آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی نے تعلیم بچائو تحریک کا اعلان کر دیا

یکم تا 4 جون تمام اضلاع میں اجلاس ، 7 یا 11 جون پریس کانفرنسز اور 20 جون کو کراچی میں اجتماعی مظاہرہ ہو گا

کراچی : آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کی مرکزی کابینہ اور ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس بروز پیر چیرمین حیدر علی کی صدارت میں مرکزی آفس واقع ڈی ایچ اے میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں بورڈز امتحانات کی منسوخی، تعلیمی اداروں کی بلا جواز طویل بندش، بچوں کی تعلیمی ضیاع اور اسکولوں کے معاشی قتل کے خلاف متحرک، قابل عمل اور موثر تحریک چلانے کی حکمت عملی پر تفصیلی گفت و شنید کی گئی ۔

جنرل سیکریٹری دوست محمد دانش نے اجلاس میں 16 مئی کو کور کمیٹی اور سندھ بھر کے ڈویژنل ہیڈز کے ساتھ ہونے والی مشاورتی میٹنگ کی کاروائی پیش کی ۔ گذشتہ اجلاس میں سکھر کے ڈویژنل ھیڈ جناب شکیل سومرو نے رائے دی کہ ہمیں وبا کی صورت حال کا قریبی جائزہ لیتے رہنا چاہیے ۔ لاڑکانہ کے ڈویژنل ہیڈ اختیار مرکھیانی نے اپنے متعلق سوشل میڈیا کی خبروں کی سخت تردید کی اور بورڈز امتحانات کے انعقاد پرزور دیا ۔

حیدرآباد کے ڈویژنل ہیڈ مسعود شاہ نے اسکول کمیونٹی کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کے لیے کوششوں پر زور دیا، بے نظیر آباد ڈویژن کے ہیڈ مرزا اشفاق بیگ نے رائے دی کہ ایسوسی ایشن، کو تعلقہ لیول پر عوامی رابطے کو مزید مربوط کرنے چاہئیں ۔ حیدرآباد سے عزیر شیخ نے اسکولوں کی مالی پریشانی اور اس کے تدارک کے لیے اپنی تجاویز پیش کی، ٹنڈواللہیار کے مقبول سینھڑو نے یونس قائم خانی کی طرف سے اپنے بھرپور حمایت کا یقین دلایا ۔ ٹنڈو آدم کے محمد ظاہر شاہ نے طلبہ و طالبات کی تعلیمی ضیاع پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ لاڑکانہ کے علی گوہر نے کرایہ پر چلنے والے اسکولوں کی پریشانی کا ذکر کیا اور جب کہ میرپور خاص سے عبدالحمید شیخ اور ارشاد احمد نے ٹیلی فون کے ذریعے اجلاس میں شرکت کر کے اپنی تجاویز پیش کی اور فیصلوں پر من و عن عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مذید پڑھیں : بلوچستان میں ایماندار خاتون افسر کو منشیات فروش پکڑنا مہنگا پڑ گیا

پیر کے اجلاس میں طے پایا کہ تعلیم بچاو تحریک لاک ڈاون کی مجموعی صورتحال ، کورونا وائرس کے پھیلاو یا عدم پھیلاؤ ، دیگر کاروبار زندگی کی روانی اور حکومت کے غیر منطقی احکامات کی روشنی میں ترتیب اوراس میں وسعت دی جائے گی ۔

بورڈز امتحانات

ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ باقاعدہ امتحانات نہ لینے کی وجہ سے ایک طرف تو میرٹ کا قتل ہو گا، طالب علم تعلیمی ماحول سے عدم توجہی کا شکار اور مارکنگ پالیسی سے بے انتہا مشکلات کا اضافہ ہو گا ۔ لہذا طلبہ و طالبات کے وسیع تر مفاد میں ایسوسی ایشن اس مسئلے کو فوری طور پر عدالت لے جائے گی اور بطور پٹیشنر عدالت عالیہ سے رہنمائی طلب کرے گی ۔

تعلیم بچاو تحریک کا پہلا مرحلہ

● رابطہ مہم : سندھ بھر کے تمام چھ ریجن کے ڈویژنل ہیڈز اپنے ضلعی صدور کے ہمراہ ٹاؤن اور تعلقہ سطح پر اسکول و مدارس کے منتظمین، اساتذہ کرام اور والدین سے رابطہ کرکے بھرپور مہم کی تیاری کرینگے ۔
● یکم جون سے 4 جون تک تمام اضلاع میں اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ اور ڈویژنل ہیڈز تمام رابطوں کی سرپرستی اور نگرانی کریں گے ۔ جس کے مطابق کراچی کے علاوہ دیگر تمام ڈویژن اور اضلاع اپنی تاریخوں کا خود تعین کریں گے ۔ جب کہ کراچی میں یکم جون ڈسٹرکٹ کورنگی صبح 10 بجے، 2 جون ڈسٹرکٹ سینٹرل صبح 10 بجے، 3 جون ڈسٹرکٹ سائوتھ صبح دس بجے اور ڈسٹرکٹ ویسٹ سہ پہر تین بجے، 4 جون ڈسٹرکٹ ملیر اور ایسٹ مشترکہ صبح دس بجے اپنے اجلاس منعقد کریں گے ۔

مذید پڑھیں : اسلام میں خدمتِ خلق کا تصور اور اس کی اہمیت

● 6 جون بروز ہفتہ کراچی میں آل سندھ کنونشن کا انعقاد ہو گا۔

دوسرا مرحلے میں پریس کانفرنس

7 جون حیدرآباد میں مسعود شاہ، عزیر شیخ اور دیگر، 8 جون کو میرپورخاص میں حمید شیخ، ارشاد احمد اور دیگر، 9 جون کو بے نظیر آباد
میں مرزا اشفاق بیگ، ظاہر شاہ اور دیگر، 10 جون کو لاڑکانہ میں اختیار مرکھیانی، علی گوھر اور دیگر ، 11 جون کو سکھر میں شکیل سومرو ، نثار احمد سومرو اور دیگر تمام ریجنل ہیڈ کواٹرز میں اپنے مطالبات کے حق میں پریس کانفرنس کا انعقاد کریں گے اور بیانہ تحریر مرکز فراہم کرے گی ۔ جب کہ ہر ڈویژنل ہیڈ کی ذمےداری ہو گی کہ وہ تمام پریس کانفرنس اور مظاہروں کی فوری ترسیل جنرل سیکریٹری اور سیکریٹری اطلاعات سید اعجاز علی کو براہ راست کریں گے ۔

تیسرا مرحلے میں مظاہرے اور اہم اعلان

اور اگر پھر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو 15 سے 18 جون تک مظاہرے ہونگے ۔ 15 جون سکھر میں شکیل سومرو کی قیادت میں ، 16 جون لاڑکانہ میں اختیار مرکھیانی کی قیادت میں ، 17 جون کو بے نظیر آباد میں مرزا اشفاق بیگ کی قیادت میں ، 18 جون کو میرپور خاص میں حمید شیخ کی قیادت میں ، 19 جون کو حیدرآباد میں مسعود شاہ کی قیادت میں اور 20 جون کو اجتماعی مظاہرہ چیرمین حیدر علی کی قیادت میں کراچی میں ہو گا ۔ اور اگر پھر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو قانونی چارہ جوئی اور مزید راست اقدامات کریں گے ۔ آخر میں اجلاس کے شرکاء نے اس پورے احتجاجی عمل کو تعلیم بچاؤ تحریک کا نام دیا اور اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا ۔

Show More

اختر شیخ

اختر شیخ (بیورو چیف کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close