شیخ الاسلام کو سلام

مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کی دُور اندیشی کی وجہ سے اللہ کے گھر ویران ہونے سے بچ گئے

” بریکنگ نیوز” کے حوالے سے بعض سنجیدہ طبقوں اورافراد کا ردعمل اور تاثرات بھی سامنے آئے ۔ ان میں واقفانِ حال کی زبانی ایک عقدہ ہ بھی کھلا کہ شیخ الاسلام جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کسی صورت بھی مساجد کی بندش کے حق میں نہیں تھے ۔وہ میدان میں آئے ہی اسی غرض سے تھے کہ مساجد بند نہ ہوں ۔ انھوں نے ہرمیٹنگ میں دو ٹوک الفاظ میں اپنا یہ موقف رکھا بھی تھا۔ لیکن جب انھوں نے اپنی دُور اندیشی سے حکومتی تیور دیکھے کہ متعدد مسلم ممالک کی طرح ہمارے حکمران بھی مساجد کو مکمل بند کرنا چاہتے ہیں اور ڈاکٹروں کی بھی یہی رائے ہے تو انہوں نے موقف میں اسی طرح کی لچک پیدا کی ۔

جس طرح کی لچک انھوں نے بینکنگ وغیرہ مسائل پر اختیار فرمائی تھی اور بیچ کی راہ نکال لی تھی کہ لوگوں کا بینکوں کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ، خاص طور پر کاروباری طبقے کا ، لہٰذا بینک کو ایسے خطوط پر استوار کیا جائے کہ لوگ مکمل نہیں تو 70 فی صد تو سود سے بچ سکیں ۔ اسی طرح جب انھوں نے محسوس کیا کہ حکومت مساجد کو مکمل مقفل کرنے کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے تو انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ٹھیک ہے ہم مساجد میں مکمل احتیاطی تدابیر کا لحاظ رکھیں گے مگر مساجد کو بند نہیں کریں گے ۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے مشاورت کے نتیجے میں ایس او پیز بنائیں ۔ یوں مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کی دُور اندیشی کی وجہ سے اللہ کے گھر ویران ہونے سے بچ گئے۔ ان کا اس معاملے میں میدان میں آنا اور خود کو پیش کرنا، حالانکہ یہ ان کی سطح کا مسئلہ تھا بھی نہیں ، ان کے اخلاص وللٰہیت کی دلیل ہے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو : عدلیہ کے نام پر فیک نمبر سے سینیٹر کو قائمقام VC کے حق میں مہم کا حکم

حالانکہ وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے تھے کہ جذباتی لوگ اُلٹا انہی کو مطعون کریں گے۔ انھوں نے مساجد کی آبادی کی خاطر اس پیرانہ سالی میں اس بات کی بھی پروا نہیں کی ، حالانکہ 12 رکنی کمیٹی میں شامل بعض مہتممینِ مدارس محض طعن وتشنیع کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور اس قدر گوشہ خمول میں چلے گئے کہ ان کے نام بھی کوئی نہیں جانتا ۔ محترم ڈاکٹر مولانا محمد عادل خان ، مولانا حماداللہ مدنی اور کئی حضرات جو اس کمیٹی کاحصہ تھے ۔ شاید اس بات کو خود بھی بھول گئے ہوں گے ۔

یہ واضح سی بات ہے کہ ان حضرات کی حیثیت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کے آگے طفلِ مکتب کی بھی نہیں ۔ الغرض! یہ بڑے دل گردے کی بات ہے کہ عالم اسلام کے مشہور ترین لوگوں کی صف اول میں نمایاں مقام کے باوجود انھوں نے کسی بات کی پروانہ کی ، حالانکہ بعض دینی سیاست کے زیرک کھلاڑیوں نے محض اس وجہ سے اپنے لب سی لئیے کہ کہیں اپوزیشن بالخصوص پیپلز پارٹی کی ناراضی نہ مول لینی پڑ جائے اور اس بات کی مطلق پروا نہ کی کہ ان کے کاندھوں پر پوری قوم کا بوجھ ہے ۔ وہ جس مسلک کا خود کو ترجمان کہتے ہیں اس مسلک کے لوگ ان کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔ وہ جن علما کا خود کو ترجمان باورکراتے نہیں تھکتے ان علما کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ ان کو ہٹھکڑیاں لگائی جا رہی ہیں، ان کی تذلیل کی جا رہی ہے، ان کے خلاف مقدمے دائر کیے جا رہے ہیں۔ محض اپنے اتحادیوں کی خوش نودی کے حصول کے لیئے وہ فوٹو اور ویڈیو سیشن سے آگے نہ بڑھے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو : عدلیہ کے نام پر فیک نمبر سے سینیٹر کو قائمقام VC کے حق میں مہم کا حکم

جب کہ ان کی ترجمانی کے لیئے بھی بوڑھا شیخ الاسلام پریس کلب پہنچا۔ ان سے با اصرار کہا گیا : حضرت! آپ ان بکھیڑوں میں نہ الجھیں مگر انھوں نے کہا : ہر عالم کا مسئلہ میرا مسئلہ ہے ۔ دوسری طرف قائد جمعیت دامت برکاتہم العالیہ کو وفاق کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی توان کا جواب تھا : ہماری نمائندگی کے لیے مفتی تقی عثمانی کافی ہیں۔ گویا یہ قومی نوعیت کا مسئلہ نہ ہوا کوئی فرض کفایہ ہوا ۔

یار لوگ کہتے ہیں مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا اورنگ زیب فاروقی کا بھی ذکر کرو ۔ بھائی! انُھیں جب کسی میٹنگ میں بلایا ہی نہیں گیا ۔ ان کا اس پورے منظرنامے میں کوئی کلیدی رول رکھا ہی نہیں گیا تو ان کا کیوں ذکر کروں ۔ میں بیلنسنگ پالیسی کا قائل نہیں، کہ کسی کو بلا وجہ رگیدوں۔ آپ کو اس میں تعصب نظر آتا ہے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے ۔

مذید پڑھیں : جیو نیوز نے قادیانیت نوازی میں حد پار کر دی

آمدم بر سر مطلب! اس “بریکنگ نیوز” میں افسانوی انداز میں سہی اگر شیخ الاسلام جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کے حوالے سے خلافِ حقیقت و خلافِ ادب کوئی جملہ سرزد ہوا ہے تو یہ زمینی حقائق سے مکمل آگہی نہ ہونے کا نتیجہ ہے ۔ اس پر راقم دل سے نادم ہے اور تمام اسلامیانِ پاکستان بالخصوص حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم اور ان کے متعلقین و منتسبین سے دست بستہ معافی کا خواست گار ہےمجھے خوشی ہو گی اگر یہ کلمات حضرت تک کوئی ہم درد پہنچا دے ۔

Show More

مولانا جہان یعقوب

مولانا جہان یعقوب کالم نگار و بلاگر ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف اور جرائد کے مدیر ہیں۔ خطیب بھی ہیں اور آج کل جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کراچی سے وابستہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close