ایمان کی حفاظت کے ثمرات

دین اسلام درخت کی مانند ہے۔ جس طرح ایک درخت کی جڑیں، تنا اور متعدد شاخیں ہوتی ہیں۔ بالکل ویسے ہی اسلام کی بنیاد بھی ہے،

تحریر : مفتی محمد یوسف کشمیری

دین اسلام درخت کی مانند ہے۔ جس طرح ایک درخت کی جڑیں، تنا اور متعدد شاخیں ہوتی ہیں۔ بالکل ویسے ہی اسلام کی بنیاد بھی ہے، تنا بھی اور شاخیں بھی۔ اس کی مثالیں قرآن و حدیث اور تفاسیر میں موجود ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی اکرمﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ مجھے ایسے درخت کے متعلق بتاﺅ جس کی مثال مومن کی طرح ہو اور مومن کی مثال اس درخت کی طرح ہو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام نے بہت سوچا اور میرے ذہن میں بھی آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں اکابر صحابہ کرام کی موجودگی میں خاموش رہا۔ پھر رسول اللہﷺ نے خود بتایا کہ وہ درخت کھجور کا درخت ہے۔ مومن کی مثال اس درخت کی سی ہے۔ بہت ساری باتیں مومن میں اور اس درخت میں مشترک ہیں۔ کھجور کا درخت اور اس کی جڑیں بہت مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ سیدھا اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اس پر موسمی اثرات اثرانداز نہیں ہوتے۔ سردی ہو یا گرمی یہ ہرا بھرا رہتا ہے۔

عموماً آپ نے دیکھا ہو گا کہ عام درخت جو زمین سے اگتے ہیں، ان کے ساتھ اور بھی درخت اس کی جڑوں کے ساتھ اگ جاتے ہیں۔ کچھ درخت اگتے ہی زمین کے ارد گرد کے درختوں کو اپنے اندر دبا لیتے ہیں۔ لیکن کھجور کا درخت سیدھا اوپر کی طرف جاتا ہے اور اپنے تنے پر کھڑا رہتا ہے۔ بالکل مومن بھی اسی طرح مضبوط اور پختہ ایمان کا حامل ہوتا ہے۔ مومن پر حوادث زمانہ، موسمی تغیرات، دنیا کے حالات، زمانے کے مدوجزر، غمی و خوشی، تنگی اور آسانی اثرانداز نہیں ہوتے۔ وہ ہر لمحے اپنے رب کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ اس کی نیت اور ارادہ صرف رب کی رضا ہوتی ہے۔ اس کا مطمح نظر دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ جس طرح کھجور کا درخت دوسروں کو مغلوب نہیں کرتا، اسی طرح مومن بھی اپنے اردگرد رہنے والے انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ فائدہ ہی پہنچاتا ہے۔

مزید پڑھیے: اسلام کی پہلی جنگ ”غزوہ بدر“

کیا آپ نے دنیا میں کوئی ایسا درخت دیکھا ہے جس کی جڑیں تو ہوں لیکن اس کا تنا اور شاخیں نہ ہوں۔ یا ایسا درخت جس کا تنا اور شاخیں تو مضبوط ہوں مگر جڑیں نہ ہوں۔ جی ہاں! ایسا درخت بھی ہے۔ گندے نظریات و افکار، گندی سوچیں، گندی باتیں اس کی مثالیں ہیں۔ جسے قرآن نے شجرة خبیثا یعنی خبیث درخت کہا ہے۔ (سورة ابراہیم) اس درخت کی مضبوط بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کی جڑیں، تنا، شاخیں نہیں ہوتیں، بس ایک بیل سی ہوتی ہے۔ کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد ”اندرائن“ ہے، جسے پنجابی میں ”تُمہ“ کہا جاتا ہے۔ لیکن حافظ عبدالسلام بن محمد اور دیگر مفسرین نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ اگرچہ تمہ کڑوا ہوتا ہے مگر اس کے فوائد ہیں۔

حکماء اس کو کئی دوائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اس سے مراد ہر وہ درخت ہے جس کی کوئی جڑیں نہیں، اس کا تنا اور شاخیں بھی نہیں مگر اس کا وجود ہے۔ گندے افکار، گندی سوچ، گندے نظریات، شرک ، بدعات و خرافات کی کوئی جائے استقرار نہیں۔ غلط نظریے و عقیدے بھی ایک دھوکہ ہے، سراب ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کل قیامت کے دن اس طرح کے لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے بڑی نیکیاں کیں، بڑے اعمال کیے ہیں۔ اللہ فرمائیں گے میں نے پہلے ہی دنیا میں اپنے تمام نبیوں کی زبانی اور اپنی کتابوں میں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ ایمان کے بغیر تمہارے عمل، چاہے وہ ظاہری ہیں یا باطنی، بکھرے ہوئے تنکوں کی طرح خس و خاشاک کر دیے۔ (سورة الفرقان:23) وہ اعمال دنیا کے اندر ہی ختم ہو گئے۔ اب اس کا کوئی وجود نہیں۔ ایسے لوگ کے لیے ترازو بھی نہیں رکھا جائے گا۔ (سورة الکہف: 105)

اس کے برعکس مومن کے عقیدے کی مثال مضبوط اور تناور درخت کی سی ہے۔ مومن کے اعمال اس طرح پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ سیدھے آسمان کی طرف جاتے ہیں۔ مومن کے اعمال ثمر والے ہوتے ہیں، پوری دنیا اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ فرمان رسولﷺ ہے کہ ایمان کے بے شمار شعبہ جات ہیں۔ سب سے بڑی شاخ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور سب سے چھوٹی شاخ راستے سے پتھر ہٹانا ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم) آپ اندازہ لگائیں راستے سے پتھر ہٹانا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ الحیا والایمان یعنی حیا بھی ایمان میں سے ہے۔ ایمان والا بندہ حیا کا پیکر نظر آتا ہے۔ نبی پاکﷺ کی حدیث ہے کہ پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ (مسلم، مسند احمد، ترمذی) سوچ کی طہارت، فکر کی طہارت نصف ایمان ہے۔ اس نصف ایمان کو وہی لوگ اختیار کریں گے جو مسلمان ہیں، مومن ہیں، جو پانچ وقت نماز پڑھیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا کہ کسی شخص کے گھر کے سامنے سے نہر گزرتی ہو اور وہ اس سے پانچ وقت اپنے آپ کو دھوئے کیا اس پر کوئی میل کچیل رہے گی؟ صحابہ کرام نے فرمایا نہیں یا رسول اللہﷺ۔ نبی مکرمﷺ نے فرمایا یہ ایک مومن کی نشانی ہے۔ (بخاری و مسلم)

مزید پڑھیے: اسلام میں خدمتِ خلق کا تصور اور اس کی اہمیت

ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ سادگی ایمان کا حصہ ہے۔ رہن سہن میں، طرز بود و باش میں، گفتگو میں سادگی، یہ ایمان کا ایک حصہ ہے۔ کسی سے وعدہ نبھانا، ایفائے عہد کرنا، یہ بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جو امانت میں خیانت کرتا ہے اس میں ایمان نہیں ہے۔ (مسند احمد، ابن حبان) ایک حدیث میں ہے کہ ایک صحابی آئے اس نے خوش خبری سنائی کہ میں نے شادی کر لی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے خوشی کا اظہار فرمایا کہ تم نے آدھا ایمان مکمل کر لیا، باقی اعمال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ (ابن حبان، سلسلہ الصحیحہ)

یاد رکھیں جس طرح نیک اعمال سیدھا آسمان کی طرف جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن کی روح بھی سیدھی اوپر جاتی ہے۔ فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ بتایا جاتا ہے کہ یہ فلاں نیک بخت کی ہے۔ جس پر آسمان کے فرشتے دروازہ کھولتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے، تیسرے آسمان… یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر اعلیٰ علیین کے پاس لے جاتے ہیں۔ دوسری جانب منافق، فاسق، فاجر کی روح گندے ٹاٹ میں لپیٹ کر اوپر لے جائے جاتی ہے۔ فرشتے پوچھتے ہیں ایسی بدبودار روح کس کی ہے؟ لے جانے والے فرشتے کہتے ہیں فلاں بدبخت نجس کی ہے۔ حکم آتا ہے کہ اسے نیچے دے مارو۔(ابو داﺅد، مسند احمد، صحیح ابن خزیمہ) اللہ ہمیں اعمال بد سے بچائے اور بد روح کے حامل لوگوں میں شامل کرنے کی بجائے پاکیزہ اعمال اور پاکیزہ روح والا انسان بنائے۔ جس کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کی بشارت سنائی گئی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close