ہری پور DHQ اسپتال میں ڈائلسز کے مریض مرنے پر مجبور کیوں ؟

پرانے ایم ایس نے فنڈز کے اجرا کی تیاری کی ہی تھی کہ تبدیل کر دیئے نئے ایم ایس کی توجہ مریضوں کی جانب نہیں ہے

ہری پور : ذرائع کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال ہری پور میں روانہ تین شفٹوں میں 21 مریضوں کے ڈائلسز کیئے جاتے ہیں مگر انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مریضوں کی اکثریت ان ڈائلسز پر آنے والے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتی ہے اورعلاج بس سے باہر ہونے پر تین مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔

متاثرہ مریضوں کے لواحقین نے بتایا کہ ہفتے میں دو ڈائلسز لازمی ہوتے ہیں اور فی ڈائلسز قریبا ساڑہے چار ہزار روپے خرچ آتا ہے جو ماہانہ سفری و دیگر اخراجات ملا کر چالیس پچاس ہزار ماہانہ بن جاتا ہے ۔ جو ڈائلسز کروانے والے مریضوں کی اکثریت برداشت نہیں کر سکتی ۔ جب کہ کافی عرصہ سے اسپتال یا وبائی حکومت کی طرف سے بھی ڈائلسز مریضوں کو ضروری سامان و سہولت فراہم نہیں کی جا رہی جس سے مریض جان بہ لب ہیں اور محکمانہ و حکومتی سطح پر یہ ہی افسوس ناک صورت حال جاری رہی توعلاج کی سکت نہ رکھنے والے مزید مریض بھی موت کے منہ میں جا سکتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے مساجد کھولنے اور اجتماعات منعقد کرنے کا اعلان کر دیا

اس ضمن میں متاثرہ مریضوں نے بتایا کہ مقامی نوجوان صحافی بلاول اقبال کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ جنہوں نے ایم ایس، ڈپٹی کمشنر ، ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہیلتھ تک یہ مسئلہ پہنچایا اور عریب مریضوں کے لیئے فنڈز فراھمی کی بھر پور کوشش کی ، جسے سابق ایم ایس مشتاق تنولی نے عملی جامہ پہنانے کی عملی کوشش کی مگر دوسرے ہی روز انہیں تبدیل کر دیا گیا ۔ ادہر معروف صحافی ملک بلاول اقبال جو اس ساری صورت حال کو بڑی قریب سے دیکھ رہے ہیں اور مریضوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے عرصے سے فعال اور قابل تقلید کردار ادا کر رہے ہیں نے رابطے پر بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال ہری پور میں ڈائلسز ریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ان کی کوئی مدد نہیں کی جا رہی ۔ اور ڈائلسز اخراجات کی سکت نہ رکھنے والے مریض موت کے منہ میں جانا شروع ہو گئے ہیں ۔

گزشتہ تین روز کے دوران تین مریض علاج کی مفت سہولت وضروری سامان نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ھار چکے ھیں اور مزید اموات کا قوی خدشہ ہے ۔ مگر اسپتال انتظامیہ اور صوبائی حکومت مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ڈائلسز کی مفت سہولت نہ ملنے پر بے بس و بے کس مریض نہیں مر رہے ییں بلکہ حقیقت میں یہ صحت کا انصاف دم توڑ رہا ہے مگر پھر بھی ہیلتھ ایمرجنسی کے بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہے ۔

مذید پڑھیں : ہری پور TIP چوکی پولیس نے 10 غیر قانونی کرایہ دار دھر لئے

ملک بلاول اقبال نے انکشاف کیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایچ ایم بی فنڈ میں ساڑے چار کروڑ روپے سے زائد رقم موجود ہے مگر وہ ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہیلتھ کے احکامات کے باوجود علاج کی سکت نہ رکھنے والے جاں بلب ڈائلسز مریضوں کی جان بچانے پرخرچ نہیں کی جا رہی ۔ جس سے بڑی بے حسی و انسان دشمنی کی کوئی مثال نہیں ۔ ملک بلاول نے بتایا ڈپٹی کمشنرہری پور ایڈ ایچ ایم بی فنڈ کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ہم نے انہیں معاملہ کی سنگینی بتا کر یہ فنڈز مریضوں پرخرچ کر کے ان کی جان بچانے کی استدعا بھی کی اور اس کمیٹی کی ایک میٹنگ بھی ہوئی ، جس میں کمیٹی ممبران نے یہ فنڈز ڈائلسز مریضوں پرخرچ کرنے کی منظورہ بھی دی مگر اس کے دو روز بعد ایم ایس مشتاق تنولی تبدیل ہوئے اور نئے ایم ایس ڈاکٹر وحید الرحمان قریشی وارد ہوئے تو معاملات پھر کھٹائی کی نذر ہو گئے ۔

ملک بلاول نے بتایا کہ وہ ڈائلسز مریضوں کی مشکلات و پریشانیوں کو بڑے قریب اورگہری نظرسے دیکھ کرعرصے سے مریضوں کو سہولیات کی فراہمی کی جد و جہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں مگر موجودہ ایم ایس ڈاکٹر وحید قریشی ڈائلسز مریضوں کی سنگین مشکلات اور بے بسی کو کلی طور پر نظرانداز کیے ہوئے ہیں ۔ جس سے مریض علاج کی سکت سے محرومی اورہسپتال انتظامیہ کی سرد مہری و بے حسی کے بارے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ اگراب بھی ہسپتال انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر اور محکمہ صحت کے اعلی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر ڈائلسز کے مفلوک الحال مریضوں کی ہسپتال و ایچ ایم بی فنڈزسے فوری مدد نہ کی تو مزید اموات کا قوی خدشہ ہے ۔

جس کا وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان اور صوبائی وزیر صحت کا نوٹس لے کرصحت کے انصاف کو سرکاری ہسپتال میں عملی طور پر زندہ و متحرک کر کے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کی جانیں بچا کر اپنا بھر پور اور کلیدی کردار ضرور ادا کرنا چاہئیے تاکہ وہ اس سنگین صورتحال میں چپ سادھے اور خاموش تماشائی بنے مجرمانہ غفلت کے مرتکب زمہ داران کی فہرست سے نکل کر دونوں جہانوں کی جواب دہی میں سرخرو ہو سکیں ۔ یہاں نہایت قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ڈی ایچ کہ ہسپتال سے جنریٹ شدہ لاکھوں کے فنڈ سے جو تیس سے چالیس فیصد ریڈیالوجسٹ اور پیتھالوجسٹ کو شئیر کے طور پر دیا جاتا ہے اب یہ پوسٹیں کافی عرصہ سے ایم ایس کو دیے جانے کی اطلاعات ہیں ۔

مذید پڑھیں : وزیر توانائی نے کرنٹ لگنے کے حادثات کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

اگر حکومت چاہے تو اسی فنڈ سے ڈائلسز کے مریضوں کو ضروری سہولت فراہم کر کے ان کی زندگیاں بچانے کی اپنی طرف سے ممکن مدد کر سکتی ہے ۔ کیونکہ یہ فنڈ غریب مریضوں سے جنریٹ کیا جاتا ہے اوراسے ڈاکٹرز کو دینے کے بجائے غریب مریضوں کی زندگیاں بچانے پہ ہھی خرچ ہونا چاہئیے ۔ ڈاکٹرز الحمدللہ ، اچھی خاصی تنخواہیں اور نجی کلینکس سے پہلے ہی اللہ کی یاد میں اور خوشحال زندگی گزار ہے ہوتے ییں ۔ انھیں یہ فنڈنہ بھی ملا تو ان کی زندگی کی سانسیں پھر بھی بطریق احسن چلتی رہیں گی ۔ البتہ یہ فنڈ آخری سانسوں پر پہنچے اورعلاج کی سکت نہ رکھنے والے مریضوں کو مل گیا تو ان کی زندگی کی رکتی اور دم توڑتی سانسیں پھر سے بحال اور انھیں نئی زندگی مل سکتی ہے ۔

تو پھر کیا کہتے ہیں؟ کون حقدار ہے اس اسپتال فنڈ کا ؟ ڈاکٹرز، ایم ایس یا زندگی کی آخری سانسوں پر پہنچے ڈائلسز کے یہ جاں بلب مریض ؟ فیصلہ اورانصاف آپ خود کر لیں ، یاد رکھیں،اللہ کی راہ میں دیا رائیگاں، کبھی بھی کچھ بھی نہیں جاتا، دو گنی نعمتوں، صحت وسلامتی اور خیر و برکت کی صورت میں لوٹتا ہے، یہ ہرگز ہرگز گھاٹے کا سودا نہیں ہے، کاش، کاش ہم کسی بھی طرح ان ڈائلسز، مریضوں اور جملہ دکھی انسانیت کے کسی بھی طرح کام آ سکیں اور ان کی دوائوں کے صدقے اللہ کریم ہماری دنیا و آخرت اچھی کر دے اور ہمیں دنیا و آخرت کی مشکلات، پریشانیوں اور آفات وبلیات سے محفوظ و مامون فرما کراپنی خصوصی حفظ و امان میں رکھے ۔ امین ۔

Show More

مشرف ہزاروی

مشرف ہزاروی سینئر صحافی ہیں، سماجی اکائیوں کو خوب لکھتے ہیں۔ تعلیم ان کا خصوصی موضوع ہے، متعدد اخبارات، رسائل و جرائد میں بیورو چیف کی حیثیت سے خدمات دی ہیں۔ یوتھ افیئر، انسانی حقوق، خصوصی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ الرٹ نیوز کے لیے خصوصی رپورٹس و فیچرز لکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close