سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی اختلافات پھیلانے کا رحجان فروغ پانے لگا

لاک ڈاؤن کے دنوں میں لوگ فارغ اوقات میں سماجی رابطے کی ایپ "واٹس اپ” پر تشکیل دئیے جانے والے بعض گروپس پر تعلیمی، مذہبی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر بحث کے نام پر نامناسب اورگمراہ کن تحریروں اور دیگر قابل اعتراض مواد ‘اپ لوڈ’ کرکے، گروپ کے اراکین اپنے مخصوص نظریات دوسروں پر مسلّط کرنے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں ۔

کچھ شر پسند اور منفی ذہنیت کے حامل عناصر اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سماجی رابطے کے اس مؤثر ذریعے کو اپنے مخصوص مذموم مقاصد کے حصول اور نظریات کے پرچار کیلئے استعمال کرنے میں سرگرم ہیں۔

گزشتہ دنوں کالج اساتذہ کے تشکیل شدہ کچھ ‘واٹس اپ’ گروپس پرمنفی سوچ اور بدنیتی کے تحت بڑے پیمانے پر یہ گمراہ کن اور مضحکہ خیز پروپیگنڈہ کیا گیا کہ”پی آر سی” (مستقل رہائش کے سرٹیفیکٹ) کے مروّجہ قانون کے تحت "سندھ کے جس شہری کے والد کی پیدائش سندھ کی نہیں، اس کو سندھ کا ‘پی آر سی’ جاری نہیں کیا جاسکتا” ، جس کا مقصد شہری سندھ میں رہائش پذیر باشندوں کو ہراساں کرکے افراتفری پیدا کرنا تھا ۔

اس مضحکہ خیز پروپیگنڈے کی تشہیر کرنے والے مخصوص منفی ذہنیت کے حوالے سے پہچانے جانے والے کالج پروفیسرتھے، جو یہ فراموش کر بیٹھے تھے کہ پاکستان کی صدارت کے اعلی ترین منصب پر جو شخصیت اس وقت فائز ہیں انکے والد تو سندھ میں پیدا نہیں ہوئے تھے تو انکو کیسے سندھ کے ڈومیسائل اور پی آر سی جاری ہوگئے اور انکے بقول اگر وہ چ قانون کے تحت پاکستان کے مستقل شہری بننے کے قانونی طور پر اہل ہی نہیں تھے تو وہ کس طرح پاکستان کےصدر جیسے منصب پر فائز ہوگئے ۔

اطلاعات کے مطابق سندھ میں کالج اساتذہ کیجانب سے تشکیل دئیے گئے کچھ "واٹس اپ گروپس” کے چند اساتذہ ممبران جو سرکاری ملازم ہونے کے ناطے مروّجہ قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کے لازمی طور پر پابند ہیں، اپنی سرکاری حیثیت کالحاظ کئے بغیر قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے پاکستان کی دینی و ملّی شخصیات ، قومی اداروں ، قومی زبان اور مخصوص طبقات کو حدف تنقید بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے متنازعہ اور قابل اعتراض موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتے نظر آتے ہیں، جس سے صوبے سندھ میں رہائش پذیر مختلف مذہبی،لسانی اور سیاسی اکائیوں اور طبقات کے درمیان منافرت،عصبیت کی کیفیت فروغ پارہی ہیں۔

جس کے نتیجے میں ان طبقات سے وابستہ افراد میں متشدّد سوچ جنم لے رہی ہے ۔ جب ان عناصر کو انکی مذموم اورغیر قانونی سرگرمیوں سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اسے اپنا آئینی اور سیاسی حق ہونے کی دلیل دیتے ہیں اور اپنے افکار اور نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کی غرض سے غیر مہذّب، ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کر تے ہیں جو دیگر طبقات کی دل آزاری اور مشتعل کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

اساتذہ کرام ،جو معاشرے کا ممتاز اور معزّز طبقہ سمجھے جاتے ہیں، جب اپنے خیالات و نظریات کو جبرا” دوسروں پر مسّلط کرنے کی غرض سے غیر مہذّبانہ اور ناشائستہ رویّہ اختیار کرنے لگیں تو یہ پورے معاشرے کے لئے لمحہءفکریہ ہے ۔ اس ضمن میں متعلقہ حکومتی اداروں کو اپنی ذمّہ داری کی ادائیگی کیساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی اس قبیح رحجان پر نظر رکھنے رکھنے کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں کسی بھی سماجی رابطہ گروپ کے اراکین کیجانب سے پوسٹ کئے جانے والے قومی سلامتی اور وقار کے منافی مواد اور اسلام ، نظریہ پاکستان ، دینی و ملّی شخصیات ، قومی اداروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور ہرزہ سرائی پر ذمّہ دار ‘واٹس اپ گروپ’ کے ایڈمن سے بازپرس کرنے اور اس کے خلاف بھی مؤثر قانونی کاروائی عمل میں لانا ضروری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *