سیاحت کا شعبہ کھولنے سے متعلق ضوابط اور احتیاطی تدابیر کا مسودہ تیار

اس مسودے میں ہوٹلوں، ریسٹ ہاؤسز، ریستورانوں، کھانے پینے کی جگہوں، ٹور آپریٹرز، فضائی کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور کرائے کی گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک افراد اور اداروں کے لیے قواعد و ضوابط کا تعین کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں ملک میں سیاحت کے شعبے کو دوبارہ کھولنے کا عندیہ دیا ہے اور اس سلسلے میں 12 رکنی ‘ٹورازم ریکوری ایکشن کمیٹی’ نے متعلقہ افراد اور شعبوں کے تعاون سے قواعد و ضوابط اور احتیاطی تدابیر پر مبنی ایک جامع مسودہ تیار کر لیا ہے۔

اس مسودے میں ہوٹلوں، ریسٹ ہاؤسز، ریستورانوں، کھانے پینے کی جگہوں، ٹور آپریٹرز، فضائی کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور کرائے کی گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک افراد اور اداروں کے لیے قواعد و ضوابط کا تعین کیا گیا ہے۔

سیاحوں کی رہائش گاہوں پر انتظامات کے قواعد

مسودے کے مطابق سیاحوں کی رہائش گاہوں، جیسا کہ ہوٹلز اور ریسٹ ہاؤسز، کے داخلی دروازوں پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی کووِڈ 19 کے حوالے ٹریننگ مالکان کی ذمہ داری ہو گی۔

ان رہائش گاہوں میں آنے والے تمام سیاحوں کا جسمانی درجہ حرارت داخلی دروازوں پر چیک کیا جائے گا اور جس سیاح کا درجہ حرارت 98.6 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ ہو گا انھوں واپس گھر لوٹ جانے یا قریبی مرکز صحت جانے کو کہا جائے گا۔

داخلی دروازوں پر جراثیم کُش واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں گے جبکہ مناسب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے رہائش گاہوں کے باہر نشانات لگائے جائیں گے۔

وہ سیاح جنھوں نے چہرے پر ماسک نہیں پہنا ہو گا انھیں داخلی دروازے پر ماسک فراہم کیا جائے گا جبکہ ہاتھوں کو سینیٹائز کرنے کے انتظامات موجود ہونا ضروری ہیں۔

سیاحوں کے سامان کو داخلی دروازے سے باہر ڈس انفیکٹ کرنا بھی ضروری ہو گا۔

ریسیپشن یعنی استقبالیہ ڈیسک پر تمام سیاحوں کا بنیادی اور طبی ریکارڈ مرتب کرنے کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

ہوٹلز اور ریسٹ ہاؤسز انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ تمام سیاح جو ایسے ممالک سے تشریف لائیں گے جہاں وبا کا زور زیادہ ہے ان کا تمام تر ریکارڈ پہلے ہی ترتیب دیا جانا ضروری ہو گا اور ہوٹل میں چیک اِن سے متعلقہ رسمی کارروائی آن لائن مکمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

نئے قواعد کے تحت ہوٹل میں آنے والے تمام سیاحوں کو حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے ہدایات دی جائیں گی۔

مالکان کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ تمام سیاحوں کو موبائل فونز اور کریڈٹ کارڈز کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے الکوحل سوائپس فراہم کریں۔

وہ ہوٹل جہاں لفٹس نصب ہیں وہاں ایک وقت میں لفٹ میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد کا تعین کیا جائے گا اور لفٹ کے فرش اور دیواروں کو جراثیم کش محلول سے باقاعدگی سے صاف کیا جائے گا، نیز لفٹس کے اندر ہینڈ سینیٹائزرز نصب کرنا لازمی ہو گا۔

ہر ہوٹل میں مہمانوں کی گنجائش کا صرف 75 فیصد یا اس سے کم حصہ پُر کیا جائے گا اور ہر ایک کمرے میں سیاحوں کو ٹھہرانے کے بعد اگلا کمرہ خالی چھوڑا جائے گا۔

مالکان کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ کمرے کی سطحوں کو باقاعدگی سے صاف کریں اور اس کا ریکارڈ مرتب کریں۔ کمروں کے باہر اور ہوٹل کی راہدایوں میں ہینڈ سینیٹائزز لگانا ضروری ہیں۔ بستروں پر موجود چادریں دو دن میں ایک مرتبہ ہی تبدیل کی جائیں گی اور وہ بھی اگر سیاح ایسا چاہیں گے تو۔

ریستورانوں کے لیے مجوزہ قواعد

ہوٹلز میں موجود ریستورانوں میں میزوں کی تعداد نصف رکھی جائے گی تاکہ مہمانوں کے درمیان مناسب فاصلہ قائم رہے۔ ریستوان میں موجود تمام عملہ دستانے، ماسک اور سر کی ٹوپیاں استعمال کرنے کا پابند ہو گا۔

ہوٹلوں میں موجود جِم اور ورزش گاہیں بند رکھی جائیں گی۔

ہوٹلز میں موجود تمام سٹاف کا درجہ حرارت چیک کیا جائے گا اور ان کی صحت پر نظر رکھی جائے گی۔ عملے کا وہ رکن یا اراکین جن میں نزلہ زکام کی علامات ہوں انھیں گھر رہنے کا کہا جائے۔

ٹورآپریٹرز کے لیے ہدایات

مسودے کے مطابق ٹورآپریٹرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے گروپ میں موجود تمام سیاحوں نے ماسک اور دستانے پہن رکھے ہیں۔ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ غیرملکی سیاحوں نے (اگر ضروری ہوا تو) پاکستان میں قرنطینہ میں اپنا وقت مکمل کیا ہے یا نہیں۔

ہر ٹور آپریٹر کے پاس اس کے گروپ میں موجود تمام سیاحوں کی بنیادی معلومات کا پرفارما موجود ہونا ضروری ہے۔

ٹور آپریٹر تمام سیاحوں کا یہ بیان حلفی لیں گے سیاح سیاحتی مقامات پر موجودگی کے دوران تمام قواعد و ضوابط کی پاسداری کریں گے۔

رینٹ اے کار اور ٹرانسپورٹ کی سروس فراہم کرنے والے تمام ادارے اور افراد اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ گاڑی کے ڈرائیور اور متعلقہ عملہ نے حفاظتی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں اور آیا گاڑی کو سیاحوں کے سوار ہونے سے قبل ڈس انفیکٹ کیا گیا ہے۔

اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ سیاحوں کو سیاحتی شہروں تک پہنچانے والی ایئرلائنز کے لیے قواعد و ضوابط پہلے ہی مختلف ویب سائٹس پر فراہم کر دیے گئے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close