سندھ پولیس میں پھر سازشیں

تحریر:طٰہٰ عبیدی


سندھ پولیس میں پھر سازش کی بو آرہی ہے، سابق آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ (بالمعروف اے ڈی خواجہ) کے دور میں طاقت کا توازن کہیں اور تھا اور صورتحال بھی تبدیل تھی، اللہ ڈنو خواجہ کے دور میں پولیس افسران اور سابق آئی جیز کی تنظیم ایسوسی ایشن آف فارمر انسپکٹر جنرل پولیس نے بھرپور ساتھ دیا ، سندھ میں تعینات کچھ پولیس افسران کے ایک سابق جسٹس سے قریبی تعلقات کا فائدہ بھی اے ڈی خواجہ کو پہنچا.

سندھ حکومت اور آئی جی سندھ کے درمیان اختلافات میں شدت آگئی تو اللہ ڈنو خواجہ 19 دسمبر 2017 کو جبری رخصت پر چلے گئے جس کے بعد سینٹرل پولیس آفس میں ایک افسر آئی جی سندھ بننے کیلئے سازشیں کررہے تھے وہ پولیس افسر اب کسی اور صوبے میں اہم عہدے پر تعینات ہیں لیکن ان افسر کو پریشانی کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب 2 جنوری 2017 کو اے ڈی خواجہ نے دوبارہ چارج سنبھال لیا۔

سندھ پولیس میں افسران کی سازشیں کوئی نئی نہیں ہیں بلکہ عہدوں کی لالچ اور سیاستدانوں کی خوشامد ان افسران کا وطیرہ رہی ہے، ایسے ہی کچھ پولیس افسران نے سابق آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کیلئے بھی سازش کی، سندھ پولیس کے ایک سینئر افسر جن کا نام اکثر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کے کنستروں میں گونجتا ہے انہوں نے سینٹرل پولیس آفس میں ہم خیال افسران کا گروپ بنایا اور دو کشتیوں میں سوار ہوگئے، ایک طرف ڈاکٹر کلیم امام کو سندھ حکومت کی برائیاں کرتے تو دوسری طرف سندھ حکومت کے تین وزراء کو کلیم امام کی مخبریاں کرتے.

دو افسران روزانہ کی بنیاد سینٹرل پولیس آفس میں نئی سازش کی منصوبہ بندی کرتے، ایک افسر آئی جی سندھ کے اُمیدوار تھے اور دوسرے ایڈیشنل آئی جی کراچی کی کُرسی پر براجمان ہونا چاہتے تھے.

ذرائع بتاتے ہیں افسران کے اس ٹولے نے سندھ حکومت کے وزراء کو اہم فائلیں سپرد کیں جن کو بنیاد بنا کر کلیم امام کے خلاف اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کی ہے.

کلیم امام پڑھے لکھے، سمجھدار اور سُلجھے ہوئے پولیس افسر ہیں اگر کرپٹ مافیا میں شامل ہوتے تو اُن کے بھی سندھ میں پیٹرول پمپس ہوتے، اگر پمپس نہ بھی ہوتے تو کئی ایکڑ قبضے کی زمین کے مالک ہوتے.

مجھے یاد پڑتا ہے کلیم امام نے سینٹرل پولیس آفس میں اعلیٰ پولیس افسران کے سامنے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا تھا، خود کو احتساب کیلئے پیش کرنا بھی کسی کسی افسر کا حوصلہ ہوتا ہے.

خیر بات ہورہی تھی سندھ پولیس میں سازش کی، اس سازشی ٹولے نے کلیم امام اور سندھ حکومت کے درمیان تلخیاں پیدا کرکے کلیم امام کی خدمات وفاق کے حوالے کرادیں، اس میں سب سے پہلے ایک سازشی افسر کو پوسٹنگ بھی مل گئی لیکن اس سازش کے ماسٹر مائنڈ اب بھی پریشان ہیں، ایک ایڈیشنل آئی جی کراچی بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور دوسرے آئی جی سندھ بننا چاہتے ہیں جس کیلئے وہ اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں اور سندھ حکومت کی اہم شخصیات سے بھی بغل گیر ہوچکے ہیں۔ یہ افسران منی لانڈرنگ کی فائل لے کر گھوم رہے ہیں اور اس کیس کے گواہان کو ہراساں کرنے کی کہانیاں سنا رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف فیصلہ آجائے اور سندھ پولیس میں پھر تبدیلی ہوجائے لیکن اب کی بار صورتحال ذرا مختلف ہے کیوں کہ سازش اب کی بار ایک نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *