سنتھیار چی اور سارہ آرنسون

بلاگ : علی ہلال

میں گزشتہ کئی روز سے فیس بک پر متعدد دفعہ امریکی صحافی خاتون سنتھیار چی کی پاکستانی سیکورٹی افسران اور دیگر حکومتی ذمہ داروں کے ساتھ تصاویر دیکھتا ہوں مجھے پتہ نہیں کیوں سارہ آرنسون یا د آتی ہے ۔۔

سارہ آرنسون وہ بلائے جان وایمان تھی جس نے بلاد شام پر عثمانی حاکم جمال پاشا کو اپنے عشق کے دام میں پھانس دیا تھا ۔ پاشا نے سارہ کے بھائی آرون کو بلاد شام میں اس وقت زرعی کلچر تجربات ڈیپارٹمنٹ کا ڈایریکٹر بنا دیا تھا جس زمانے میں بلاد شام پر ٹڈی دل نے حملہ کر کے قحط پیدا کر دی تھی ۔ خوبرو سارہ کے والد اور بھائیوں نے فلسطین کے علاقے ریخرون یاکوف میں ایک زرعی فارم قائم کر رکھا تھا جس میں بظاہر زرعی تجربات کی لیبارٹری قائم کی گئی تھی تاہم اصل میں یہ یہودی جاسوسی کا مرکز تھا ۔

مذید پڑھیں : پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما کا اسکینڈل وائرل ، رکن اسمبلی نے تردید کردی

سارہ کا بھائی آرون اس زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا نباتی سائنسدان تھا جسے عثمانی سفارتی دستاویزات میں ’’شیطان ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔۔ (خیال رہے کہ بعض عرب ممالک میں کسی شخص کی کسی خاص مہارت کے باعث اسے شیطان کے لقب سے یاد کرنا ایک روایت ہے جیسے موریتانیا والے خوبصورت عورت کو ملیئہ بالشیطان کہتے ہیں )سارہ کے خاندان نے ’’نیللی ‘‘ کے نام سے پہلا یہودی جاسوسی نیٹ ورک قائم کیا تھا ۔

سارہ آنسون نے حاکم شام جمال پاشا کو ایسا پھانسا کہ اس کے پالنگ سے ہی عثمانی سلطنت کے ٹکڑے اڑ گئے ، چونکہ جمال پاشا ان پاشاوں میں سے ایک تھا جو سلطنت عثمانیہ کے اصلی اورحقیقی حکمران تھے ۔ نور،طلعت اورجمال ۔۔ اورانہیں اس خلافت کے ڈوبنے کا ذمہ دار بھی قراردیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں : ثناءاللہ عباسی پولیس ویلفیئر فنڈز ہڑپ کر گئے

آخر میں سارہ ایک جاسوس کبوتر کے ذریعے دھرلی گئی مگر تب تک عثمانی خلافت کی کھیت بھی چڑیا ں چک گئی تھیں ۔ سارہ نے اپنے خلاف فیصلہ سننے سے قبل ہی خود کو گولی ماردی اوریوں اکتوبر 2017 میں یہ خوبصورت جاسوس پری صہیونیت سے وفا داری نبھاتے ہوئے اس دنیا سے چلی گئی ۔

جمال پاشا کو 1922 میں جارجیا میں ایک ارمینی نوجوان نے گولی مارکر قتل کردیا ۔خبر ہے کہ اسے کفن بھی نہ ملا ۔ سنتھیار چی کے الزامات ہمیں اس لئے خوش کن معلوم ہو رہے ہیں کہ وہ ایک مخصوص پارٹی کے ذمہ داروں کےخلاف ہیں مگر کوئی بعید نہیں کہ ایک خوبصورت عیار خاتون کل کو اس سے بھی بڑی شخصیت پر الزام عائد کرکے پھانسہ ہی پلٹ دے لہذا سنتھیارچی پر رجنے والے ذرا اپنے دلوں کو سنبھال لیں ‌۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *