کراچی واٹر بورڈ میں‌ عالمی اداروں کی فنڈنگ کا ناجائز استعمال

اس منصوبے کے تحت ترجیحی بنیاد پر سیوریج کے موجودہ نظام کو بہتر بنانا ہے جس کے لیے نئی لائینیں بچھانا تھی۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ( کے ڈبلیو اینڈ ایس بی ) کے سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ میں عالمی اداروں کی جانب سے دی جانے والی فنڈنگ کے غیر ضروری اور ناجائز استعمال کا انکشاف ہوا ہے.

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی اداروں کی اربوں ڈالر کی فنڈنگ سے شروع کیے جانے والے کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو اینڈ ایس ایس آئی پی ) کے تحت غیر ضروری سکشن پمپ و جیٹنگ مشینوں کی خریداری کی کوشش کا سندھ حکومت نے سخت ایکشن لے کر پروجیکٹ ڈائریکٹر سے جواب طلب کرلیا ہے جبکہ ان مشینوں وغیرہ کی خریداری کے عمل کو روک دیا گیا ہے۔

ذرائع نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ کے پی ڈی نے منصوبے کے لیے مذکورہ جیٹنگ مشینوں و سیکشن پمپس کی خریداری کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت بھی طلب نہیں کی تھی اور نہ ہی پروجیکٹ کے تحت ترجیحی بنیاد پر ان مشینوں کی خریداری کا پروگرام تھا۔

مزید پڑھیے: واٹر بورڈ عیدی بنانے کیلئے 72 انچ کی لائن پھاڑ دی گئی

واضح رہے کہ ماہ فروری میں کے ڈبلیو اینڈ ایس ایس آئی پی نے 14 پیئرز سیویج سیکشن اینڈ جیٹنگ ٹرکس عالمی اداروں انٹر نیشنل بنک فور ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ ( آئی بی آر ڈی ) اور ایشین انفرااسٹریکچر انویسمنٹ بینک ( اے آئی ائی بی ) کے قرضے سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے نظام کی بہتری کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ترجیحی بنیاد پر سیوریج کے موجودہ نظام کو بہتر بنانا ہے جس کے لیے نئی لائینیں بچھانا تھی۔

تاہم واٹر بورڈ کے متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے جیٹنگ مشینوں و سیکشن پمپس کی خریداری کے لیے ٹینڈرز طلب کیے جو دس مارچ کو کھولے جانے تھے۔

مزید پڑھیے: واٹر بورڈ عیدی بنانے کیلئے 72 انچ کی لائن پھاڑ دی گئی

ذرائع نے بتایا کہ حکومت سندھ کے محکمہ پلاننگ کمیشن بورڈ نے پروجیکٹ کے لیے غیر ضروری طور پر ترجیحی بنیادوں پر مذکورہ خریداری کا نوٹس لیا اور واٹر بورڈ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے اس بارے میں وضاحت طلب کی جس پر ٹینڈرز کھولنے کے عمل کو منسوخ کر دیا گیا۔

حکومت نے کے ڈبلیو اینڈ ایس ایس آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے اس بارے میں وضاحت بھی طلب کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر پروجیکٹ کے بدعنوان عناصر مذکورہ خریداری کرکے پروجیکٹ کے مختلف حصوں میں کرپشن کرنے کے لیے یہ کارروائی شروع کی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو گزشتہ سال ہی حکومت سندھ نے 20 جیٹنگ مشین و سیکشن پمپ کے پیئر حوالے کیے تھے جو بہترین حالت میں موجود ہیں اور واٹر بورڈ مسلسل انہیں نکاسی آب کے امور کی بہتری کے لیے استعمال بھی کرتا ہے۔ ان مشینوں پر حکومت نے 450 ملین روپے خرچ کیے تھے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close