این ایف سی ایوارڈ کو آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھ دیا گیا، رضا ربانی

قومی اثاثے پاکستان اسٹیل ملز کے بارے میں ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے، سابق چیئرمین سینیٹ

سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلزپارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل سنیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کو آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھ دیا گیا ہے.

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی اثاثے پاکستان اسٹیل ملز کے بارے میں ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور اس اہم ادارے کے بارے میں ہونے والے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے ارکان سینٹ و قومی اسمبلی پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے.

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات آر ہی ہیں کہ حکومت نے اسٹیل ملزم سے 9350 ملازمین کو فارغ کرنے کے لیے سمری تیار کی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے قبل اسٹیل ملز کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ ادارے کی نجکاری نہیں ہوگی اور کسی کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جائے گا،د وسری جانب اسد عمر نے کہا تھا کہ اگر اسٹیل ملز کی نجکاری یا ادارے سے لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ ہوا تو وہ اسد عمر مزدوروں کے ساتھ ہوں گے تو ہم ان دونوں کو یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں.

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملزم کے موجودہ بورڈ آف ڈائریکٹر کو تحلیل کر کے نیا بورڈ بنایا جائے ، جس میں میٹرلوجی ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین شامل ہوں ، لوگوں کو ملازمتوں سے نکلانے سے باز رہا جائے ، موجودہ بورڈ کے چئیرمین غیر ملکی شہری عامر ممتاز کو عہدے سے ھٹا کر کسی اہل شخص کو ادارے کا سی ای او مقرر کیا جائے.

انہوں نے کہا کہ سابقہ بورڈ کے چئیرمین انجنئیر عبدالجبار کو اس لئے عہدے سے ھٹایا گیا کہ انہوں نے حبکو سے ہونے والے معاہدے کی مخالفت کی تھی.

میاں رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان اسٹیل کے بارے میں جو خفیہ معاہدہ ہے اس پر پارلیمنٹ سمیت اس ملک کے عوام کے شدید تحفظات ہیں، اس معاہدے کے بارے میں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے بھی سوال اٹھایا جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس میں پیپرا رول کی خلاف ورزی کی گئی ہے.

رہنما پی پی پی کا کہنا تھا کہ ایک جانب تو ادارے کے مالی مشکلات کا رونا رویا جاتا ہے تو دوسری طرف سیکیورٹی کے شعبے کو ختم کر کے سیکیورٹی کی نجی کمپنی کو 72 لاکھ روپے ماہانہ پر سونپ دی گئی ہے.

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ادارے کے بارے میں اقتصادی رابطہ کمیٹی پر فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کو دوبارہ نجکاری فہرست میں شامل کرنے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹر یا لیبر یونین کو اعتماد میں لیا گیا ہے وفاقی کابینہ ایسے حساس معاملے پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے.

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سٹیل مل کو نجکاری کی فہرست میں بھی رکھا گیا ہے، پہلے ایک بیان آیا تھا کہ سٹیل مل نجکاری فہرست میں نہیں ہے۔ اگر واقعی سٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ ہوا ہے تو بتائیں کہ فیصلہ کس فورم پر ہوا ہے، مشرف دور میں بھی سٹیل مل فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی.

علاوہ ازیں میاں رضا ربانی نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کے لئے جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں تمام ائیر فورس سے وابستہ لوگ ہیں، جبکہ پی آئی اے سربراہ کا تعلق بھی پاکستان ائیرفورس سے ہے.

انہوں‌نے کہا کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا یہ بیان کہ حادثے کی تحقیقات میں پالپا کے نمائندے شامل نہیں ہوں گے شکوک شبہات پیدا کرتا ہے.

ایک سوال پر میاں رضا ربانی نے کہا کہ اسٹیل ملزم میں حکومتی من مانیوں کے خلاف وقت آنے پر عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹھائیں گے.

اس موقع پر صدر پیپلزپارٹی لیبر بیورو حبیب الدین جنیدی ،نائب صدر لیبر بیورو و چئیرمین پیپلزورکرز یونین پاکستان اسٹیل شمشاد قریشی ودیگر بھی موجود تھے.

پریس کانفرنس کے دوران شمشاد قریشی نے کہا کہ ادارے کے بارے میں کوئی مزدور دشمن فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا ،اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔

Show More

اختر شیخ

اختر شیخ (بیورو چیف کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close