پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما کا اسکینڈل وائرل ، رکن اسمبلی نے تردید کردی

کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے وزیر کی متنازعہ و فحش تصاویر وائرل ہو گئیں ، غیر ملکی صحافی کی جانب سے جاری الزامات کے بعد ایم پی اے کی تصاویر کا وائرل ہونے سے متعدد ایم پی ایز پریشان ہیں ۔

سندھ کے جاگیر دار اور پی پی پی کے صوبائی وزیر سائس و ٹیکنالوجی نواب تیمور تالپور کی تصاویر چند روز قبل وائرل ہوئی ہیں جس میں وہ ایک محفل میں بیٹھے ہیں ۔ ایک تصویر میں وہ مبینہ طور پر سنبل نامی ایک خاتون سے بوس و کنار کرتے دیکھائی دے رہے ہیں جبکہ ایک تصویر میں ایک ہی صوفے پر وہ ایک دوسری خاتون کو پہلو میں بیٹھائے ہوئے ہیں ۔

مزید پڑھیں : ثناءاللہ عباسی پولیس ویلفیئر فنڈز ہڑپ کر گئے

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین پی ایس 68 عمر کوٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے نواب محمد تیمور تالپور اس وقت سندھ میں وزیر سائس اینڈ ٹیکنالوجی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ وزیر اعلی سندھ کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے بین الصوبائی رابطہ ہیں ۔ اور اس کے علاوہ وہ ممبر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائر ، ٹیکنیکل ایجوکیشن ،ریسرچ اور اسکول ایجوکیشن اور اسپیشل ایجوکیشن کے چیئرپرسن بھی ہیں ۔

معلوم رہے کہ نواب تیمور تالپور سندھ کے جاگیردار نواب یوسف تالپور کے بیٹے ہیں اور انہوں نے لندن سے ایم بی اے کیا ہوا ہے ، جبکہ ان کی عمر اس وقت 41 برس ہے ۔

مزید پڑھیں : خیبر پختون خواہ میں چرس کا استعمال سب سے زیادہ ہے

امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر نواب تیمور تالپور کی سنبل نامی خاتون کے ساتھ نازیبا تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ” ایم پی اے کی کچھ رنگین تفریحی سرگرمیاں ، سنتھیا ڈی رچی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ وہی لڑکی ہے ، جس کا نام سنبل ہے اور اسلام آباد کی پارٹیوں میں تیمور تالپور اس کا تعارف اپنی دوسری بیوی کی حیثیت سے کراتا ہے، کیا تیمور تالپور کی پہلی بیوی کو اس کا پتا ہے ؟۔ انہوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور تیمور تالپور سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ کیا ہو رہا ہے؟ ۔

نمائندہ الرٹ نیوز نے اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما نواب تیمور تالپور سے رابطہ کیا کہ یہ تصاویر ان کی ہیں ؟ جس پر انہوں نے اپنے موقف کا واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوٹو شاپ پر ایڈیٹنگ کی گئی ہے اور میں عدالت میں حتک عزت کا کیس فائل کرنے جارہا ہوں تاہم ان سے مزید سوال کیا گیا کہ وہ کیس کس کے خلاف کریں گے ؟ اور یہ کیس ایف آئی اے سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے اور عدالت جانے کا مطلب کیا ہوا ؟ تاہم اس کا جواب انہوں نے نہیں دیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *