خواب (افسانہ)

خود سے مایوس لڑکی کی داستان کہ جسے اچانک خوشی ملی اور وہ بیان کرنے سے قاصر رہی

افسانہ : نعمان خالد

نادیہ 6 بھائیوں کے لاڈلی اکلوتی بہن تھی۔ اسکول سے کالج تک کے سفر نے نادیہ کی زندگی میں بہت سے رنگ بھردیے عمر اور جوانی کی اٹھان ایسی تھی کہ سبھی رشتے دار نادیہ کی ماں شاہدہ سے، نادیہ کو اپنے آنگن کی رونق بنانے کے لئے اپنی خواہش کبھی خود اور کبھی کسی دوسرے کے توسط سے پہنچانے لگے لیکن نادیہ کو صرف تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا وہ اپنی دنیا میں مگن بس اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے کوشاں تھی مگر وقت کا ایک شدید پتھر اس کی پرسکون زندگی میں تلاطم لے آیا، دن سے نادیہ کے چہرے پہ چیچک کے اثرات رونما ہورہے تھے۔

بابا اور بھائیوں نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا ٹیسٹ کروائے گئے ڈاکٹرز پیسے بٹورتے لگے اور گھر میں دواؤں، مختلف صابن اور کریموں کےانبار لگ گئے۔ پلاسٹک سرجری کے لئے بھی بھائیوں نے ڈاکٹروں سے بات کی لیکن آپریشن میں 80 فیصد آنکھیں متاثر ہونے کی چانسسز تھے اس لئے بھائیوں نے دل کڑا کے اس فیصلے کو مؤخر کر دیا اس تکلیف دہ صورت حال میں سات سال کا عرصہ گزر گیا اس عرصے میں کسی رشتہ دار نے نادیہ کے لئے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا بلکہ نادیہ کو ایک اچھوت کی طرح سمجھا۔

7 سال نادیہ اپنے ہی جہنم میں جلتی رہی۔ حُسن کیا ہے؟ یہ صرف ایک صنف نازک سمجھتی ہے۔ نادیہ کے لئے شاہدہ ٹرے میں چائے لائی تو نادیہ رورہی تھی۔ شاہدہ ماں تھی اور سات سال سے نادیہ کی اُجڑے رنگ روپ کو دیکھ رہی تھی لوگوں کے دلخراش روئے اور آنکھوں کے تضحیک آمیز ترحم کو سمجھ رہی تھی لیکن وہ نادیہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی یہی سوچتی کہ جو منظورِ خُدا … جس میں اللہ خوش۔ خلیل جبران لکھتے ہیں ”آگ کے پیچھے تیز ہوا آگے مقدر آپ کا ہے۔ چائے بیڈ پے رکھ کر شاہدہ دل گرفتہ کمرے سے نکل گئی” نادیہ نے قلم اور کاغذ اٹھایا کچھ لکھنا چاہتی لیکن کیا لکھتی! نادیہ نے لکھنا شروع کیا۔

مزید پڑھیے: بلیم گیم! (حصہ دوئم)

اسی وقت گھر کے دروازے پر دستک کی آواز نادیہ کو سنائی دی اس سوچ و بچار میں کہ کون آیا ہوگا۔ شاہدہ جلدی سے کمرے میں آئی اور نادیہ سے کہا اچھی سی چائے بناؤ کچھ مہمان آئے ہیں لیکن پتا نہیں یہ مہمان کون ہیں میں تو خود نہیں جانتی انہیں ۔آؤ تم مہمانوں سے مل لو شاید تمہاری کسی کالج کی سہیلیوں میں سے تو کوئی نہیں۔ شاہدہ عجیب مخمصے میں کمرے سے نکل گئی۔

پتا نہیں کیسا احساس تھا جو نادیہ کے دل میں خوشی بن کر اتر رہا تھا۔ نادیہ نے آئینے کے سامنے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور اپنے چیچک زدہ چہرے پہ ہاتھ پھیر تے ہوئے خود کلامی کی لوگ سیرت کو چھوڑ کے کیوں صورت کو ترجیح دیتے؟ جب نادیہ مہمانوں سے ملنے آئ تو سفید لباس میں ایک باریش داڑھی والے بزرگ ساتھ میں ایک پُر نور معمر عورت براجمان تھی اور ساتھ میں ایک لڑکا بھی باوقار انداز میں نظریں جھکائے صوفے پر بیٹھا تھا۔ عورت اور بزرگ نادیہ کو دیکھتے ہی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے عورت نے نادیہ کی چیچک زدہ چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا اور دونوں گال پے بوسہ دے کر گلے سے لگایا اب باریش بزرگ نے بھی نادیہ کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور دعا دی۔

نادیہ نے لڑکے کو سلام کیا جوہنوز سر جھکائے بیٹھا تھا۔ نادیہ کو ایک عجیب احساس نے گھیر لیا پتا نہیں کتنی مدت بعد نادیہ کو اتنا پیار اور عزت ملی تھی اور یہ لڑکا کون ہے؟ نادیہ کے ذہن میں عائشہ کا خیال آیا جو نادیہ کو اپنی بھابھی بنانا چاہتی تھی اور کہتی تھی میرے بھائی کو تعلیم مکمل کرکے پاکستان آنے دو حالات جیسے بھی ہوئے میں تمہیں اپنی بھابھی ضرور بناؤں گی، کچھ سوچ کر نادیہ مسکرانے لگی۔

مزید پڑھیے: بلیم گیم ! (حصہ اول)

نادیہ نے سر جھٹک کر ان خیالات سے جان چھڑائی چائے اور لوازمات کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی تو نادیہ اور اس لڑکے نے پہلی بار ایک دونوں کی طرف دیکھا! نادیہ نے پیالیوں میں چائے انڈیل کر مہمانوں کو سرو کی اور باہر نکل کر دیوار کی اُوٹ میں کھڑی ہوگئ ۔اندر سے اس معمر عورت کی آواز آرہی تھی “شاہدہ! دیکھیں میری بہن میرے بیٹے ہاشم اور عائشہ کو نادیہ بہت پسند آئی ہے بس آپ منع مت کریں اور بسم اللہ کر کے اس رشتے کو ہاں کہہ دیں، شاہدہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی”بات تو بہت اچھی ہے بہن مگر نادیہ کی چہرہ ۔۔۔”

بزرگ آدمی نے شاہدہ کی بات درمیان میں اچک لی” بہن! یہ بات پھر کبھی نہ کہنا اب نادیہ میری بہو ہے”۔ باہر نادیہ کو اپنی قوت سماعت پہ بھروسہ نہیں آرہا تھا نادیہ کے لئے کیا وقت تھا نادیہ کو ایسا لگتا کہ وقت ایک جگہ تھم گیا ہے۔ جیسے سالوں بعد بہار آئی ہو۔ نادیہ سوچتی کہ ایسا بھی کوئی ہے جو مجھے قبول کر سکے۔۔۔ اسے اپنی اور عائشہ کی دوستی پر فخر ہوا۔

نادیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا اور کاغذ پر سے رد لفظ کو حرف غلط کی طرف مٹا دیا۔ نادیہ ایک ایسا خواب کاغذ پے لکھ رہی تھی جو اب اس کی بے رنگ اور بے کار زندگی میں خوشیوں کے لازوال لمحے لانے والا تھا.جو ہاشم کے سچے وجود سے اس کی زندگی سے مایوسی کے اندھیرے ختم کر کے, بس روشنیاں بھر دینا چاہتا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close