتھ کولمبیا یونیورسٹی کے نوبل یافتہ کیمیا دان اور مشہور سائنسدان شامل تھے – ان پناہ گزیں سائنسدانوں کے اشتراک سے میں ہٹن پروجیکٹ کا آغاز ہوا-

مذید پڑھیں : مندر کی تعمیر اور حکومت کے موقف کی شرعی حیثیت

16 جولائی 1945 کو امریکہ نے لاس الاموس، نیو میکسیکو میں پہلا ایٹمی دھماکہ ٹرینیٹی کے نام سے کیاجب تجرباتی طور پر پہلی مرتبہ ایٹم بم کا دھماکہ ہوا تو بے انتہا خوشیاں منائی گئیں- اسطرح دنیا ایک نئے ایٹمی عھد سے روشناس ہوئی اور امریکہ کو دنیا میں بالادستی حاصل ہوئی- اس دہھماکے کے بعد امریکہ نے اپنےپہلے دو ایٹم بم بنائے- اگرچہ امریکہ ایٹمی قوت بن چکا تھا اور دنیا کو اسکی مہلک تباہ کاریوں کا اندازہ بھی تھا لیکن پھر بھی کوئی قوم ذہنی طور یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نھیں تھی کہ یہ گھناؤنا تجربہ اسکے اوپر اسے آزمایا جائے گا-

دوسری جنگ عظیم آخری مراحل میں تھی کہ امریکہ اسپر بضد ہو گیا کہ وہ پرل ہاربرکے حملے کا بدلہ لے کر جاپان کو مزا چکھانا چاہتا ہے-اسوقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے جاپان پر ایٹم بم برسانے کی دستاویز پر دستخط کر دئے دو بی -29 بمبار جنکے نام اینولائے گے اور بوک اسکار تھے ایٹم بموں کو لے کر جاپان کی طرف روانہ ہوئے اسوقت امریکہ کے سپہ سالار جنرل آئزن ہاور تھے-

16 اگست 1945 کی بد قسمت صبح تھی امریکہ میں صبح کی چہل پہل تھی سان ڈیئاگومیں ایک مرین ڈویژن جاپان پر قبضے کی تیاری کر رہاتھا- اینولائے گے کے پہونچنے سے کچھ دیر قبل تین بمبار طیاروں نے ہیروشیما پر ہلکی بمباری کی. ان جہازوں کے جانے کے بعد آل کلئر کا سائرن بج رہا تھا اینولا گے صبح آٹھ بج کر گیارہ منٹ پر اپنے مقررہ ہدف پر پہونچا، ھواباز نے فیٹ مین کو گرانے کا لیور دبایا- فیٹ مین کو ہیروشیما کی زمین تک پھنچنے میں 43 سیکنڈ لگے، 15 سیکنڈ میں جھاز وہاں سے بحفاظت نکل گیا-بم کے پھٹنے میں دس سیکنڈ لگے-ان دس سیکنڈ میں اتنی بڑی تباہی ہوئی کہ دو لاکھ پچاس ہزار افراد کی آبادی کا یہ شہر صفحہ ہستی سے مٹ گیا، ہیرو شیما کا 67 فیصد حصہ بالکل تباہ ہوگیا-دوسرا بم لٹل بوائے جسے بوک سکار لے کر ناگاساکی گیا تھا اس نے نسبتا کم تباہی مچائی اس کم درجے کی تباھی میں 39 ہزار افراد ہلاک اور 25 ہزار زخمی ہوئے- اس ایٹمی بمباری کے اثرات اتنے شدید تھے کہ چار ہزارمیٹر کے نصف قطرتک لوگوں کے کپڑے جلنے شروع ہوگئے اور ایک ہزار میٹر کے نصف قطر کے لوگوں کے جسم جل کر خاکستر ہوگئے، شھر میں تمام مکانات یا تو جل گئے یا مٹی کا ڈھیربن گئے، دہماکےکی شدت سے لوگ بیس فٹ دور جا گرے-

مذید پڑھیں :‌ میری کورونا کہانی

بمباری کے مرکز سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر موجود لوگ ایک گھنٹے کے اندر ہلاک ہوگئے، تجوریوں میں بند نوٹ اور کاغزات خاکستر ہو گئے- سکول کے بچوں کے ناشتہ دانوں میں کھانا سیاہ اور انکی پانی کی بوتلیں پگھل گئیں-دریاۓ توبسو کے کنارے ہزاروں لوگ پانی پیتے ہوۓ ہلاک ہوۓ – حد درجہ بلند درجہ حرارت سے بچ جانے والوں کو سردی نے آگھیرا اور سخت سردی سے ٹھٹھر گئے -شہر کے شمال مغرب میں کالی بارش ہوئی اس بارش سے تمام آبی جانور ہلاک ہوۓ تابکاری کے اثرات سے پتھروں پر انسانی تصویریں ابھر آئیں –تابکاری کے اثرات کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بہی نسل در نسل چلے آ رہے ہیں-

اس تباہی کے بعد جاپان نے اپنی شکست کا اعتراف کیا 2 ستمبر 1945 کو ٹوکیو کی بندرگاہ پر کھڑے جنگی جہاز میسوری کے عرشے جنرل میک آرتھر نے جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو سے شکست نامے پر دستخط کروالئے- آج ہیرو شیما پھر ایک ہنستا بستا شہر ہے- یہ ابھی تک اعلانیہ ایٹم بم کا پہلا اور آخری حملہ ہے، اگرچہ عراق اور افغانستان میں کلسٹر اور فاسفورس بموں کا استعمال ہوا اور اب اگر امریکہ چاہے تو ڈرون یا میزائیل کے زریعے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے-

بھارت اور پاکستان نے بھی اپنے میزائیل اس مقصد کے لئے تیار رکھے ہوئے ہیں وہ اپنے ترشولوں اور ہم اپنے حتفوں اور شاہینوں کے فاصلے ناپتے ہیں- اور اب تو ڈرون بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ لیکن نیوکلیائی ھتیاروں کی اس دوڑ میں کیا بنی نوع انسانی کی تباہی بربادی اور ہلاکت کے علاوہ کوئی اور راز بھی پوشیدہ ہے؟

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close