پاکستان: طیاروں کو پیش آنے والے حادثات پر ایک نظر

پاکستان میں اب تک 17 طیارہ حادثہ ریکارڈ ہوچکے ہیں‌ جن میں ملک کی معروف شخصیات بشمول صدرِ پاکستان جنرل ضیا الحق شہید ہوچکے ہیں.

پاکستان میں طیارہ حادثہ نیا نہیں، مملکت خداداد میں اس کی تلخ مثالیں ملتی ہیں جس سے شاید حکمران عبرت لینے کو تیار نہیں اور ہر گزرتے سالوں میں ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے.

پاکستان میں اب تک 17 طیارہ حادثہ ریکارڈ ہوچکے ہیں‌ جن میں ملک کی معروف شخصیات بشمول صدرِ پاکستان جنرل ضیا الحق شہید ہوچکے ہیں.

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ طیارہ حادثوں میں‌ 1965 سے لے کر 2002 تک 37 سال کے عرصے میں صرف 7 حادثات ہوئے لیکن 2003 سے لے کر اب تک 18 سالوں میں‌ ان حادثات کی تعداد 10 رہی ہے. حادثات کی تفصیلات یہاں بتائی جارہی ہیں.

20 مئی 1965

پی آئی اے کے جہاز بوئنگ 707 اپنی افتتاحی پرواز پر مصر کے قاہرہ ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا اور اس میں سوار 124 مسافر جاں بحق ہوئے۔

6 اگست 1970

پی آئی اے کا فوکر طیارہ ایف 27 راولپنڈی میں گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار تمام 26 مسافر جاں بحق ہوگئے۔

26 نومبر 1979

پی آئی اے کا بوئنگ 707 طیارہ سعودی عرب سے حاجیوں کو واپس لاتے ہوئے جدہ ائیرپورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو ا اور اس میں سوار 156 افراد جاں بحق ہو گئے۔

23 اکتوبر 1986

پی آئی اے کا فوکر جہاز ایف 27 پشاور میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا اوراس حادثے میں طیارے میں سوار 54 افراد میں سے 13 جاں بحق ہوئے۔

17 اگست 1988

امریکی ساختہ فوجی جہاز سی 130 بہاولپور شہر کے قریب گر کر تباہ ہوا جس میں سوار فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق سمیت 30 فوجی جنرل اور امریکی سفیر جاں بحق ہوئے۔

25 اگست 1989

پی آئی اے کا فوکر طیارہ 54 مسافروں کو لے کر گلگت سے اڑان بھرنے کے بعد گر کر تباہ ہوگیا۔ اس طیارے کا ملبہ آج تک نہیں مل سکا۔

28 ستمبر 1992

پی آئی اے کا ائیربس اے 300 نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو ائیرپورٹ پر خراب موسم کے دوران لینڈنگ کرتے ہوئے گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار 167 افراد جاں بحق ہو گئے۔

19 فروری 2003

پاکستان ائیرفورس کا فوکر ایف 27 کوہاٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں اس وقت پاکستان ائیرفورس کے سربراہ ائیرچیف مارشل مصحف علی اپنی اہلیہ اور 15 دیگر افراد سمیت جاں بحق ہوگئے۔

24 فروری 2003

سیسنا 402 بی چارٹرڈ طیارہ جس میں افغانستان کے ایک وزیر محمد محمدی، چار دیگر افغان حکام، ایک چینی ماہر اور دو پاکستانی کریو ممبر سوار تھے، بحیرہ عرب میں حادثے کا شکار ہوا۔

10 جولائی 2006

پی آئی اے کا فوکر طیارہ ایف 27 ملتان سے لاہور جاتے ہوئے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوا میں تباہ ہو گیا ۔ اس حادثے میں 41 مسافر اور عملے کے 4 ارکان جاں بحق ہوئے۔

28 جولائی 2010

پاکستان کی نجی کمپنی ائیربلیو کا کراچی سے اسلام آباد جانے والا طیارہ لینڈنگ کے دوران مارگلہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار 152 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

5 نومبر 2010

اطالوی تیل کی کمپنی دو انجنوں والا طیارہ کراچی سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار 21 افراد ہلاک ہوگئے۔

28 نومبر 2010

جارجیا کی ائیرلائن سن وے کا روسی ساختہ طیارہ کارگو آئی ایل 76کراچی سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر ا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

20 اپریل 2012

بھوجا ائیرلائن کا ائیربس 737 طیارہ کراچی سے اڑان بھرنے کے بعد اسلام آباد کے قریب گر کر تباہ ہوا ۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار 121 مسافر اور عملے کے 6 ارکان ہلاک ہوگئے۔

8 مئی 2015

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر گلگت کے قریب حادثے کا شکار ہوا ۔ اس حادثے میں 8 افراد ہلاک ہوئے جن میں ناروے، فلپائن اور انڈونیشیا کے سفراء جب کہ ملائیشین اور اندونیشن سفیروں کی بیویاں شامل تھیں۔

7 دسمبر 2016

پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا ۔ اس حادثے میں جنید جمشید سمیت 48 افراد جاں بحق ہوئے۔

22 مئی 2020

پی آئی اے کا مسافر طیارہ ائیربس اے 320 لاہور سے کراچی آتے ہوئے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے چند سیکنڈ پہلے گر کر تباہ ہوا-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close