بلوچستان میں ایماندار خاتون افسر کو منشیات فروش پکڑنا مہنگا پڑ گیا

عائشہ زہری کو چیف سیکرٹری بلوچستان نے منیشات فروش پکڑنے پر شوکاز جاری کر دیا ہے

تحریر : مزمل فیروزی

بلوچستان کی شرح خواندگی میں خواتین کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے ۔ جب تعلیم یافتہ خواتین کیساتھ اس طرح کی ذیادتیاں کی جائینگی تو کیا کوئی اپنی بچیوں کو اعلی تعلیم دلوانے پر آمادہ ہو گا ؟

بلوچستان کی بہادر بیٹی اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری جنہوں نے چھ ماہ قبل دالبندین کی سرحدی پٹی سے منشیات فروش کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی تھیں ۔ جس پر دالبندین کے ڈپٹی کمشنر نے حکم دیا تھا کہ فوری طور پر ان کو بمعہ منشیات کے رہا کر دو۔

مذید پڑھیں : حکومت سندھ کے 2 محکموں میں صرف سندھی افسران کی ترقیاں

مگر عائشہ زہری نے خلاف قانون کام کرنے سے صاف انکار کیا اور وہ ڈٹ گئی تھیں کہ مجرمان کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائیگا ۔ انہوں نے میڈیا والوں کو بلا کر ان کے سامنے منشیات اور اسمگلروں کو پیش کر دیا تھا ۔ ان کی دیانت دار اور فرض شناسی کا صلہ شوکاز نوٹس کی شکل میں دیا گیا ہے ۔

بلوچستان دالبدین کی اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری پریس کانفرنس کررہی ہیں

کل 6 ماہ بعد بلوچستان کے نئے چیف سیکرٹری کیپٹن ریٹارئرڈ فضیل اصغر نے عائشہ زہری کو شو کاز نوٹس جاری کیا ہے کہ منشیات فروشوں کو ڈپٹی کمشنر کو مطلع کئے بغیر کیوں گرفتار کیا ؟ ۔ تسلی بخش جواب دیں ورنہ نوکری سے بھی برخاست کیا جا سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں : مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے مساجد کھولنے اور اجتماعات منعقد کرنے کا اعلان کر دیا

ادھر سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے بلوچستان کے چیف سیکرٹری اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے اقدام پر سخت تنقید کی جارہی ہے ۔ اس حوالے سے ماہر قانون سید رضا شاہ چیلانی کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کسی بھی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کا مجاز ہے ۔ اسکے سامنے اگر غیر قانونی اسلحہ، زخیرہ اندوزی سمیت منشیات فروشی یا منشیات وغیرہ کی ترسیل ہو رہی ہو تو وہ تھانے کی پولیس کو بلا کر اسے روکنے کا مجاز ہے ۔یہی خاتون افسر نے کیا ہے ۔ جس کے بعد افسر اپنی مدعیت میں کیس فائل کر سکتا ہے ۔اسسٹنت کمشنر کی جگہ کوئی پرائیویٹ بندہ بھی پولیس کو اطلاع دیکر یہ سب روک کر اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروا سکتا ہے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close