کورونا ویکسین بنانے والی امریکی ٹیم کا سربراہ مسلمان سائنسدان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کیلئے ’’آپریشن ریپ اسپیڈ‘‘ کو تیز ترین پروگرام کے طور پر انجام دینے کا اعلان کیا ہے

بلاگ : علی ہلال

کورونا ویکسین بنانے والی امریکی ٹیم کے سربراہ نامور مسلم سائنسدان ڈاکٹر السلاوی امیگریشن آف بریلنٹ مائنڈ کی المناک مثال بن گئے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لئے ’’آپریشن ریپ اسپیڈ‘‘ کے نام سے ایک تیز ترین پروگرام تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے ۔ آپریشن ریپ اسپیڈ جس کے معنی میزائل کی تیزی کے ہیں ۔ اس آپریشن کا مقصد جلد ازجلد امریکی حکومت کی سرپرستی میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری ہے ۔ لیکن اس سے اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے آپریشن ریپ اسپیڈ پروگرام کا چیف سائنٹسٹ جسے مقرر کر دیا ہے وہ ایک مسلمان سائنسدان ہیں ۔

منصف السلاوی کا تعلق شمالی افریقہ کے عرب اسلامی ملک مراکش سے ہے ۔ وہ دنیا کے مشہور ترین امیونولوجسٹ ہیں ۔ وہ امریکہ میں رہتے ہوئے اب تک مختلف خطرناک امراض کے 14 ویکسین تیار کر چکے ہیں ۔ انہیں ملیریا کے لئے ستائیس برس کی تحقیق کے بعد دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ اس کامیاب تجربے کی بنیاد پر امریکہ نے انہیں نصف درجن سے زائد قومی سطح پر عالمی معیار کے اداروں کی ممبر شپ دے رکھی ہے ۔ جہاں سے انہیں سالانہ 30 لاکھ ڈالرز سے زائد سیلری مل رہی ہے ۔ وہ کئی ایسے بڑے پروجیکٹ سر کر چکے ہیں ، جن کے عوض انہیں پچاس ملین تک کی رقم ملتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر منصف امریکی فارما سیوٹیکل ریسرچ کارپوریشن مینوفیکچرز کے بورڈ آف ڈائریکٹر (پی ایچ آر ایم اے) امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ایڈوائزری کمیٹی اوربائیو ٹیکنالوجی انڈسٹری آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر ہیں ۔

مذید پڑھیں : ماڈلنگ اور فیشن میری کامیابی کا اہم ذریعہ ہے : سومیا

اسی طرح ڈاکٹر منصف السلاوی عالمی سطح کی بڑی دوا ساز امریکی کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن میں ویکسین کی تیاری کے ڈیپارٹمنٹ کے چیف سائنٹسٹ کے طورپر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر منصف کو غیر معمولی اہمیت اورخفیہ سیکورٹی کی سہولت حاصل ہے ۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے آپریشن ریپ اسپیڈ پروگرام کا سربراہ مقررکرنے کے بعد وہائٹ ہائوس میں پریس کانفرنس میں ڈاکٹر منصف السلاوی نے بتایا کہ وہ 2020 کے اختتام سے قبل ہی کورونا وائرس کے خاتمے کی ویکسین تیار کرنے کے لئے پرامید ہیں ۔ یہ کوئی معمولی اعلان نہیں ۔ امریکہ کے اقتصادی ماہرین اسے ایک بڑی پیش رفت اور کامیابی کی نوید قراردے چکے ہیں کیونکہ کورونا ویکسین اس وقت دنیا کی سپرپاور کے لئے ایک چیلنج اور درد سر کی حیثیت اختیارکر گیا ہے ۔

ویکسین کی تیاری سے قبل امریکہ دنیا بھرمیں اپنے اقتصادی منصوبوں کو کلی طورپر کھولنے کا اقدام نہیں کرسکتا جس سے امریکہ کو دفاعی اور اقتصادی نقصان ہورہا ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس پروگرام کے نام سے لگایا جا سکتا ہے ۔ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا پہلا ایٹم بم بنانے کے لئے شروع کئے جانے والی مہم کا نام بھی ’’آپریشن ریپ اسپیڈ ‘‘ رکھا تھا ۔ آج امریکہ نے وہی نام کورونا ویکسین کی تیاری کی مہم کو دے کر اس کی اہمیت اجاگر کر دی ہے ۔

مذید پڑھیں : اطالوی خاتون نے اغوا کاروں کے حسنِ سلوک سے اسلام قبول کر لیا

دنیا کے لئے مسیحا کے طورپر ابھرنے والے ڈاکٹر منصف السلاوی کی خوش قسمتی ہے یا اسلامی دنیا کی بدقسمتی ،حکام کی بد انتظامی ،غفلت اور مسلم اقوام کی بد قسمتی ہے یہ مایہ ناز ڈاکٹر 1958 میں مراکش کے شہر اغادیرمیں پیدا ہوا ۔ انہوں نے کالج تک کی تعلیم داربیضا کے محمد الخامس سے حاصل کی اورفرانس چلے گئے ، لیکن یونیورسٹی داخلے بند ہونے سے انہیں فرانس میں داخلہ نہ ملا اوروہ بیلجئم گئے ، جہاں بروکسل یونیورسٹی میں انہیں ایڈمیشن مل گیا ۔ جہاں سے انہوں نے مولیکولر بیالوجی (سالمیاتی حیاتیات) میں ڈکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی ۔

تعلیم حاصل کر کے وہ واپس اپنے ملک مراکش آ گئے اورالرباط کے میڈیکل کالج میں اپلائی کی جہاں انہیں فری لانس لیکچر دینے کا کہہ کر ملازمت نہیں دی گئی ۔ وہ راضی ہو گئے لیکن چند دن بعد بغیر کسی وجہ بتائے انہیں پہلے لیکچر کی منسوخی کا نوٹس دیا گیا ۔ وہ دار بیضا چلے گئے اور وہاں بھی ان کے ساتھ یہی تلخ رویہ اپنایا گیا ۔ اس دوران کسی نے انہیں بتایا کہ خفیہ پولیس ان کا تعاقب کر رہی ہیں اور وہ کسی بھی وقت کسی پر اسرار سرگرمی میں حراست میں لئے جا سکتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : نصف صدی دین کی خدمت کرنے والے مفتی سعید احمد پالنپوری انتقال کر گئے

گزشتہ دنوں منصف السلاوی کی امریکہ میں اعزاز کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مراکش سے تعلق رکھنے والے ویرولوجیکل سائنسدان ڈاکٹر کمال المسعودی نے لکھا کہ ڈاکٹر منصف السلاوی مراکش کی ناقدری کا ڈسا ہوا ہے ۔ وہ مراکشی روئے سے مایوس ہو کر علم کا خزانہ لیکر واپس یورپ چلے گئے اور وہاں امریکی اداروں کی آفر پر امریکہ چلے گئے ۔ وہ آج امریکہ کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ امریکہ کو ڈاکٹر منصف پر فخر ہے۔ ڈاکٹر منصف کو قاتل بیماری ملیریا کی پہلی ویکسین کی تیاری کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ جسے 2015 میں یورپی میڈیسن ایجنسی نے رجسٹرڈ کیا ۔

15 مئی کو انہیں امریکی صدر کی جانب سے مہم کی قیادت سونپنے کے بعد جب مراکش کے بہت سے باشندوں نے اس خبر پر خوشی منائی وہاں بہت سے باشندوں نے کہا کہ ڈاکٹر منصف پر فخر کرنے کا مراکش کو کوئی حق نہیں ۔ مراکش انہیں ٹھکرا چکا تھا ۔ انہیں بے گھر کر کے ہجرت پر مجبور کیا تھا ۔ جب کہ امریکہ نے انہیں گود لیا ۔ ان کے علم کی قدر کی لہذا انہیں اپنے مراکشی ہونے کے بجائے امریکی ہونے پر فخر کرنا چاہئے ۔ تین روز قبل عربی میں میری پوسٹ پر ایک مراکشی دوست نے بھی یہی لکھا کہ نمک حلالی کا تقاضا یہی ہے کہ ڈاکٹر منصف امریکی ہونے پر فخر کرے ۔

مذید پڑھیں : پسما ، APIS اور APPSFS نے 15 جون سے اسکول کھولنے کا اعلان کر دیا

اس عمل کو عربی میں ہجرۃ الادمغة النابغة کہا جاتا ہے ( امیگریشن آف بریلینٹ مائنڈز) یعنی شاندار دماغوں کی ہجرت ۔۔ یہ نہ صرف عرب بلکہ تمام اسلامی دنیا کا المیہ ہے کہ شاندار دماغ اور صلاحیتوں کے حامل افراد سہولیات کے فقدان اور سب سے بڑھ کر ناقدری اورعدم تحفظ کے باعث مغربی دنیا کا رخ کرتے ہیں جس کی ہم غیرمعمولی قیمت چکا نے پر مجبورہیں ۔۔جس میں مہنگی تعلیم ،،مہنگا علاج اور جان لیوا اقتصادی مشکلات اس کے نمایاں اثرات ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close