جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی، سربراہ پاک فوج

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے اور جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی۔

پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ 6 ستمبرملکی تاریخ کا اہم دن ہے، آج کا دن شہدا پاکستان سے یکجہتی کا دن ہے، اس دن پوری قوم نے متحد ہوکر دشمن کے دانت کھٹے کردیے، قوم کا ہر فرد سپاہی کے ساتھ کھڑا رہا، ہمارے جوانوں اور شہریوں نے جنگ میں قربانیاں دیں۔

آرمی چیف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی جاری ہے، ہماری جنگ اب بھوک افلاس اور ناخواندگی کے خلاف ہوگی جسے جیتنے کے لیے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 65ء اور 71ء کی جنگوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، پاک فوج کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھایا، نامساعد حالات اور معاشی مسائل کے باوجود ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک بنے، بعدازاں دنیا بھر میں غیر روایتی جنگ کا آغاز ہوا، دہشت گردی کی لہر اٹھی جس میں جنگ کی ساخت اور اس کے انداز بدل گئے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی اس غیر روایتی جنگ کا نشانہ بنا تاہم ہماری افواج نے قربانیاں دیتے ہوئے اس جنگ سے لڑنا سیکھا، ہماری عبادت گاہوں اور تفریح گاہوں پر حملے کیے گئے مگر سلام ہے ہماری قوم اور فوج پر جو اس جنگ کے آگے ڈٹی رہی اور دہشت گردی کے اس ناسور کا سب نے مل کر مقابلہ کیا اور اس جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانی شہید اور زخمی ہوئے جب کہ قومی خزانے پر بوجھ الگ ہے۔

پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو افواج کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے بغیر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں تھا، قربانیاں دینے والوں میں فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی سمیت سویلین بھی شامل ہیں اسی لیے یوم دفاع کے ساتھ آج یوم شہدا بھی مناتے ہیں کیوں کہ جو قومیں شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔

کشمیر سے متعلق آرمی چیف نے کہا کہ میں آج یوم دفاع کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہادری کی مثال قائم کی ہوئی ہے۔

جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ ہم سابقہ دو دہائیوں میں بہت مشکل دور سے گزرے اور کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ابھی جاری ہے، ملکی و تعمیر و ترقی کو یقینی بنانا اور ملک کو کسی مقام پرپہنچانے کے لیے دفاعی ترقی کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیر ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے، ہماری جنگ بھوک افلاس اور ناخواندگی کے خلاف بھی جاری رہے گی لیکن اس مقصد کو پانے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ اسی صورت میں ہی ہمیں کامیابی ملے گی۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے اور جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی، آج ہم اس مقام پر موجود ہیں کہ جمہوریت میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندے موجود ہیں۔

اس سے قبل پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ پولیس لائنز راولپنڈی میں شہید سب انسپکٹر میاں عباس کے گھر گئے۔ آرمی چیف نے شہید سب انسپکٹر کی اہلیہ اور بیٹے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہید کی قربانی کو سراہتے ہوئے ان کے بیٹے سے کہا کہ آپ کے والد نے ملک کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا، زندگی سے زیادہ بڑی کوئی قربانی نہیں اور ہماری جانیں ملک و قوم کے لیے وقف ہیں۔

آرمی چیف نے شہید سب انسپکٹر عباس اور تمام شہداء کی قوم کے لئے عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید میاں عباس کے بیٹے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *