سندھ: 15 جامعات میں تعینات ڈائیریکٹرز فنانس کا انتخاب چیلنج

سیکریٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز ڈاکٹر ریاض الدین بشمول سرچ کمیٹی کے چیرمین قدیر راجپوت کی جانب سے سندھ کے تمام بورڈز میں سیکریٹریز اور کنٹرولرز کی تعیناتی میں بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے خلاف ہائی کورٹ کراچی کے آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلے کے بعد ہیومن رائیٹس کے سربراہ میر محمد نے ہائی کورٹ حیدرآباد میں D.527.2020 کے تحت سندھ کی 15 یونیورسٹیز میں تعینات ہونے والے ڈائیریکٹرز فنانس کے انتخاب کو بھی چیلنج کر دیا ہے.

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار نے واضح ثبوتوں و شواہد کے ساتھ کہا ہے کہ 28 جولائی 2019 کو آئی بی اے کراچی کے تحت مذکورہ آسامیوں کے لیے منعقدہ امتحانات میں پچاس فیصد نمبر حاصل کرنے والوں کو کامیاب قرار دیا جائے گا، جبکہ مذکورہ 15 جامعات میں تعینات ہونے والے ڈائیریکٹرز فنانس بی پی ایس 20 میں سے صرف تین افراد ،عادل رشید ، فہد سلطان، اور طارق علی ایسے ہیں جو 50 فیصد نمبر حاصل کر کے کامیاب پائے تھے باقی بارہ افراد تحریری امتحان میں فیل ہوگئے تھے

مزید پڑھیے: سندھ کی نجی جامعات میں آن لائن کورسز میں طلبہ کومسائل کا سامنا

اس میں مزید کہا گیا کہ سیکریٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹی ریاض الدین نے انہیں بھی انٹرویو کے لیے طلب کر کے اختیارات کو ناجائز استعمال کرتے ہوئے پاس کر دیا اور انھیں مذکورہ عہدوں پر تعینات کردیا گیا.

درخواست گزار کے مطابق 15 ایسے امید وار کو انٹرویو میں فیل کر کے مسترد کر دیا گیا جو تحریری امتحان میں پچاس فیصد یا اس سے زائد نمبر لے کر پاس ہوچکے تھے، ان میں اظہر احمد، محمدعلی، کریم بخش، یاسیر احمد کھتری، فیاض سرور، یعقوب نیر، محمد فرخ، نوید ایاز، فضل حق، سید نور احمد، زاہد حسین، عبدالرشید، جاتی کمبر، کاشف رضا، شجاعت علی شامل ہیں.

درخواست میں کہا گیا کہ تحریری امتحان میں پاس شدہ امیدواروں کی جگہ فیل ہونے والوں کو انٹرویو میں طلب کرنا ہی سب سے بڑی بے قاعدگی ہے، جو اختیارات کا ناجائز استعمال اور میرٹ کا کھلا قتل ہے.

مزید پڑھیے: جامعہ اردو : عدلیہ کے نام پر فیک نمبر سے سینیٹر کو قائمقام VC کے حق میں مہم کا حکم

درخواست گزار نے عدلیہ سے التماس کی ہے کہ ان انتخابات کی انکوائری نیب کے ذریعے کروائی جائے، جس پر عدلیہ نے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹی، سیکریٹری سرچ کمیٹی، چیرمین نیب بذریعہ ڈائیریکٹر نیب کراچی، کے علاوہ 21 دیگر افراد کو نوٹسیز جاری کر تے ہوئے 10 جون 2020 کی صبح ساڑھے 8 بجے کورٹ میں طلب کرلیا ہے، اور مذکورہ عہدوں پر نو منتخب ڈائیریکٹرز فنانس کو کام کرنے سے روک دیا ہے.

باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دیگر فلاحی ، تنظیموں کی جانب سے بھی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد، اور پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم کو بھی ان بے قاعدگیوں کے انکشاف پر مبنی درخواستیں ارسال کی گئی ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *