فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے رواں سال کے بجٹ کو روایتی قرار دیدیا

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر میاں انجم نثار اور ریجنل چیئرمین ڈاکٹر محمد ارشد و دیگر عہدہداروں نے وفاقی بجٹ 2020-21 پر پریس بریفنگ میں اپنا در عمل دیتے ہوئے کہاکہ اس بجٹ کو نہ مثبت اور نہ منفی کہا جا سکتا ہے، روایتی بجٹ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی کی کچھ تجاویز پر عمل کیا گیا ہے، پچھلے سال کا ریونیو ٹارگٹ بھی پورا نہیں ہو سکا۔، آنے والے وقت میں پتا چلے گا کہ کورونا معیشت کو مزید کتنا نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریر سے تو ریلیف ملتا نظر آرہا ہے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی اندازہ لگایا جاسکے گے، زراعت کا شعبہ ٹڈی دل کی وجہ سے بہت بری طرح متاثر ہوا ہے،بعض علاقوں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

ایف پی سی سی آئی عہدیداران کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکس عائد نہ کرنے اور پہلے سے عائد ٹیکسوں میں کمی کا فیصلہ خوش آئند ہے، حالات بہتر ہونے پر منی بجٹ بھی آئے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ حکومت موجودہ صورتحال میں یہی کچھ کرسکتی تھی نئے ٹیکس عائد نہ کرکے ریلیف دینے کی کوشش کی گئی۔ایکسائز ڈیوٹی میں بھی کمی کی گئی ہے۔

میاں انجم نثار اور ڈاکٹر محمد ارشد نے حکومت سے ایس او پیز کے ساتھ مارکیٹس پورا ہفتہ کھولنے اور معیشت بہتر ہوتے ہی منی بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسٹم ڈیوٹی کو کم کیا ہے، امپورٹ پر ڈیوٹی ٹیکس کم کیا گیا ہے، ریٹیل پر ٹیکس کم کر کے بارہ فی صد کردیا گیا ہے۔ شناختی کارڈ کی شرط پچاس ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کردیاگیاہے، تاہم صحیح ریسپانس ایک دو دن کے بعد تفصیلات جاننے کے بعد ہی دیا جا سکے گا۔ایک دو روز میں پتہ چلے گا کہ یہ ریلیف کہنے تک ہے۔

اس سال کے بجٹ تجاویزمیں جو چیزیں کہیں گی وہ مانی گئیں ہیں، کرونا وائرس کے باعث مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا گیا ہے، ابھی بجٹ میں پوشیدہ چیزیں سامنے آئیں گی تو سمجھ آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ گروتھ اوررینٹیڈ بجٹ نہیں کہا جا سکتا لیکن موجودہ صورتحال میں یہی ہوسکتا تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ ڈیفنس کے بجٹ اور تنخواہوں پینشن میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر محمد ارشد نے مزید کہاکہ مسائل بہت زیادہ ہے وسائل بہت کم ہیں۔حکومت کو زیادہ تنقید کا نشانہ بنانا بھی مناسب نہیں ہے۔بین الاقوامی برادری کو ہماری مدد کرنی چاہیے تاکہ ہم اس صورتحال سے باہر نکل سکیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *