آصف زرداری کس مرض کا شکار ہیں؟ اندر کی خبر سامنے آگئی

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 64 سال کی عمر میں بستر مرگ پر پہنچ گئے مگر ابھی ان کی طبیعت بہتر ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری وقار مہدی نے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آصف علی زرداری کی طبیعت تو سب ہی جانتے ہیں کہ خراب ہے، اور یہ بات ڈکلیئر بھی کی ہوئی ہے کہ انہیں ہارٹ، شوگر اور کمر کے درد کی تکلیف ہے اس وجہ سے وہ بستر پر ہیں۔ٔ

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنا چیک اپ کرانے کے لیے ضیاالدین اسپتال جاتے رہتے ہیں زیادہ ضرورت ہو تو ڈاکٹرز انہیں گھر پر آکر بھی چیک کرلیتے ہیں.

وقار مہدی کا کہنا تھا کہ باقی ساری اطلاعات جھوٹی ہیں، یہ افواہیں ہیں، جو تحریک انصاف کی جانب سے پھیلائی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیے: منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

ادھر آصف علی زرداری کے علاج و معالجے پر مخصوص ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف کا کہنا ہے کہ آصف زرداری فالج جیسے مرض کا شکار ہوچکے ہیں، وہ بغیر سہارے اب بیڈ سے اٹھ نہیں سکتے جبکہ بات کرنے اور سننے میں بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں۔

آصف علی زرداری تک رسائی رکھنے والے ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انہیں‌ فالج کے جھٹکے بھی آتے ہیں.

سیاسی امور دیکھنے والے پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی طبیعت تشویشناک ہونے کی وجہ سے شریک چیئرمین کے امور ان کی بہن فریال تالپور دیکھ رہی ہیں، جنہوں نے اپنے بھائی کی طبیعت کے حوالے سے کسی بھی لیڈر کو کوئی تفصیلی بات کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیے: آصف علی زرداری حیات ہیں ، صحتیاب ہو رہے ہیں : پیپلز پارٹی کی وضاحت

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی تشویشناک حالت کو چھپانے کی وجہ پارٹی میں ممکنہ بے چینی کو روکنا ہے جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو سیاسی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی طبیعت بہتر ہونے تک پارٹی کی "مجموعی صحت” بھی ہنوز اطمینان بخش نہ رہنے کے خدشات ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *