اجل حسین کی صورت جیو علی کی طرح

بلاگ : فواد رضا

سندھ اور پنجاب میں جلوس پر پابندی ہے، کراچی میں علمائے کرام اور منتخب افراد کو مرکزی جلوس کے لئیے لگ بھگ تین سو پاسز جاری کیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ باقی تمام حضرات عزاداری اپنے گھر میں کریں ۔

یہ جتنے میسج چل رہے ہیں کہ گھروں سے نمائش پیدل جائیں یہ سب فتنہ ہیں ۔ مکتب اہل تشیع کو اُکسانے کی کوشش ہے ۔ وہ افراد جن کا ماننا ہے کہ انہوں نے طالبان کے خود کش دھماکوں میں بھی عزاداری کی ہے ، ان کی باتوں میں مت آئیں ۔ اُس دور میں ملت کو قوت دینے کے لیئے سڑک پر آنا ضروری تھا لیکن آج لاک ڈاؤن کی پاسداری ضروری ہے۔

مذید پڑھیں : محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز کا جعلی اسناد پر بھرتی کا انکشاف

خدارا کسی جذباتی بھیڑ کے بجائے عقل مند اور معاملہ فہم قوم ہونے کا ثبوت دیں ۔ ہماری اور آپ کی نمائندگی کل مرکزی جلوس میں علمائے کرام کریں گے ۔ امام المتقین علیہ السلام نے اپنے شیعوں کو وصیت کی تھی فتنے کے دور میں اونٹ کے بچے کی طرح ہو جانا ، جس پر کوئی سواری نہ کر سکے۔ اس وقت اس ملک کے امن کے دشمن چاہ رہے ہیں کہ وبا کے دنوں میں شیعہ سنی فسادات ہو جائیں جس کی جھلک کچھ دیر قبل لیاقت آباد میں سب نے دیکھ لی ہے کہ کس طرح تحریک لبیک نے امام بارگاہ کے گیٹ پر کھڑے ہو کر مذہبی منافرت پر مبنی نعرے بازی کی ہے ۔

یاد رکھیں! مولا علی نے 25 سال گھر میں گزارے ، صرف اس لیئے کہ انہوں نے اُمت کے اتحاد کو مقدم رکھا، انہیں بھی کئی لوگ آ کر خروج کے لیئے کہا کرتے تھے لیکن انہوں نے فتنے کے زمانے میں اپنے حق کے لئیے باہر نکلنے کے بجائے گھر میں رہنے کو ترجیح دی ، آج مولا علی کے اسی طریقے کو نافذ کر کے دشنن کے منصوبے کو شکست دینے کی ضرورت ہے، آج کا دن آپ نے گھر میں ایسے جینا ہے جیسے مولا نے 25 سال گھر میں گزارے ۔

مذید پڑھیں : تحریک ختم نبوت کے اصل ہیرو ذوالفقار علی بھٹو تھے

آج جو آپ سے گھر سے نکلنے کا کہہ رہے ہیں ، وہ نادان دراصل پروپیگنڈا مہم کا شکار ہیں ۔ یاد رکھیں حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کیا تھا جو کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے ، لیکن ایک مخصوص طبقہ یہ ماحول بنا رہا ہے کہ یہ لاک ڈاون صرف یوم علی کی وجہ سے ختم کیا ہے اور 22 سے پھر ہو جائے گا۔ کل آپ گھر میں بیٹھ کر اس پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیں کہ بطور ملت یہ ہماری آپ کی ذمہ داری ہے۔

اگر آج آپ اس چال میں آ گئے تو کل اس ملک میں ہر شخص یہ کہے گا کہ شیعوں کی وجہ سے وبا پھیلی۔ وبا کی ابتدا میں بھی زائرین کا نام لے کر یہ مذموم کوشش کی جا چکی ہے ۔

نوٹ : کچھ اہل سنت دوست اس پوسٹ میں پر فتنہ دور کے لفظ کو خلافتِ ثلاثہ سے تعبیر کر رہے ہیں ۔۔۔ ان کے لیے تشریح۔۔

آپ اگر مولانا مودودی کی خلافت و ملوکیت پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ کتنا مشکل دور تھا، کون کون سے نامور لوگ حضرت علی کو آ کر خلافت کے مد مقابل جنگ پر راضی کرنے کی کوششیں کی، لیکن حضرت علی نے ایسی ہر سازش کو گھر میں رہ کر نا کام کیا ۔ اور فتنے عروج پر تھے ، مسلیمہ کذاب سے لے کر حضرت عثمان اور حضرت علی کے قتل تک ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ خلیفہ سوئم کو قتل کرنے کے لشکر اسلامی صوبوں سے ہی آئے تھے۔ باقی میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو دکھ ہوا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *