ٹرولی (Trolli ) شدید مشکوک پروڈکٹ ہے

ٹرولی (Trolli ) شدید مشکوک پروڈکٹ ہے

کیس سٹڈی

کچھ عرصہ قبل ناہید سٹور پر جانا ہوا ،وہاں چائنہ سے درآمد شدہ ایک پروڈکٹ Trolli پر نظر پڑی جو جیلی کی قسم کی تھی، جسے دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں گائے سے حاصل شدہ جیلاٹین شامل ہے جو اکثر جیلیز پروڈکٹ کا اہم جز ہوتا ہے۔

مزید تحقیق کی نیت سے اس پروڈکٹ کو خرید لیا اور تفصیلی جائزہ کے بعد معلوم ہوا کہ اس پروڈکٹ پر چائنہ کمپنی کی جانب سے سادہ حلال لوگو اور حلال جیلاٹین کا خود کا دعویٰ (جسے self-claimکہتے ہیں) لکھا ہوا تھا جو شرعا کسی غیر مسلمان یا اس کے مسلمان ملازم کا قابل قبول نہیں۔ لہذا عوام کو اس حرام پروڈکٹ سے متعلق مطلع کرنے کی نیت سے ہم نے ایک پوسٹ جاری کردی گئی جس کے کچھ روز بعد اس پروڈکٹ کے امپوٹر نے ہم سے ہمارے دفتر میں آکر ملاقات کی اور گلا کیا کہ آپ نے میری پروڈکٹ پر اتنا سخت حکم کیسے لگادیا؟ خیر کوئی تین گھنٹے کی میٹنگ رہی جس میں پورا مسئلہ انہیں بغیر کسی عوض کے انہیں خالص نیک نیتی سے سمجھایا گیا۔

امپورٹر نے اس پروڈکٹ کے حلال ہونے کا دعوی کیا اور ایک سرٹیفکیٹ کی کاپی مہیا کی جو درحقیقت حلال کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔ الحمد للہ 13 سال سے اس شعبہ سے منسلک ہوں سرٹیفکیٹ کی شکل ، عبارت پڑھ کے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ انہیں میں نے اس سرٹیفکیٹ کی ایک ایک عبارت سمجھائی کہ اس میں فلاں فلاں کمیاں ہیں جن کی بنیاد پر اس سرٹیفکیٹ کو حلال کا سرٹیفکیٹ نہیں کہا جاسکتا لہذا ہم اسے قبول نہیں کرسکتے البتہ جس ادارے کے نام سے یہ سرٹیفکیٹ جاری ہوا ہے اس سے رابطہ کرکے مزید اطمنان کرلیتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ملک میں کسی بھی نوعیت پر حلال سے متعلق کوئی خاص تربیت نہیں ہے لہذا اس امپورٹر کو میں نے ہی خود غور وفکر کرکے یہ آپشن دیا کہ ادارے کی تو حلال کی شہادت نہیں ملی البتہ بحیثیت مسلمان اگر آپ شہادت دے دیں تو اس پروڈکٹ کے حکم میں کچھ تخفیف ہوسکتی ہے( شریعت کا مزاج ہے کہ وہ فورا سزا دینے کے بجائے مکمل موقع دیتی ہے) جس پر اس نے لکھ کر دیا کہ انھوں نے پلانٹ کا دورہ کیا ہے اور حلال جیلاٹین کا استعمال ہوتے دیکھا ہے لیکن پورے پروسس کی شہادت نہیں دے سکےکہ مثلا تمام تیاری کے مراحل میں یہ ہی جیلاٹین استعمال ہورہی تھی یا وہ پلانٹ صرف اور صرف حلال جیلاٹین ہی استعمال کرتا ہے اس کا رکارڈ وغیرہ چیک کرکے گواہی دینا کہ ہمیشہ وہاں حلال ہی جیلاٹین استعمال ہوتی ہے۔ لیکن جتنا مشاہدہ ہوا تھا اس کی شہادت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ایک نئی پوسٹ جاری کی کہ چونکہ ایک مسلمان شاہد مل چکا ہے لہذا اب اس پروڈکٹ کا حکم حرام سے نکل کر مشبوہ (مشکوک) میں داخل ہوگیا ہے لیکن لوگ احتیاط ہی کریں۔ ہمارے اس اقدام پر چند لوگوں نے برا بھی منایا اور یہاں تک لکھ دیا کہ خدانخواستہ ہم نے اپنا ایمان چند ٹکوں کے لئے بیچ دیا ہے۔

یہ ہماری طرف سے محض نیکی تھی اور خدانخواستہ کسی کو تکلیف دینا بھی مقصود نہیں تھا اور جب کوئی خود کوئی چل کر آیا ہے اور شرعی گواہی دے رہا ہے کسی چیز کے حلال ہونے کی تو ہمیں اس شہادت کی لاج رکھنا ضروری ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی امید تھی کہ آئیندہ یہ بندہ خود احتیاط کرے گا کچھ بھی باہر سے منگوانے سے پہلے۔

اتفاق سے اس باہر کے حلال تصدیقی ادارے کے ایک بندے کا نمبر میرے پاس محفوظ تھا جس سے رات دیر سے رابطہ ہوا اور ان سے اس مسئلہ کو کوئی رات 3 کے آس پاس ڈسکس کیا، پہلے تو انہوں نے انکار ہی کردیا کہ ایسی کوئی پروڈکٹ ہم سے حلال تصدیق شدہ نہیں ہے جب انہیں تمام تفصیلات ای میل کرکے سویا تو صبح ان کی ای میل ملی کہ جی ہاں یہ کمپنی ہم سے سرٹیفائڈ تو ہے پر جو حلال کا آرڈر ہوتا ہے ہم صرف اس کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں اور اس کی پیکنگ پر ہمارے ادارے کا باقاعدہ لوگو بھی ہوتا ہے لیکن آپ نے جو تصویر بھیجی ہے اس میں ہمارا لوگو نہیں ہے اور ہم اس معاملہ میں آپ کے ساتھ تعاون کریں گے جس کے لئے ہمارا دوسرے ملک کا دفتر آپ سے رابطہ میں رہے گا۔ ان کے اس بیان پر ہم نے ان سے کہا کہ اللہ کے بندو یورپ میں بیٹھ کر کس طرح چائنہ کا پلانٹ حلال سرٹیفائڈ کردیا آپنے حالانکہ آپ جانتے بھی ہیں خاص کر غیر مسلمان ممالک میں تو مستقل نگرانی میں یہ کام ہونا چاہئے ورنہ اس بات کی کیا تصدیق دی جاسکتی ہے کہ وہ کمپنی ہمیشہ حلال ہی جیلاٹین استعمال کرتی ہے جو کہ حرام جیلاٹین کے مقابلے میں مہنگی بھی ہوتی ہے جب کہ آپ کا کوئی مستقل نمائندہ ان کے سر پر بھی نہیں ہے؟ جس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ جب اس کمپنی کو حلال کا آرڈر آتا ہے اس وقت ہم اپنے افراد وہاں بھیجتے ہیں اور وہ مال ہماری مہر والی پیکنگ میں پیک ہوتا ہے اور اس آرڈر کا مستقل ہم تمام تفصیلات کے ساتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔

دوسرے ملک کے دفتر نے ہم سے رابطہ کیا اور پروڈکٹ کی تصاویر اور بیچ نمبر مانگا تاکہ تحقیق کرسکیں جس کی رپورٹ کم و بیش 3 سے 4 ماہ کے بعد آئی جس میں انہوں نے واضح کیا کہ’’ انہوں نے چائنہ کی کمپنی سے تفشیش کی ہے اور اس کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’’جس بیچ کا مال پاکستان آیا تھا وہ ان کی حلال تصدیق میں شامل نہیں ‘‘

اس رپورٹ کو پڑھ کر شدید پریشانی ہوئی کہ آیا ہمارے امپورٹر کو چائنہ والی کمپنی نے دھوکا دیا ہے یا وہ بندہ ہمیں جھوٹی گواہی دے کر گیا ہے؟ شریعت کی اصولوں میں جکڑے ہوئے ہم نے کوئی سخت ایکشن لینے کے بجائے پھر وضاحت کا ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا اور اس امپورٹر کو ای میل کی کہ آپ کا مال حلال تصدیق کے دائرے میں نہیں آتا اور رپورٹ کی کاپی شیئر کردی تاکہ وہ آئیندہ محتاط رہے اور ایسا مشکوک مال پاکستان نہ منگوائے جس سے خود بھی گناہ گار ہو اور لوگوں کی بھی عبادت ضائع ہو۔

یہ کام کرتے ہوئے ہم نے شرعی اصولوں کو تو یاد رکھا کہ کوئی مسلمان بدنام ہونے سے بچ جائے لیکن یہ بھول گئے کہ وہ مسلمان پاکستانی ہے جو ہمیشہ کسی کی نیکی کو بھی الٹی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پہلے تو انہوں نے دو دن تک جواب ہی نہیں دیا جب انہیں فائنل ریمائنڈر بھیجا تو ایک عدد ای میل گزشتہ رات موصول ہوئی جس کا نہ سر تھا نہ پاؤں شکریہ ادا کرنے کے بجائے الٹا ہمیں دہمکیاں دینے پر اتر آیا اور ادارے کی حیثیت کو چیلنج کرنے پر اتر آیا کہ آپ نے کس حق سے یہ سارا کام کیا ہے؟ آپ کا کام صرف حلال تصدیق کرنا ہے وغیرہ ۔ جسے پڑھنے کے بعد میری افسوس کے مارے نیند ہی اڑ گئی کہ ایک تو اسے بدنام ہونے سے بچایا ہے الٹا میرے ہی سرپر چڑھ کر شور مچارہا ہے؟ اسی افسوس بھری کیفیت سے نکلتے نکلتے رات جاگتے ہوئے گزرگئی اور فجر کے بعد اسے تفصیلی ای میل کرکے اپنی غلطی کا اقرار کیا کہ واقعی یہ رپورٹ مجھے سیدھی کسٹم والوں کو دینی چاہئے تھی تاکہ جب وہ کنٹینر سیل کرتے تو لگ پتا جاتا ۔ خیر ! ہمارا کام نبیوں والا ہے لہذا الزام سہنا عادت سی بن گئی ہے۔

یہ تو تھا دل کا دکھڑا اب کام کی اصل بات یہ ہے کہ چونکہ ایک چیز کی حلال تصدیق نہیں ہوسکی الٹا جس ادارے کی حلال تصدیق کا دعوی کیا گیا تھا وہ بھی جھوٹا ثابت ہوچکا ہے اور وہ شے ہمارے بازاروں میں وہ موجود ہے لہذا بحیثیت مفتی، اس ملک کے شہری کے تمام مسلمانوں کو آگاہ کرنا اب میرا فرض ہے کہ Trolli نامی اس پروڈکٹ کا قطعا استعمال نہ کریں یہ حد سے زیادہ مشکوک پروڈکٹ ہے باقی اس تفصیل کے بعد بھی کوئی استعمال کرنا چاہے تو اسے ہم روک نہیں سکتے اور پاکستان کسٹم سے بھی بہت ہی مؤدبانہ درخواست ہے کہ خدارا جو بھی چیز ملک میں داخل ہو اس کا حلال ہونا یقینی کیا کریں اگر تجربہ نہیں ہے تو ہم بنا کسی عوض صدقہ جاریہ سمجھ کر آ پ کو اسے پرکھنے کی تربیت تک آفر کرتے ہیں کیونکہ یہ اصل مسلمان ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں تک حلال مہیا کرے۔ ہم تو صرف معاون ہیں جو اپنی حیثیت میں رہتے ہوئے سب کی مدد کرنے کی کوشش میں صبح شام مصروف ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو حلال وحرام کی اہمیت سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔۔۔آمین

تحریر و تحقیق : مفتی یوسف عبدالرزاق

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *