پسما ، APIS اور APPSFS نے 15 جون سے اسکول کھولنے کا اعلان کر دیا

نجی اسکولوں کو 3 سال کیلئے ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز اور میٹرک بورڈ کی ضمانت ہر بلا سود قرضے دیئے جائیں

کراچی : ‌اگر حکومت سندھ نے فوری طور پر اسکولز کھولنے کی اجازت نہ دی تو ہم از خود 15 جون سے اسکولز کھولنے کا اعلان کرتے ہیں ، کیونکہ اب ہم مجبور ہو چکے ہیں اور ہمارے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔

پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن پسما سندھ ، آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن سندھ اورایسو سی ایشنز آف پرائیویٹ انسٹی ٹیو شنز سندھ کی جانب سے ایک ہی وقت میںسندھ کے تمام شہروں جن میں کراچی ، حیدرآباد، ٹنڈو آلہ یار، بدین، تغل،جام شورو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، سکھر، گھوٹکی، جیکب آباد اور خیر پور اور گھمبٹ میں پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جب کہ کراچی پریس کلب پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن پسما سندھ کے چیئرمین اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن سندھ کے صدر شرف الزماں نے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے 15 جون سے سندھ بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ۔

اس موقع پرپریس کانفرنس میں وائس چیئرمین غلام ربانی، سید اسرار علی سیکریٹری جنرل، علی حسن گبول ڈپٹی جنرل سیکریٹری، ممبر سپریم کونسل محمد ذکی، سلمان الطاف، محمد حارث حیدر آباد ڈسٹرکٹ کے عارف شاہ ،مرزا محمود بیگ اورعبدالمجید راجپوت بھی موجود تھے ۔

مذید پڑھیں : اطالوی خاتون نے اغوا کاروں کے حسنِ سلوک سے اسلام قبول کر لیا

شرف الزماں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان سفید پوش لوگوں کی رمضان اور عید کی خوشیاں خاک میں مل جا ئیںگئی ۔ اب ان کی بقاء کا مسئلہ ہے 12 مئی کو قائمہ کمیٹی برائے تعلیم (سندھ) کے ایک اجلاس میں 60% فیصد نجی اسکولوں کی بھر پور نمائندگی کرتے ہوئے پسما نے وزیر تعلیم سعید غنی سے کہا تھا کہ نجی تعلیمی ادارے حکومت بھیک یا امداد نہیں مانگ رہے ہیں ۔ وہ صرف بینکوں سے بلا سودی قرضے فراہم کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی مدت 3 سال تک ہو ۔

انہوں نے کہا کہ جس کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے صاف انکار کر دیا کہ سندھ حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی جبکہ حکومت کے بجائے نجی تعلیمی ادارے تعلیم کا 70% فی صد بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا ر ہے ہیں اور تعلیمی میدان میں سرکاری اسکولوں سے کہیں بہتر رزلٹ دے رہے ہیں ، جس کی مثال یہ ہے کہ 1996 کے بعد سے آج تک کسی بھی سرکاری اسکولز کے طلباء نے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کی ۔

مذید پڑھیں : نعت کی کرامت

شرف الزماں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری اسکولز کے ہرطالب علم پر تقریبا 4 ہزار روپے ماہانہ خرچ آتا ہے ، اس لئے ہم حکومت سندھ کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں کہ وہ سرکاری اساتذہ کو گھر بیٹھے تنخواہیں ادا کر رہی ہے اور نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز جو کہ صرف پرائیویٹ اسکولز کے لئے وجود میں لایا گیا تھا ۔اس کا کردار بھی اس گھمبیر صورت حال میں مشکوک نظرآتا ہے ۔

شرف الزماں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کو چاہئے تھا کہ وہ صوبائی حکومت کو ان نجی اسکولز کے مسائل سے آگاہ کرتا اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرتا مگر افسوس کہ وہ اپنا کردار ادا کرنے میں مسلسل نا کام رہا ہے ۔ خدارا ان 60% فیصد نجی تعلیمی اداروں کے تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کی بھی داد رسی کی جائے ، جس طرح حکومت دوسرے اداروں کے لئے ریلیف پیکجز دے رہی ہے، اسی طرح نجی اسکولز کے اسٹاف کے لئے بھی ریلیف پیکج دیا جائے تاکہ سندھ بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی عید کی خوشیاں منا سکیں ۔

مذید پڑھیں : نصف صدی دین کی خدمت کرنے والے مفتی سعید احمد پالنپوری انتقال کر گئے

انہوں نے کہا کہ سندھ کے نجی اسکولوں کو 3 سال کے لئے بلا سودی قرضے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کے رجسٹریشن سرٹیفیکٹ اور ثانوی تعلیمی بورڈ کے الحاق سرٹیفکیٹ کی ضمانت پر فراہم کئے جائیں ۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کو بینک سے قرضے فراہم نہیں کئے گئے تو نجی تعلیمی ادارے اپنے اساتذہ کو تنخواہ ادا نہیں کر سکیں گے اور اس طرح بیشتر اسکولز کے مالکان اسکول کی بلڈنگ کا کرایہ بھی ادا نہ کرنے کی وجہ سے ابھی سے بند ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔

شرف الزماں نے کہاکہ وفاق و صوبائی حکومتوں نے ہمیں یکسر نظر انداز کر دیا ہے اگر حکومت ہمیں قرضے فراہم نہیں کر سکتی تو ہم پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسو سی ایشن، ایسو سی ایشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن مشترکہ طور پر سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے حکومت کی جانب سے تمام احتیاطی تدابیرکواختیار کرتے ہوئے دو شفٹوں میں کھول دیں گے بچوں کی مجموعی تعداد کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پہلی شفٹ صبح 7:30 تا 10 بجے اور دوسری شفٹ 11 بجے سے 1:30 تک ہو گی تاکہ طلباء کے درمیان سماجی دوری کو یقینی بنایا جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ اگرحکومت نے کسی قسم کی کوئی انتقامی کاروائی کرنے کی کوشش کی یا ریگولرٹی اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی اسکول کو حراساں کرنے کی کوشش کی تو ہم عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے میں حق بجانب ہوں گے ۔

Show More

اختر شیخ

اختر شیخ (بیورو چیف کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close