خدا کسی کو دشمن بھی "عقل بند” نہ دے

آج کل مولانا طارق جمیل اور مرحوم بلال خان کی وٹسپ کال کی ریکارڈنگ کا بڑا چرچا ہے۔ یہ کلپ وٹس ایپ پر ہی زیر گردش ہے۔ اس پہ تبصرے بھی پہلے صرف وٹس ایپ تک محدود تھے۔ اب مگر یہ معاملہ وٹس ایپ کی تنگنائے سے نکل کر فیس بک پر بھی ٹاک آف دی ٹاؤن بن چکا ہے۔ بہت سے دوست اپنے اپنے ذوق اور زاویہ نظر کے مطابق اس پہ تبصرے کر رہے ہیں۔ کوئی یہ کہہ کر شیئر کر رہا ہے کہ دیکھیں مولانا طارق جمیل کا کتنا بڑا ظرف ہے، جبکہ کسی کی نظر میں یہ مرحوم بلال خان کی حق پرستی کا شاہکار ہے۔

کچھ دوستوں کے توسط سے یہ کلپ ہم نے بھی سنا۔ ہم جانتے ہیں تبلیغی جماعت صرف ان ظاہری اعمال کی محنت کی تحریک ہے جو اسلام کے دائرے میں عموما تمام ہی فرقوں میں کامن ہیں، مثلا ظاہری وضع قطع، نماز روزہ کی پابندی اور پیروی وغیرہ۔ تبلیغی جماعت تقریبآ ایک صدی سے ان اعمال کی طرف مسلمانوں کو لانے کی جد و جہد کر رہی ہے۔ اس محنت کے سلسلے میں کسی فرقے کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی خاص مسلک کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بانئ تحریک مولانا الیاس کاندھلوی تک کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کو توحید و رسالت کی موٹی موٹی باتوں کی یاد دہانی کروائی اور نماز روزہ و دیگر اعمال ظاہرہ کی پیروی کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے تبلیغی جماعت کا ایک لگا بندھا طریق کار موجود ہے۔ یہ مسجد سے مسجد تک جماعتیں بنا کر سفر کرتے ہیں اور محلے میں گشت کرکے لوگوں کو مسجد کی طرف بلاتے ہیں۔ یہ دینی اعمال کی نسبت سے ہر فرقہ و مسلک کے مسلمان تک اپنے گشتوں کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، چنانچہ بسا اوقات ان کے ساتھ ہر فرقے کے لوگ شامل ہو کر "اعمال کی محنت” سے جڑ جاتے ہیں۔

اس لگے بندھے طریق کار کے سوا تبلیغی جماعت میں دین کی دعوت اور تبلیغ کا اور کوئی طریقہ رائج نہیں۔ ان کے نظم میں بیان، تعلیم اور مذاکرہ، دعا و اعلان وغیرہ کا اپنا اپنا مقام اور وقت مقرر ہے۔ عمومی بیانات کے لئے شہروں، اضلاع اور ملکی سطح پر سہ روزہ اجتماعات ہوتے ہیں۔ انہی اجتماعات میں بیانات اور مذاکرے ہوتے ہیں۔ لوگوں سے ملاقاتیں تشکیل اور گشت کے دوران ہی ہوتی ہیں۔ اس سے ہٹ کر کسی یونیورسٹی، کسی مدرسے، کسی ٹی وی یا کسی اور جگہ بیان یا پھر گشتوں اور تشکیل کے علاوہ لوگوں سے دعوت کے سلسلے میں انفرادی ملاقاتوں کا نظم موجود نہیں ہے۔

سنہ 1990 کے عشرے میں مولانا طارق جمیل ایک نئے اسلوب کے ساتھ تبلیغی جماعت کی دعوت لے کر ابھرے۔ ان کے انداز کی ندرت نے بے شمار لوگوں کو اپیل کیا، یوں ان کی فین فالوونگ بڑھتی چلی گئی اور رفتہ رفتہ ان کی مقبولیت تبلیغی جماعت کے دائرے سے بھی اوپر اٹھ گئی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ذات میں تنہا جماعت ہو گئے۔ اس مقام پر پہنچ کر مولانا طارق جمیل نے تبلیغی جماعت کے نظم اور اصولوں سے ہٹ کر الگ سے بیانات اور اصلاحی و دعوتی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا اور مختلف شعبوں کے لا تعداد نمایاں افراد کو شکار کرکے تبلیغی جماعت کی محنت سے جوڑنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم اس اسلوب دعوت کا نقصان یہ ہوا کہ مختلف تنازعات کے کانٹے بھی ان کے دامن دعوت و اصلاح سے الجھنے لگے۔ اگر وہ تبلیغی جماعت کے اصولوں کے دائرے میں ہی رہتے تو یقینا آج وہ جن تنازعات کا شکار ہیں، ان سے محفوظ رہ سکتے تھے۔

بلال مرحوم سے ان کی بات چیت میں نے بھی سنی، بلال مرحوم سے مجھے ان کی زندگی میں بھی کبھی اتفاق نہیں رہا۔ میں انہیں بہت پہلے ہی فرینڈ نہ ہونے کے باوجود بلاک کر چکا تھا۔ اس لئے اس کلپ میں ان کی تیز لہجے کی گفتگو اور موقف سے مجھے اتفاق نہیں ہو سکتا، مگر ساتھ ہی مولانا طارق جمیل کی کمزور وضاحتوں نے بھی بہت مایوس کیا۔ یہ کلپ یقینا ایسے ہی لوگوں نے وائرل کی ہے جو مولانا طارق جمیل کو criticise کرنا اور اپنے تئیں "ایکسپوز” کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے مولانا طارق جمیل کے چکر میں دراصل تبلیغی جماعت کو ہی "ایکسپوز” کر دیا ہے۔ اس کلپ میں مولانا کی وضاحتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا مقصد تو دنیا میں دیوبندی اسکول آف تھاٹ کو پروموٹ کرنا ہے اور دوسرے فرقوں اور مسالک کے لوگوں کو "توبہ تائب” کرکے دیوبندیانا ہے۔ گفتگو کے اس مرحلے پر ایک گونہ "منافقت” آشکار ہوتی ہے اور یہ کسی بھی نیو ٹرل فرد کے لئے مثالی بات نہیں۔ اس موقع پر آکر واضح محسوس ہوتا ہے کہ بلال کی باتوں کے ٹریپ میں آکر مولانا نے بہت کمزور اور اوٹ پٹانگ قسم کی وضاحتیں دی ہیں۔

کلپ وائرل کرنے والے اب خود سوچیں وہ کیا کر رہے ہیں، خدا کسی کو دشمن بھی "عقل بند” نہ دے۔۔۔ 😰

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *