ابھرتے ترکی سے عرب ممالک کی پریشانی کیوں ۔؟

دوسری اور آخری قسط

عرب ترکی بالخصوص صدر اردوغان کی پالیسیوں سے خائف کیوں ہیں ۔؟ اس حوالے سے ماہرین کی نظر میں سب سے اہم سبب بوزقورت نظریہ ہے ۔

آپ کے علم میں ہوگا ۔ ترکی میں براون بھیڑیا (Ülkü Ocakları) نامی ایک تنظیم سرگرم ہے ۔۔ یہ ترک قوم کی سپرمیسی اورعظمت کی قائل تنظیم ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ گریٹر ترکی کے نام سے توران نامی اسٹیٹ قائم کرے گی جو ترکوں کے آبا واجداد کی یادگار ہوگی۔۔براون بھیڑیا انتہائی متشدد نسل پرست نظریات کی حامل ہے ۔ اس کے کارکنوں کو براون بھیڑیا کہا جاتا ہے۔

گریٹر ترکی کے لئے سرگرم براون بھیڑیا کا نام عالمی سطح پر نسل پرستانہ متشدد تنظیموں کی لسٹ کاحصہ ہے ۔براون بھیڑیا خونریز بھی ہے ۔ یہ غیر ترکوں بالخصوص کردوں ، عربوں ،آرمینیوں اور دیگر متعدد اقوام کی شدید ترین مخالف بلکہ خون کی پیاسی ہے ۔

مزید پڑحیں: ابھرتے ترکی سے عرب ممالک کی پریشانی کیوں ؟

نسل پرستانہ نظریات کے سبب برائون بھیڑیا 1974 سے 1980 کے درمیان ترکی میں نسلی مخالفین کے قتل وغارت کی 694 وارداتیں کر چکی ہے ۔ان حملوں اور وارداتوں میں 6 ہزارغیر ترک مارے جاچکے ہیں ۔
عالمی اداروں کے مطابق اس کے جرائم اوروارداتوں کا دائرہ ترکی تک محدود نہیں ہے بلکہ ترکی سے باہر بھی متعدد ممالک میں یہ تنظیم مخالفین کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارنے میں ملوث رہی ہے ۔

تحقیقات کے مطابق برائون بھیڑیا نے اس وقت ترکی کے مختلف علاقوں میں 100 تربیتی مراکز قائم کررکھے ہیں جہاں انتہاپسند دہشت گردوں کو تربیت کے بعد دنیا کے ان ممالک میں مخصوص اہداف دے کر بھیجا جاتا ہے جہاں ترکی النسل لوگ آباد ہیں ۔تحقیقاتی اداروں کے دعوی کے ان ممالک میں چینی سنکیانک ، آرمینیا ، بوسنیا سمیت مشرقی یورپ کے بلقان ممالک ، عراق، شام ،فلسطین ،آذربائیجان ،افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے سرفہرست ہیں ۔

عالمی سفارتی مراسلوں کے مطابق اب تک اس تنظیم کے نسل پرست عناصر پر جن ممالک میں جاری لڑائیوں میں حصہ لینے کا الزام ہے ان میں آرمینیا ،یونان ،قبرص، آذربیجان اورچینی صوبہ سنکیانگ کے نام سرفہرست ہیں ۔

براون بھیڑیا کی بنیاد ساٹھ کی دہائی میں ترک آرمی کے ایک سابق کیپٹن الب ارسلان تورکیش نے ترکی کی سیاسی جماعت نیشنل موومنٹ پارٹی کی مسلح ونگ کے طورپر رکھی تھی ۔
’’نیٹو کی خفیہ لشکریں ‘‘ نامی کتاب کے سوئس مصنف نے لکھا ہے کہ کیپٹن تورکیش نسل برستی کا قائل تھا بالخصوص وہ ترک سپرمیسی کا سرگرم اورپرزور داعی تھا ۔
کیپٹن الب ارسلان تورکیش کا ستارہ 1944 میں اس وقت چمکا جب اس نے ترکی میں کمیونزم کے خلاف مظاہرہ کرایا ۔ وہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کی نظروں میں آگیا اور امریکی گڈ بک میں شامل ہوگیا .اس پر مہربانیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا .

مزید پڑحیں: ترکی اور یورپ کے مابین معاہدہ لوازن کا اختتام 2023 میں‌ ہو سکے گا ؟

کچھ عرصے بعد اسے اسے نیٹو فورس میں ذمہ داری دیکر امریکہ بھیج دیا گیا جہاں اس نے 1955 تا 58 تک ذمہ داری نبھانے کی آڑمیں امریکی وزارت دفاع پینٹاگون اور سی آئی اے کے فیصلہ سازوں کے ساتھ ساتھ مضبوط روابط استوار کرلئے ۔

تورکیش نے امریکہ سے واپس آنے کے بعد عدنان مینڈریس کے خلاف ہونے والی بغاوت اور بعدازاں ان کی پھانسی میں کلیدی کردار ادا کیا ۔بغاوت کے بعد تورکیش نے آئین اورقانون کے بجائے ایک مکمل نسل پرستانہ نظام حکومت کے قیام کے لئے کوششیں کیں مگر دیگر فوجی افسران کی مخالفت کے باعث بیل منڈیر نہیں چڑھی ۔

تورکیش کے انتہاپسندانہ خیالات سے بچنے کے لئے اسے بھارت میں ترک ملٹری اتاشی بنا کر بھیج دیا گیا ۔ انڈیا سے واپسی پر 1963 میں تورکیش نے طلعت اڈیمیر نامی ایک دوسرے فوجی افسر کے ساتھ مل کر بغاوت کا ایک منصوبہ بنایا مگر ناکامی سے دوچار ہوکر اسے گرفتارکرلیا گیا ۔ تاہم بعدازاں ثبوت وشواہد کے ناکافی ہونے کی وجہ سے اسے رہا کردیا گیا ۔

1965 میں تورکیش نے نیشنل موومنٹ پارٹی تشکیل دیتے ہوئے اس کے عسکری ونگ کے طورپر براون بھیڑیا کی بھی بنیاد رکھی ۔ تاکہ سیاست کے ساتھ ساتھ عسکری سطح پر بھی گریٹر ترکی کی مہم کو آگے بڑھایا جاسکے ۔

مزید پڑھیں : کورونا سے بچائو کے لئے کس خاص عادت کو ترک کرنا ضروری ہے

گلوبل سیکورٹی میگزین نے 2016 میں اپنی رپورٹ میں براون بھیڑیا کے نظریات سے متعلق لکھا تھا کہ تنظیم ترکوں کی ایک عظیم ریاست کے قیام کو ایک مقدس فریضہ سمجھتی ہے ۔تنظیم کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں ترک قوم اورترک خون سب سے افضل اور برتر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
ترک قوم پرستوں کی اس نظریاتی انتہا پسندی کے باعث بیشتر عرب ممالک کو ترکی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے ۔۔
1969 میں اتحاد بین المسلمین کے داعی نجم الدین اربکان نے اسلامی طرز سیاست پر پارٹی کی بنیاد رکھی اور پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچ گئے ۔۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گریٹر ترکی نسلی ریاست کے قیام کے نام پر ترک قوم پرست تنظیم نے خونریزی کا بازار گرم کر رکھا ہوا تھا .اس پرآشوب ماحول میں اربکان کی اسلامی اخوت کے نعرے کوعرب ممالک میں غیر معمولی مقبولیت ملی۔

2003 میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کے سربراہ کے طورپر رجب طیب اردوغان ترکی کے وزیراعظم بنے تو عرب ممالک کی قیادت کرنے والے سعودی عرب اورترکی کے تعلقات میں غیرمعمولی بہتری آگئی ۔ 2014 تک سابق سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ نے ترکی کے دو دورے کئے ۔
اس دوران مصر کے واقعہ پرترکی کے موقف سے سعودی عرب اس کے حامی عرب ممالک اورترکی کے درمیان تعلقات میں کسی حد تک تلخی آگئی لیکن معاملہ زیادہ بےلگام نہیں تھا .

متشدد تنظیم براون بھیڑیا اوراس کی سرپرست نیشنل موومنٹ پارٹی شروع میں اسلام پسند آق پارٹی کی مخالف رہی ۔

کیونکی وہ کردوں کے ساتھ مذاکرات اوریورپ کے ساتھ انضمام کی شدید مخالف ہے. 2016 سے قبل جب رجب طیب اردوغان کی پارٹی نے کردوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند کردئے اوریورپ میں انضمام میں ناکامی کے باعث اسلام پسند جماعت نے اپنی خارجہ سیاست کارخ دنیا بھر میں ترک قوموں کی طرف موڑ دیا . نیشنل موومنٹ اوراس کی عسکری ونگ براون بھیڑیا کو یہ پالیسی پسند آگئی .چونکہ سلطنت عثمانیہ کاقیام گریٹر ترکی سے ملتا جلتا منصوبہ ہے دونوں میں ترک بالادستی کا تصور موجود ہے لہذا نیشنل موومنٹ اور براون اسلام پسندوں کے قریب ہونے لگیں.

