سندھ میں خون کی تجارت کا دھندا عروج پر

‎سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کے کمرے سے برامد شراب کی بوتلوں کا منہ سے کیمیائی تجزیہ کرنے والے ڈاکٹر زاہد انصاری کی غفلت سے لاڑکانہ میں متعدد افراد ایڈز میں مبتلا ہو گئے تھے لیکن اس وقت زاہد انصاری کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی کیونکہ ان کے سسر ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں جن کے اثر رسوخ نے ڈاکٹر انصاری کو معطلی سے بچا لیا تاہم اب شرجیل میمن کے معاملے میں پیپلز پارٹی کی مدد اور منہ سے کیمیائی تجزیے نے انہیں پھنسا دیا جس پر چیف سیکریٹری سندھ میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے ڈاکٹر انصاری کو معطل کر دیا ۔ ان کو کیمیکل ایگزامنر ، ڈائریکٹر لیبارٹریز اور سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے عہدے سے بھی معطل کر دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں اس وقت خون کی تجارت کا دھندا عروج پر ہے اور غیر محفوظ انتقال خون سے سینکڑوں بچے ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں جب کہ درجنوں افراد روزانہ مختلف امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ متاثرہ خون کا لگنا ہے ۔ پورے سندھ میں لاتعداد غیر رجسٹر اور غیر معیاری بلڈ بینک چل رہے ہیں جن کی وجہ سے لاڑکانہ میں درجنوں افراد ایڈز میں مبتلا ہوئے لیکن ان بلڈ بینکوں کو بند کرنے میں ڈاکٹر زاہد انصاری ناکام رہے ۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر انصاری ان بلڈ بینکوں سے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت وصول کرکے انہیں خون کی تجارت کے مکروہ دھندے کی اجازت دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر زاہد انصاری کی معطلی پر صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو عوام کے لئے بہترین قرار دیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *