بڑے لوگ شاعر کیوں تھے ؟

تحریر : ڈاکٹر مقصود جعفری

نوٹ : ( قارئینِ محترم: بعض علم و ادب سے نابلد افراد شاعری کو کارِ فضول سمجھتے ہیں کیوںکہ یہ اُن کی سمجھ سے باہر ہے۔ یہ لوگ کم نظر اور کم فہم ہوتے ہیں۔)

حضرتِ علی شاعر تھے۔ شاعر باشعور ، حسّاس ، انقلابی اور باضمیر ہوتا ہے۔

چین کا انقلابی قائد موزے تنگ اور ایران کے انقلابی عالم اور رہبر امام خمینی بھی شاعر تھے۔ فرانس کا انقلابی جمہوریت پسند رہنما لامرتین بھی شاعر تھا۔ یہ لوگ زندہ ضمیر لوگ تھے۔ ایران اور انگلستان میں شاعروں اور ادیبوں کا بڑا احترام ہے کیونکہ یہ قومیں اپنی زندہ تاریخ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ داروں اور حکمرانوں کا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اب بھی ذہنی طور پر ایک غلام قوم ہے۔ ہماری اسمبلیوں میں آج بھی جاگیر دار ، سرمایہ دار ، صنعت کار اور رئٹائرڈ نوکر شاہی کے کل پُرزے براجمان ہیں۔ قرآنِ مجید کے سورہ الاعراف میں مرقوم ہے کہ قومِ نوح، قومِ ھود، قومِ صالح، قومِ لوط، قومِ شعیب اور قومِ موسٰی نے اِن انبیاء کو اُن کی تبلیغ کے جواب میں کیا کہا:
“ اِن کی قوم کے سرداروں اور رئیسوں نے کہا: بیشک ہم تمہیں کُھلی گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں”۔

آج کا پاکستان بھی اُسی مقام پر کھڑا ہے جہاں سرداروں اور سرمایہ داروں کی حکمرانی ہے۔ “ پاکستان کے سیاست دان بددیانت، عدلیہ عدل فروش، پولیس راشی، بیوکریسی فرعون، تاجر ذخیرہ اندوز، مولوی فسادی، ادیب بے ادب، شاعر حاشیہ بردار، صحافی بلیک میلر”، ڈاکٹر ڈاکو، وکیل کاذب” ۔ جس قوم کی اکثریت کا یہ حال ہو اُس کا خدا “ ہی” حافظ ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
مری نواۓ پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرمِ رازِ درونِ میخانہ ۔

مزید پڑھیں : نامور فنکار و شاعر اطہر شاہ عرف جیدی بھی رخصت ہوئے

فردوسی نے کہا تھا
“ تفو بر تو اے چرخِ گرداں تفو”۔

اس تمہید کے بعد میری غزلیات کو اگر پڑھا جاۓ تو نوازش ہو گی وگرنہ بے سود ہو گا۔

آج کی غزل پاکستان کے معروضی حالات میں:

@ یہ کُلبہ احزاں ہے کہ ہے خانہٌ فریاد
یہ دل ہے اگر میرا تو ہے بلُبلِ ناشاد
آزادئ نسواں کے بھی ہوتے ہیں تقاضے
یورپ میں تو عورت ہوئ مادر پدر آزاد
@ توہین ِ عدالت پہ گرفتاری تو بجا ہے
اور عدلِ عدالت کو کیا کس نے ہے برباد
@ مانا کہ ترا دام تو ہمرنگِ زمیں ہے
تو صید کی صورت میں بنا پھرتا ہے صیّاد
@ میں نے تو سرِ دار کہا جو بھی تھا کہنا
آزاد فضاؤں میں ہوں مَیں طائرِ آزاد
@ وہ زلزلہ آیا ہے کہ افلاک ہیں لرزاں
برباد ہوئیں بستیاں جتنی بھی تھیں آباد
@ ساۓ کی طرح جعفری جو ساتھ ہے میرے
یہ کوئ ہیولہ ہے کہ ہے سایہٌ ہمزاد

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *