جامعہ بنوریہ کراچی کے منصرم مفتی نعیم کی زندگی پر ایک نظر

مفتی نعیم کے والد قاری عبدالحلیم جب چار برس کے تھے تو اپنے والد یعنی مفتی نعیم کے دادا کے ہمراہ ہندومت سے اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ ان کا تعلق بھارتی گجرات کے علاقے سورت سے تھا، تقسیم ہند سے قبل ہی پاکستان تشریف لے آئے تھے۔

1958 میں مفتی محمد نعیم کراچی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اوراعلیٰ تعلیم جامعتہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون سے حاصل کی اور 1979 میں فارغ التحصیل ہوئے۔ فراغت کے بعد 16 سال تک جامعہ میں ہی بطور استاد خدمات انجام دیں. ان کا شمار جامعہ کے بہترین اساتذہ میں ہوتا تھا۔

کراچی: جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم انتقال کر گئے
1979 میں ان کے والد قاری عبدالحلیم نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کا قیام عمل میں لائے۔ اس میں 52 ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جامعہ میں مجموعی طور پر تقریبا پانچ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

مفتی محمد نعیم 7 جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور دیگر کتب کے مصنف ہیں۔

مرحوم کے سوگواروں میں 3 بیٹے مفتی محمد نعمان نعیم اور مفتی محمد فرحان نعیم، حافظ حنظلہ، اہلیہ، دو بیٹیاں، 5 بھائی، تین بہنیں اور لاکھوں شاگرد اور عقیدت مند شامل ہیں۔

کراچی: جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم انتقال کر گئے
مفتی محمد نعیم وفاق المادارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ اور عاملہ کے متحرک رکن تھے۔

ان کے والد قاری عبدالحلیم کا انتقال 2009 میں ہوا اور ان کی تدفین بنوریہ عالمیہ کے قبرستان میں ہوئی، ان کے والد قاری عبدالحلیم پارسی سے مسلمان ہوئے تھے۔ مفتی نعیم کی تدفین بھی اسی قبرستان میں ہوگی ۔ بڑے صاحبزادے مولانا نعمان نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ میں بحیثیت وائس پرنسپل منسلک ہیں جبکہ درمیانے صاحبزادے مولانا فرحان نعیم بھی جامعہ کے دیگر امور دیکھتے ہیں اور حافظ حنظلہ اس وقت جامعہ میں زیرتعلیم ہیں !

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *