گرمی میں‌ پانی بجلی بحران عوام کا قتل عام ہے، جے یو آئی (ف)

جے یو آئی کے پریس سیکریٹری قاری محمد عثمان نے اپنے بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی بندشوں کے ڈسے عوام پر پانی بجلی اور گیس کی بندش افسوسناک ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ شدید گرمی میں پانی بجلی کا بحران عوام کے قتل عام کے مترادف ہے۔

جے یو آئی کے پریس سیکریٹری قاری محمد عثمان نے اپنے بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی بندشوں کے ڈسے عوام پر پانی بجلی اور گیس کی بندش افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہوچکے ہیں، عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اذیتیں دی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی اکثریتی آبادی گندا، زہریلا پانی پینے پر مجبور ہے جس سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

مزید پڑھیے: جمعیت علماء اسلام سندھ نے 29 اضلاع میں سوا 9 کروڑ روپے کا راشن تقسیم کیا

قاری محمد عثمان نے کہاکہ شدید گرمی اور حبس میں عوام پر پانی بجلی بند کرنا ظلم کی انتہاء ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمزور عوام جو پہلے ہی لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بندش سے متاثر ہیں ان پر پانی اور بجلی کا مصنوعی بحران مسلط کرنا بدترین ظلم ہے۔

رہنما جے یو آئی نے کہا کہ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ حکومت سے زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں جو اپنی من مانی کرکے عوام سے جینے کا حق بھی چھین رہے ہیں جبکہ سوئی گیس الگ سے مافیا ہے جو اووربلنگ کے ریکارڈ توڑچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی اور گیس کے بل تو ڈبل لگ کر آتے ہیں مگر عوام کو نہ بجلی مل رہی ہے نہ گیس۔ واٹر بورڈ اور ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے عوام موت کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: جمعیت علماء اسلام کسی مسجد کو سیل نہیں ہونے دے گی : راشد محمد سومرو

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نام کی کوئی چیز ہوتی تو ان بے لگام اداروں کو لگام ڈالتی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے جو عوام کیلئے عذاب بنتے جارہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مفتی محمود اکیڈمی کے ڈائریکٹر فاروق قریشی سے انکی بھابھی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر بابائے جمعیت محمد الیاس خان، رشید احمد خاکسار، فضل الہی،مولانا عبدالماجد،قاری محمد اشفاق،مولانا عادل حسین، علی پراچہ، عدنان دلدار اور دیگر بڑی تعداد میں احباب موجود تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close