جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا گل حسن زئی پر دن دیہاڑے حملہ

کراچی :‌ جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ مولانا گل رفیق حسن زئی پر قاتلانہ حملہ نقص امن کے خلاف گہری سازش ہے ۔ شہر میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ مولانا گل رفیق حسن زئی پر حملے میں ملوث شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔

مولانا گل رفیق حسن زئی ٹراما سینٹر ایمرجنسی متصل سول ہسپتال میں داخل ہیں ۔ حملہ آوروں کو 2 روز کے اندر گرفتار نہ کیا گیا تو تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہو گی ۔ وہ ٹراما سینٹر سول ہسپتال ایمرجنسی کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام پی ایس 114 کے امیر مولانا گل رفیق حسن زئی پر ہارون آباد سائٹ میں نامعلوم افراد نے اس وقت قاتلانہ حملہ کیا جب وہ جعمرات کو سہ پہر 3 بجے ہارون آباد میں اپنے مدرسہ تعلیم القران بلال مسجد کے قریب محلے میں موٹرسائیکل پر داخل ہو رہے تھے ۔

مذید پڑھیں : علامہ ڈاکٹر خالد محمود ؒ کون تھے ؟

ان کے سر میں دوولیاں لگی ہیں ، وہ خظرے سے باہر ہیں باقاعدہ ہوش میں انے پر حملہ آور وں کے بارے کچھ بتا سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا گل رفیق حسن زئی ایک بے ضررعالم دین ہیں ۔ انتظامیہ فوری طور پر حملہ آوروں کو گرفتار کر کے اصل حقائق سے آگاہ کرے ۔ مذہبی شخصیات پر حملے ملک کا امن سبوتاژ کرنے کی گہری سازش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک بار پھر دہشت گردوں کا راج اور جنگل کا قانون ہے ۔

دہشتگرد حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ قاری محمد عثمان نے کہاکہ علماء کرام سے سیکورٹی واپس لیکر انکو نہتا کرکے حکومت اور ادارے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر علماء کرام سے لی گئی سیکورٹی واپس کی جائے بصورت دیگر حالات و حادثات کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور اداروں پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔

مذید پڑھیں : شیخ الحدیث والتفسیر علامہ ڈاکٹر خالد محمود 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

مولانا گل رفیق حسن زئی کو دن دیہاڑے نشانہ بنا نا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت یا انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں۔اس موقع مولانا عارف گل حسن زئی مولانا سیف الرحمن مولانا شمس الرحمن مولانا ابراہیم اللہ مولانا کمالدین مولانا یاقوت شاہ مولانا ضیاء الدین مولانا فضل حق حسن زئی اور دیگر جماعتی احباب موجود تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *