ٹڈی دل پاکستان کے لیئے خطرے کا الارم

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہمارے ملک کی 70 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے

بلاگ : محمد راحیل معاویہ

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہمارے ملک کی 70 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے ۔ہماری کل ایکسپورٹ ویلیو کا 70 فیصد انحصار زراعت پر ہے ۔ 17 ملین لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ 44 فیصد لیبر زراعت سے منسلک ہے۔ ہماری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی وہ زراعت پیشہ افراد ہیں کہ جن کو ‘پینڈو ‘ کہہ کر ہم مذاق اڑاتے ہیں ۔

کورونا وائرس کے آنے سے پہلے ہی ملکی معیشت ہچکولے کھا رہی تھی جس کو کورونا نے آکر ایک ہی دھکے میں گرا دیا ہے ۔ ہماری معیشت مزید کسی بھی دھچکے کی متحمل نہیں ہے۔ کورونا وائرس نے معیشت کا جنازہ تو نکال دیا ہے مگر اس کی وجہ سے ہم غذائی قلت کا شکار ہونے سے ابھی تک بچے ہوئے تھے ۔

مذید پڑھیں : آئی ایس او کی خدمت مہم علما ء و ڈاکٹرزکی زیر نگرانی جاری ہے، محمد عباس

ٹڈی دل کے اس نئے عذاب نے اس غذائی بحران کے پیدا ہونا کا اشارہ بھی دے دیا ہے ۔ یہ ہماری معیشت کے سر پر کورونا سے بھی بڑا خطرہ بن کر منڈلا رہی ہے ۔ ٹڈی دل کی یہ فوج مشرقی افریقہ سے ایران اور افغانستان کے رستے پاکستان میں داخل ہوئی ۔ ابھی یہ پاکستان کی صوبہ سندھ ، خیبر پختون خواہ ، بلوچستان اور پنجاب میں تباہی پھیلا رہی ہے۔ صرف جنوبی پنجاب میں تیس ہزار ایکڑ سے زائد فصل کو تباہ کر چکی ہے ۔ٹڈی دل 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور بہت تیزی سے افزائش نسل کرتی ہے ۔

اس کی مادہ دو سو سے بارہ سو تک بچے دیتی ہے ۔ بارشوں میں اس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے مون سون میں اس کے زیادہ تباہی پھیلانے کے خدشات موجود ہیں ۔ اس جھنڈ کا نشانہ خریف کی فصلیں ہونگیں ۔ جن میں گنا، کپاس، چاول اور مکئی شامل ہیں ۔ اس کے ایک مربع کلو میٹر کے جھنڈ میں 80 کروڑ سے زائد بالغ کیڑے ہوتے ہیں ۔ یہ اس قدر تیزی سے تباہی لگاتے ہیں کہ کسان پاس کھڑا ہوکر دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور کچھ نہیں کرپاتا ۔

مذید پڑھیں : ہر صورت 15 جون سے نجی اسکول کھولیں گے : الائنس آف پرائیویٹ اسکولز سندھ

یہ جھنڈ ایک دن میں پینتیس ہزار انسانوں کے برابر خوراک کھاجاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے “فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ” کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 38 فیصد علاقہ ٹڈی دل کا بریڈنگ گراونڈ بن چکا ہے ۔ وہاں پر وہ تیزی سے اپنی افزائش نسل میں مصروف ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایسا خطرہ ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ رپورٹ کے مطابق اگر نقصان کو پچیس فیصد پر روک لیا گیا تو پاکستان کو ربیع کی فصل میں 353 بلین اور خریف کی فصل میں 440 بلین کا نقصان ہو گا ۔ یہ کل ملا کر 800 ارب روپے کا نقصان بن سکتا ہے۔

اگر خدانخواستہ اس کو نا روکا گیا تو نقصان کے اعداد و شمار کیا ہوں گے اور غذائی قلت کی کون سی قیامت برپا ہوگی خدا جانے۔ ارباب اختیار اس سے نمٹنے کے لیے اس قدر سنجیدہ ہیں کہ کل کابینہ کا اجلاس کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے متعلق بلایا گیا۔اور اس میں اپوزیشن سے نمٹنے کے لیے بھرپور حکمت عملی طے کی گئی۔ گوکہ حکومت اپوزیشن کو اپنے لیے ٹڈی دل اور کورونا سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتی ہے۔

مذید پڑھیں : خدا کسی کو دشمن بھی “عقل بند” نہ دے

اس وقت دو طرفہ تباہی پھیل رہی ہے لیکن حکومتی وزراء کو نواز شریف کی لندن میں پی جانے والی کافی سے ہی فرصت نہیں مل رہی ۔  تمام وزراء اس ایک تصویر پر اپنی اپنی تمام تر صلاحیات صرف کرتے نظر آرہے ہیں جیسے اس میں تمام ملکی مسائل کا حل پوشیدہ ہو۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close