مزید پڑھیں ارطغرل غازی ۔۔۔ حمایت و مخالفت

.2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد گولن گروپ کے خلاف براون بھیڑیا اور نیشنل موومنٹ آق کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔چونکہ براون بھیڑیا بھی گریٹر ترکی کے قیام کے لئے سرگرم ہے جبکہ صدراردوغان کی جماعت عظیم ترک خلافت عثمانیہ کے احیائے نو کے اشارے دے چکے ہیں جس کے باعث براون بھیڑیا کو آق کے ساتھ اتحاد میں اپنے خواب کی تکمیل نظر آرہی ہے ۔
طیب اردوغان کے مصر والے معاملے پراورالاخوان المسلمون کے پس منظر کے باعث عربوں میں ان کی مخالفت کی چنگاری پہلے سے موجود تھی ایسے میں براون بھیڑیا کی قربت نے جلتی پر تیل کا کام کردیا ۔

2017 کے رینفرنڈم اور بعدازاں 2018 کے صدارتی انتخابات میں نیشنل موومنٹ نے کھل کر صدر اردوغان کی جماعت کے ساتھ اتحاد کرلیا ۔ جس پر برطانوی میگزین ایکونومسٹ نے ’’بھیڑیوں کے ساتھ رقص‘‘ کے نام سے ایک مفصل رپورٹ لکھ کر دنیا کو اس جانب متوجہ کرلیا .
میڈیا اور تھنک ٹینکس نے یہ معاملہ کچھ زیادہ نمایاں کرکے عربوں کو خائف کرناشروع کردیا ۔

ترک صدر کے حوالے سے عرب انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کان اس وقت کھڑے ہوگئے جب مارچ 2018 میں انہوں نے جنوبی شہر مرسین میں ایک مارچ کے دوران براون بھیڑیا کا مخصوص اشارہ بوزقورت کرتے ہوئے دو انگلیاں ہوا میں لہرائیں ۔
معاملہ یہاں تک ہوتا تو شائد حل ہوجا تا . مگر دسمبر 2018 میں آسٹریا نے رابعہ العدویہ اور براون بھیڑیا کے بوزقورت سلوگن پر پابندی عائد کردی ۔جس پر ترک وزارت خارجہ نے میدان میں آکر آسٹریا کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ۔

مزید پڑھیں : قدیم ترک روایات کا آج کے لیے پیغام

اردوغان کے بعد فروری 2020 میں عرب انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا جب شمالی شام کے حلب کے مغرب میں واقع الاتارب نامی علاقے میں آپریشن کے دوران ایک ترک فوجی کی بوزقورت کا مخصوص اشارہ کرکے لی گئی تصویریں منظرعام پر آگئیں۔

فرانسیسی فوٹوگرافر کی بنائی ہوئی اس تصویر نے عرب دنیا میں سنسنی پھیلادی ۔
ان دو واقعات نے ان دعوئوں اور افواہوں کو حقیقت کا روپ بخش دیا جو ترکی میں فری میسن کی خفیہ سرگرمیوں اور نیٹ ورک سے متعلق مشہور ہیں ۔

ان واقعات کے بعد سے انٹیلی جنس ادارے ترکی کو قوم پرستانہ نظر سے دیکھنے لگے ہیں اور شام ولیبیا میں ترکی کی فوجی مداخلت کو اسی تناظر سے دیکھ رہے ہیں.
افریقی ممالک بالخصوص صومالیہ میں ترکی اورعرب ممالک کے درمیان بھی سخت مقابلے کی فضا جاری ہے ۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ترکی اقوام متحدہ کے بعد اسلامی ممالک میں دوسسرا بڑا ڈونر ہے جبکہ اس کے بعد سعودی عرب ہے مگر ترک قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد کو بنیاد بناکر ترکی حکمران اسلام پسند جماعت کے خلاف عربوں میں تشویش ہے ۔
تاہم صدر اردوغان کی اسلام پسند جماعت کے حامیوں کا ماننا ہے کہ اردوغان میں قوم پرستوں کو قابو کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور قوم پرستوں سے ان کا اتحاد ایک وقتی ضرورت ہے جسے ان کے مخالف ممالک ان کے خلاف استعمال کررہے ہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *